عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم أنه قال: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اس امت کا کوئی بھی انسان جو میرے بارے میں سنے، وہ یہودی ہو یا نصرانی اور وہ اس شریعت پر ایمان نہ لائے، جسے دے کر میں بھیجا گیا ہوں اور اسی حالت میں اس کی موت ہو جائے، تو وہ جہنمی ہوگا"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کی قسم کھا کر بتا رہے ہیں کہ اس امت کا جو بھی شخص آپ کے بارے میں سنے گا، خواہ یہودی ہو ، عیسائی ہو یا کوئی اور، پھر وہ آپ پر ایمان لائے بغیر ہی مر جائے گا، تو وہ جہنمی ہوگا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔
فوائد
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت سارے عالم کے لیے عام ہے، آپ کی اتباع واجب ہے اور آپ کی شریعت کے ذریعے پچھلی ساری شریعتیں منسوخ ہو چکی ہیں۔
جس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا انکار کر دیا، اسے دیگر نبیوں پر ایمان رکھنے کا دعوی کچھ فائدہ نہ دے گا۔
جس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں نہيں سنا اور اس کے پاس آپ کی دعوت نہیں پہنچی، وہ معذور ہے اور آخرت میں اس کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔
انسان کو اسلام قبول کرنے کا فائدہ ملے گا، چاہے سخت بیماری میں اور موت سے کچھ دیر پہلے ہی کیوں نہ اسلام قبول کرے، جب کہ روح حلق تک نہ پہنچ جائے۔
کافروں - جن میں یہود ونصاری بھی شامل ہیں- کے دین کو صحیح قرار دینا کفر ہے۔
اس حدیث میں یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر ان کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے بارے میں تنبیہ کرنے کے لیے ہوا ہے۔ کیوں کہ ان دونوں قوموں کے پاس کتابیں موجود تھیں اور اس کے باوجود ان کا یہ حال ہے، تو دیگر ان قوموں کا حال کیا ہوگا، جن کے پاس کتاب نہیں ہے؟ سچائی یہ ہے کہ دنیا کی ساری قوموں پر آپ کے دین کو قبول کرنا اور آپ کی اتباع کرنا واجب ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 134) (153).
شرح النووي على مسلم (2/ 186).
الإفصاح عن معاني الصحاح، لابن هبيرة (8/ 192).
طرح التثريب في شرح التقريب، لعبد الرحيم العراقي (7/ 159).
عَن عَبدِ الله بنِ الشِّخِّير رضي الله عنه قَالَ: انْطَلَقْتُ في وَفدِ بَنِي عَامِرٍ إِلى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم، فَقُلنا: أَنتَ سيّدُنَا، فقال: «السَّيدُ اللهُ»، قُلنا: وَأَفْضَلُنا فَضْلاً، وأعظَمُنا طَوْلاً، فقال: «قُولُوا بِقَولِكُم، أَو بَعضِ قولِكُم، وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُم الشَّيطَانُ».
عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں بنی عامر کے ایک وفد کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہاں پہنچ کر ہم نے کہا : آپ ہمارے سید ہیں۔ لہذا آپ نے کہا : "سید تو اللہ ہے۔" ہم نے عرض کیا : آپ ﷺہم میں سب سے فضیلت والے اور صاحب جود و سخا ہیں۔ تو آپ ﷺنے فرمایا: ” تم اس طرح کی بات یا اس طرح کی کچھ بات کہہ سکتے ہو۔ مگر کہیں شیطان تمھیں اپنا وکیل نہ بنا لے ( کہ کوئی ایسی بات کہہ گزرو، جو میری شان کے مطابق نہ ہو)۔"
رواه أبو داود وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ لوگ پہنچے۔ پہنچنے کے بعد انھوں نے آپ کی تعریف میں کچھ باتیں کہیں، جو آپ کو پسند نہيں آئیں۔ انھوں نے کہا : "آپ ہمارے سید ہیں"۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے کہا: "سید تو اللہ ہے"۔ اسی کے پاس مخلوقات کی مکمل سرداری ہے۔ سب اس کے غلام ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا : "آپ ہم میں سب سے فضیلت والے" یعنی سب سے اونچے مرتبے، شرف و منزلت اور امتیازی شان والے ہیں۔ "اور آپ ہم میں سب سے صاحب جود و سخا" یعنی داد و دہش کرنے والے اور اونچی شان کے حامل ہيں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہدایت کی کہ آپ کو سادہ الفاظ میں مخاطب کریں اور بھاری بھرکم الفاظ تلاش نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ شیطان انہیں مبالغہ آرائی کی راہ پر لے جائے، جو شرک اور اس کے اسباب کی طرف لے جاتا ہے۔
فوائد
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کے دل میں آپ کا احترام۔
الفاظ کے انتخاب میں تکلف سے کام لینے کی ممانعت اور گفتگو میں میانہ روی کا حکم۔
توحید کو ایسے اقوال و افعال سے محفوظ رکھنا، جو اس میں خلل انداز ہوتے ہيں۔
تعریف میں غلو سے کام لینے کی ممانعت۔ کیوں کہ یہ شیطان کا چور دروازہ ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اولاد آدم کے سردار ہيں۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ تواضع کے طور پر اور اس خوف سے کہی گئی ہے کہ لوگ آپ کے بارے میں غلو نہ کرنے لگيں۔
حوالہ
سنن أبي داود (7/ 184) (4806).
