بندہ مسلم پر لازم ہے کہ وہ (حکمران کی بات) سنے اور اطاعت کرے خواہ وہ بات اسے پسند ہو یا نا پسند الا یہ کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے۔ چنانچہ جب اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سنے اور نہ اطاعت کرے
عن ابن عمر رضي الله عنهما مرفوعاً: «على المرء المسلم السمع والطاعة فيما أحب وكَرِهَ، إلا أن يُؤمر بمعصية، فإذا أُمِرَ بمعصية فلا سمع ولا طاعة».
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلم بندہ پر (حکمران کی بات) سننا اور ماننا لازم ہےخواہ وہ بات اسے پسند ہو یا نا پسند، الا یہ کہ اسے معصیت (گناہ) کا حکم دیا جائے۔ چنانچہ جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سنے اور نہ اطاعت کرے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں حکمران جن باتوں کا حکم دے اس میں اس کی سمع و طاعت کے وجوب کا بیان ہے چاہے اس کا حکم ہمیں پسند ہو یا ناپسند، ماسوا اس صورت کے کہ وہ کسی معصیت (گناہ کرنے) کا حکم دے۔ تو صرف اس معصیت (گناہ) کے سلسلے میں اس کی کوئی سمع و طاعت نہیں ہو گی۔
حوالہ
صحيح البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي.
كنوز رياض الصالحين، بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430هـ.
تطريز رياض الصالحين، لفيصل بن عبد العزيز المبارك النجدي, تحقيق: عبد العزيز آل حمد, دار العاصمة, الطبعة: الأولى، 1423 هـ.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي.الطبعة الأولى 1418هـ.
شرح رياض الصالحين لابن عثيمين, دار مدار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة : 1426 هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com