حکمرانوں کی اطاعت کرو اگرچہ تم پر نسب اور شکل و صورت کے اعتبار سے ایک ایسا حبشی غلام امیر مقرر دیا جائے جس کا سر کشمش کی طرح ہو، اس پیرائے میں مبالغہ کا معنی ہے کہ چاہے یہ حاکم نسب کے اعتبار سے سیاہ فام غلام ہی کیوں نہ ہو۔ ”اگر حاکم مقرر کر دیا جائے“ اس کا اطلاق حکمران کی طرف سے مقرر کردہ گورنر پر بھی ہوتا ہے اور خود حکمران پر بھی۔ ولو بالفرض اگر کوئی حاکم لوگوں پر غلبہ حاصل کرلے، اور ان پر قبضہ واقتدار جمالے اور وہ عرب میں سے نہ ہو، بلکہ ایک سیاہ فام غلام ہو تو پھر بھی ہم پر فرض ہے کہ ہم اس کی بات کو سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حکمرانوں کی اطاعت کرنا فرض ہے ماسوا ان امور کے جن میں اللہ کی معصیت ہو۔ کیونکہ ان کی اطاعت کرنے میں خیر و بھلائی، اور امن و استقرار ہے اور اس کی وجہ سے انارکی نہیں پھیلتی اور ہوائے نفس کی پیروی نہیں ہوتی۔ لیکن اگر کسی معاملے میں حکمرانوں کی نافرمانی کی جائے جس میں ان کی اطاعت لازم ہے، تو انارکی پھیلے گی اور ہر کوئی اپنی من مرضی پر چلنا شروع کر دے گا، امن و امان ختم ہوجائے گا، معاملات بدعنوانی کا شکار ہوجائیں گے، اور فتنوں کی کثرت ہو جائے گی۔
صحيح البخاري -الجامع الصحيح-، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. تطريز رياض الصالحين لفيصل بن عبد العزيز المبارك النجدي, تحقيق: عبد العزيز آل حمد, دار العاصمة , الطبعة: الأولى، 1423 هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي. شرح رياض الصالحين لابن عثيمين , دار مدار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة : 1426 هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي. كنوز رياض الصالحين بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430هـ.