مسند أحمد (26/ 234) (16307).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص424).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص472).
مشكاة المصابيح، للألباني مشكاة المصابيح (3/ 1373).
عن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعاً: أخبر النبي صلى الله عليه وسلم : "أنه يأتي فيسجد لربه ويحمده [لا يبدأ بالشفاعة أولا]، ثم يقال له: "ارفع رأسك وقل يُسمع، وسَلْ تُعط، واشفع تُشفَّع".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: نبی ﷺ نے بتلایا کہ ’’آپ ﷺ (روز قیامت) اپنے رب کے سامنے آکر سجدہ ریز ہو جائیں گے اور اس کی حمد بیان کریں گے (یعنی پہلے شفاعت نہیں کریں گے) پھر آپ ﷺ سے کہا جائے گا: ”اپنا سر اٹھائیں اور کہیں، آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگیں، آپ کو دیا جائے گا اور شفاعت کریں، آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
روز قیامت رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں گے اور اللہ کو سجدہ کریں گے اور اس سے دعا کریں گے۔ پھر اللہ تعالی آپ ﷺ کو شفاعت عظمی کی اجازت مرحمت فرماتے ہوئے کہے گا: مانگیں، آپ کو دیا جائے گا، شفاعت کریں، آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی یعنی آپ کا سوال قابل قبول اور آپ کی شفاعت مقبول ہے۔
حوالہ
1- القول المفيد على كتاب التوحيد، دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية, محرم، 1424ه.
2- صحيح البخاري، المحقق: محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
3- صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں۔ ایک مہینے کی مسافت تک رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور پوری زمین میرے لیے مسجد اور حصولِ پاکیزگی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔ چنانچہ میری امت کا جو انسان نماز کے وقت کو (جہاں بھی) پالے، اسے وہیں نماز ادا کر لینی چاہیے۔ میرے لیے غنیمت کا مال حلال کر دیا گیا ہے، مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی غنیمت کا مال حلال نہ تھا۔ مجھے شفاعت عطا کی گئی۔ دیگر انبیا اپنی اپنی قوموں کے لیے مبعوث کیے جاتے تھے، لیکن مجھے تمام انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ نے آپ کو ایسی پانچ چیزیں عطا کی ہیں، جو اللہ نے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی تھیں۔
1- مجھے مدد کے طور پر رعب دیا گیا ہے، جو میرے دشمنوں کے دلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، خواہ ان کے اور میرے درمیان ایک مہینے کی مسافت ہی کیوں نہ حائل ہو۔
2- ہمارے لیے پوری زمین کو مسجد بنایا گیا ہے کہ ہم جہاں چاہيں، نماز پڑھ لیں۔ اسی طرح پانی کے استعمال کی قدرت نہ ہونے کی صورت میں اسے پاکی کے حصول کا ذریعہ بھی بنایا گیا ہے۔
3- ہمارے لیے جنگ سے حاصل ہونے والے اموال غنیمت کو حلال کیا گیا ہے۔ اموال غنیمت سے مراد دراصل وہ اموال ہيں، جو مسلمانوں کو کفار سے جنگ کے وقت حاصل ہوتے ہيں۔
4- مجھے قیامت کے دن کی ہول ناکیوں سے لوگوں کو آرام پہنچانے کے لیے شفاعت عظمی دی گئی ہے۔
5- مجھے تمام جنوں اور انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ جب کہ مجھ سے پہلے آنے والے نبی اپنی اپنی قوموں کے لیے نبی بناکر بھیجے جاتے تھے۔
فوائد
انسان کسی کو بتانے یا اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو گنوا سکتا ہے۔
اس امت اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اللہ کا کرم کہ اس نے مذکورہ چیزیں عطا کی ہيں۔
نماز وقت پر پڑھنا ہر حال میں واجب ہے۔ باقی نماز کی شرطوں، ارکان اور واجبات میں سے انسان جن کی طاقت رکھے گا، انھیں ادا کرے گا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خصوصی طور پر جس شفاعت کا حق دیا گیا ہے، اس کی مختلف قسمیں ہیں۔ مثلا بندوں کے لیے اس بات کی شفاعت کہ اللہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے، اہل جنت کو جنت میں داخل کرنے کی شفاعت اور آپ کے چچا ابو طالب کے عذاب کو ہلکا کرنے کی شفاعت۔ یاد رہے کہ آپ ابو طالب کو جہنم سے نکالنے کی شفاعت نہيں کریں گے، کیوں کہ ان کا انتقال کفر کی حالت میں ہوا تھا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اور بھی امتیازی خصائص ہیں، جن کا ذکر اس حدیث میں نہیں ہوا ہے۔ جیسے جامع ترین کلمات میں بات رکھنے کی صلاحیت، آپ پر نبیوں کے سلسلے کا ختم ہو جانا اور ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی مانند قرار دیا جانا اور دیگر خصوصیات۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 74) (335).
صحيح مسلم (1/ 370) (521).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص74).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 94).
عن عائشة رضي الله عنها قالت: تُوُفِّيَ رسول الله صلى الله عليه وسلم وما في بيتي من شيء يَأكُلُهُ ذُو كَبدٍ إلا شَطْرُ شَعير في رَفٍّ لي، فأكَلتُ منه حتى طال عليَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو میرے گھر میں تھوڑے سےجَو کے سوا جو ایک طاق میں رکھا ہوا تھا اور کوئی چیز ایسی نہیں تھی جو کسی جگر والے (جاندار) کی خوراک بن سکتی۔ میں اسی میں سے کھاتی رہی، یہاں تک کہ کافی عرصہ گزر گیا۔ پھر میں نے اسے ناپا تو وہ ختم ہو گیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی، تو ان کے گھر میں تھوڑے سے جَو کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔ ”شَطْرُ شَعيرٍ“ کے معنی تھوڑے سے جَو کے ہیں، جیسا کہ امام ترمذی نے بیان کیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک مدت تک اسی جو کو کھاتی رہیں جو نبی ﷺ چھوڑ کر گئے تھے۔ جب انہوں نے اسے وزن کر لیا تو وہ ختم ہو گیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس تھوڑے سے اناج میں آپﷺ کی برکت شامل رہی، لیکن اسے وزن کیے بغیر، جو کہ توکل پر دلالت کرتا ہے۔ خرید وفروخت کے وقت وزن کرنا مطلوب ہے اس لے کہ بیچنے اور خریدنے والے کے حقوق اس سے وابستہ ہیں، البتہ خرچ کرتے وقت وزن (حساب) کرنا مستحب نہیں ہے۔
حوالہ
كنوز رياض الصالحين، أ.د. حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار، دار كنوز إشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ.
بهجة الناظرين، الشيخ: سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي.
نزهة المتقين، د. مصطفى سعيد الخن، د. مصطفى البغا، محيي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى: 1397 هـ 1977 م، الطبعة الرابعة عشرة 1407 هـ 1987م.
شرح صحيح البخاري لابن بطال، المؤلف: ابن بطال أبو الحسن علي بن خلف بن عبد الملك، تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم، دار النشر: مكتبة الرشد - السعودية، الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.
رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م.
صحيح مسلم، المؤلف: مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.
صحيح البخاري، المؤلف: محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي، المحقق: محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، المؤلف: أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1392.
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَنْ يَأْبَى؟ قَالَ: «مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى».
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "میری امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں کے، ماسوا ان لوگوں کے جنھوں نے انکار کیا۔" پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! انکار کرنے والے کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا۔"
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کی امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے، ان کو چھوڑ کر جنھوں نے جنت میں جانے سے منع کر دیا۔
ایسے میں صحابہ رضی اللہ عنھم نے آپ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! بھلا جنت جانے سے انکار کون کرے گا؟!
آپ نے جواب دیا کہ جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و فرماں برداری کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے نافرمانی کی اور شریعت پر عمل کرنے سے گریز کیا، اس نے دراصل اپنے برے کاموں کے توسط سے جنت میں داخل ہونے سے انکار کیا۔
فوائد
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت اللہ کی اطاعت کا ایک حصہ ہے اور آپ کی معصیت اللہ کی معصیت کا ایک حصہ ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت جنت واجب کرتی ہے اور آپ کی نافرمانی جہنم واجب کرتی ہے۔
اس امت کے فرماں بردار لوگوں کے لیے یہ خوش خبری کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ جنت میں داخل ہونے سے وہی لوگ رہ جائیں گے، جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نافرمانی کی۔
اپنی امت پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شقفت اور آپ کی یہ حرص کہ لوگ صحیح راستے پر آ جائیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (9/ 92) (7280).
فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي، المكتبة التجارية الكبرى – مصر، الطبعة: الأولى.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ.
التيسير بشرح الجامع الصغير، للمناوي، مكتبة الإمام الشافعي، الرياض، ط3.
