سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

تنگی اور آسانی، نشاط اور سستی اور دوسروں کو تم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی تم امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا اپنے اوپر لازم کرلو۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «عليك السمع والطاعة في عُسْرِكَ ويُسرك، ومَنْشَطِكَ ومَكْرَهِكَ، وأثَرَة ٍعليك».
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تنگی اور آسانی، نشاط اور سستی اور دوسروں کو تم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی تم امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا اپنے اوپر لازم کرلو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ مسلمان پر ہر حال میں اپنے حاکموں کو سن کر ان کی اطاعت کرنا کرنا لازم ہے، جب تک وہ اسے گناہ کا حکم نہ دیں یا ایسی چیز کا مکلف نہ بنائیں جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو، اگرچہ یہ اس پر کسی وقت گراں گزرے یا اس کے کسی حق کے ضائع ہونے کے سبب بنے، اس لیے کہ عمومی مصلحت خصوصی مصلحت پر مقدم ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي. تطريز رياض الصالحين، لفيصل بن عبد العزيز المبارك النجدي, تحقيق: عبد العزيز آل حمد, دار العاصمة , الطبعة: الأولى، 1423 هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، دار مدار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة : 1426 هـ. كنوز رياض الصالحين، بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
امام کے رعیت پر حقوق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com