سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ہم اپنے بادشاہوں کے پاس جاتے ہيں تو ان سے ايسی باتيں کرتے ہيں جو ان باتوں کے بر خلاف ہوتی ہيں جو ہم ان کے پاس سے باہر نکل کر کرتے ہیں۔ عبداللہ بن عمر ـ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نبی ﷺ کے زمانے ميں اسے نفاق شمار کرتے تھے۔

عن محمد بن زيد: أن نَاسًا قالوا لجده عبد الله بن عمر رضي الله عنهما : إنا ندخل على سَلاطِينِنَا فنقول لهم بخلاف ما نتكلم إذا خرجنا من عندهم، قال: كنا نَعُدُّ هذا نفاقا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم .
محمد بن زيد بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے ان کے دادا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم اپنے بادشاہوں کے پاس جاتے ہيں تو ان سے ايسی باتيں کرتے ہيں جو ان باتوں کے بر خلاف ہوتی ہيں جو ہم ان کے پاس سے باہر نکل کر کرتے ہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نبی ﷺ کے زمانے ميں اسے نفاق شمار کرتے تھے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ان کے پاس آئےاورکہا :جب ہم لوگ اپنے بادشاہوں کے پاس جاتے ہيں تو ان سے کوئی بات کہتے ہيں اور جب ان کے پاس سے باہر نکلتے ہيں تو اس کے برعکس بات کہتے ہيں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نبی ﷺ کے زمانے ميں اسے نفاق سمجھتے تھے۔ايسا اس ليے کہ ان لوگوں نے گفتگو ميں جھوٹ بولا اور خير خواہی کرنے کے بجائےخيانت کی۔ لہٰذا امراء، وزيروں، سلاطين اور بادشاہوں کے پاس آنے والے شخص پر واجب ہےکہ وہ حقيقت بيانی سے کام لے۔

حوالہ

رياض الصالحين للنووي، تحقيق: ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، ط1، 2007م. صحيح البخاري، بترقيم محمد فؤاد عبد الباقي. نزهة المتقين شرح رياض الصاحين، شرح الدكتور مصطفى الخن وآخرين، مؤسسة الرسالة، ط 1. 1987م. تطريز رياض الصالحين، لفيصل بن عبد العزيز آل مبارك، تحقيق: عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة، ط1، الرياض، 2002م. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، دار الكتاب العربي، بيروت. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، مؤسسة ابن عثيمين الخيرية، مدار الوطن للنشر، الرياض، ط1426هـ. كنوز رياض الصالحين، المجلس العلمي كنوز دار إشبيليا، الرياض، ط1، 2009م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نفاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com