مانگنے میں اصرار نہ کیا کرو، اللہ کی قسم تم میں سے کوئی بھی مجھ سے کوئی چیز مانگے، اور میں تمہارے مانگنے کی وجہ سے کوئی چیز دیدوں حالاں کہ میں اس دینے کو پسند نہ کروں، اس کو میرے عطا کردہ مال میں برکت نصیب نہیں ہوگی۔
عن معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا تُلْحِفُوا في المسأَلة، فوالله لا يَسْألني أحدٌ منكم شيئًا، فَتُخْرِجَ له مسألته منِّي شيئًا وأنا له كارِهٌ، فيُبَارَك له فيما أَعْطَيتُه».
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مانگنے میں اصرار نہ کیا کرو، اللہ کی قسم تم میں سے کوئی بھی مجھ سے کوئی چیز مانگے، اور اُس کا مانگنا مجھ سے کوئی چیز نکال لے اور میں اسے ناپسند کروں، اس کو میرے عطا کردہ مال میں برکت نصیب نہیں ہوگی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے وارد مانگے میں اصرار کرنے کی ممانعت کو بتا رہے ہیں یعنی مانگنے میں مبالغہ اور اصرار نہ کیا کرو۔ اس لیے کہ مانگنے میں اصرار کرنا دی ہوئی چیز سے برکت ختم کر دیتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ جب کوئی شخص اصرار کرکے آپ ﷺ سے کچھ مانگے،اس کے مانگنے کی وجہ سے وہ چیز آپ ﷺ سے نکل جاتی ہے، حالاں کہ آپ ﷺ اسے پسند نہیں کرتے، یعنی اُسے یہ چیز دینے یا اُسے نکالنے کو، تو اس میں برکت نہیں ہوتی، یعنی دریں صورت میری دی ہوئی چیز میں کبھی برکت نہیں ہوتی یعنی اصرار (وتنگ) کرکے مانگنے پر۔
حوالہ
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ
مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: عبيد الله بن محمد المباركفوري، الناشر: إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء، الطبعة: الثالثة - 1404 هـ
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، نسخة الكترونية ، لا يوجد بها بيانات نشر.
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة ، الطبعة الأولى : 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ
رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com