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: حَضَرَتِ الصلاةُ فقامَ مَنْ كان قريبَ الدارِ إلى أَهْلِهِ، وبَقِيَ قَوْمٌ، فأُتِيَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَصَغُرَ المِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطَ فيهِ كَفَّهُ، فتَوَضَّأَ القومُ كلهم. قالوا: كم كنتم؟ قال: ثمانينَ وزيادةً.
وفي رواية: أَنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم دعا بإناءٍ من مَاءٍ، فأُتِيَ بقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فيهِ شَيْءٌ من ماءٍ، فوضعَ أَصَابِعَهُ فيهِ، قال أنس: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إلى الماءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّأَ ما بَيْنَ السبعينَ إلى الثمانينَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) نماز کا وقت ہو گیا، تو جس شخص کا مکان قریب ہی تھا وہ وضو کرنے اپنے گھر چلا گیا اور کچھ لوگ رہ گئے۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس پتھر کا ایک لگن لایا گیا جس میں کچھ پانی تھا اور وہ اتنا چھوٹا تھا کہ آپ ﷺ اس میں اپنی ہتھیلی نہیں پھیلا سکتے تھے۔ (مگر) سب لوگوں نے اس برتن کے پانی سے وضو کر لیا۔ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کتنے افراد تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اسّی (80) افراد سے کچھ زیادہ ہی تھے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا تو آپ ﷺ کے لیے ایک چوڑے منہ کا پیالہ لایا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا، آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں اس میں ڈال دیں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں پانی کی طرف دیکھنے لگا۔ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اندازے کے مطابق (اس ایک پیالہ پانی سے) جن لوگوں نے وضو کیا، وہ ستّر سے اسّی افراد تک تھے۔
متعدد روایات کے ساتھ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔درجہصحیح
تشریح
انس رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ: نماز کا وقت ہوگیا یعنی مدینہ میں صحابہ نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا۔ جس کا گھر مسجد سے قریب تھا وہ چلا گیا یعنی جن کے گھر وہاں سے قریب ہی تھے وہ وضو کرنے کے لیے گھر چلے گئے۔ ”کچھ لوگ باقی رہے“ یعنی وہ لوگ نبی ﷺ کے پاس رہ گیے جن کے گھر دور تھے۔
نبی ﷺ کے پاس پتھر کا ایک چھوٹا سا برتن لایا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ بعض روایات میں اس برتن کو '”رَحرَاح“' کی صفت سے موصوف کیا گیا ہے۔ (یعنی چوڑے منہ والا ایسا برتن جس کا پیندا زیادہ گہرا نہ ہو)۔ اس چھوٹے سے برتن میں جب آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلانا چاہا تو یہ تنگ پڑ رہا تھا۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ ہم نے پوچھا کہ آپ کتنے افراد تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسّی سے کچھ اوپر۔
حوالہ
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي، بدون تاريخ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. الطبعة الأولى 1418هـ.
كنوز رياض الصالحين، نشر: دار كنوز إشبيليا، الطبعة: الأولى، 1430هـ - 2009م.
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت.
عن أبي هريرة رضي الله عنه : أنّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهمَا فَأَخَذَ اللَّبَنَ. فَقَالَ جِبريل: الحَمْدُ للهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلفِطْرَةِ لَوْ أخَذْتَ الخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معراج کی رات نبی کريم ﷺ کے سامنے دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کيے گئے۔ آپ ﷺ نے ان دونوں کی طرف ديکھا اور دودھ (والا پيالہ) لے ليا۔ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہے جس نے آپ کی رہنمائی فطرت کی طرف فرمائی، اگرآپ شراب (کا پیالہ) لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی کريم ﷺ کے پاس معراج کی رات جبرئيل عليہ السلام دودھ اور شراب سے بھرے ہوئے دو پیالے لے کر آئے۔ ”آپ ﷺ نے ان دونوں کی طرف ديکھا“ یعنی گویا کہ آپ ﷺ کو ان دونوں میں سے کوئی ايک لینے کا اختیار دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ کے دل میں دودھ والے پيالے کو اختیار کرنے کی بات ڈال دی گئی، چنانچہ آپ ﷺ نے دودھ (والا پيالہ) لے ليا۔ تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمايا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے آپ کی رہنمائی فطرت کی طرف فرمائی، یعنی آپ نے اسلام اور استقامت کی علامت کو اختيار كیا۔ جبرئیل امین نے دودھ کو ان چیزوں کی علامت اس لیے قرار دیا کیونکہ یہ بہت آسان نوش، پاک صاف، پینے والوں کے لئے خوشگوار اور نتائج کے اعتبار سے محفوظ ہوتا ہے۔ ”اگر آپ شراب کا (پیالہ) لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی“۔
حوالہ
1-بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.
2-دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت.
3-رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
4-شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
5-صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
6-صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
7-كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ.
8-نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com