اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ﷺ کی اطاعت کرنا ایسا ہے، جیسے اللہ کی اطاعت کرنا۔ اور نبی ﷺ اسی کام کا حکم دیتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کے لیے مشروع فرمایا۔ لہٰذا آپ ﷺ کسی چیز کا حکم دیں، تو وہ اللہ کی طرف سے مشروع ہوتا ہے۔ چنانچہ جو آپ ﷺ کی اطاعت کرے گا، وہ اللہ کی اطاعت کرے گا اور جو آپ کی نافرمانی کرے گا، وہ اللہ کی نافرمانی کرنے والا ہوگا۔ اور جب انسان امیر کی اطاعت کرتا ہے، تو گویا اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کی اور جب وہ امیر کی نافرمانی کرتا ہے، تو گویا اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔ کیوںکہ اللہ کے رسول ﷺ نے کئی ساری احادیث میں امیر کی اطاعت کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ الا یہ کہ امیر نافرمانی کا حکم دے۔ ( تو اس معصیت میں امیر کی اطاعت جائز نہیں)۔
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه. تطريز رياض الصالحين لفيصل بن عبد العزيز المبارك النجدي, تحقيق: عبد العزيز آل حمد, دار العاصمة , الطبعة: الأولى، 1423 هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي. شرح رياض الصالحين لابن عثيمين , دار مدار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة : 1426 هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي.