سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میرے پانچ نام ہیں: میں محمد اور احمد ہوں۔ میں 'الماحی' (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ذریعے سے اللہ کفر کو مٹائے گا۔ میں 'الحاشر' (جمع کرنے والا) ہوں کہ میرے بعد لوگوں کو جمع کیا جائے گا۔ میں 'العاقب' (آخری نبی) بھی ہوں۔

عن جُبَيْر بن مُطْعِم رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لِي خمسة أسْماء: أنا محمد، وأحمد، وأنا الماحِي الذي يَمْحُو الله بي الكفر، وأنا الحاشِر الذي يُحشَر الناس على قَدَمِي، وأنا العاقِب».
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "میرے پانچ نام ہیں: میں محمد اور احمد ہوں۔ میں 'الماحی' (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ذریعے سے اللہ کفر کو مٹائے گا۔ میں 'الحاشر' (جمع کرنے والا) ہوں کہ میرے بعد لوگوں کو جمع کیا جائے گا۔ میں 'العاقب' (آخری نبی) بھی ہوں"۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پانچ نام تھے: محمد، احمد، الماحی (مٹانے والا) جس کے ذریعے سے اللہ کفر اور اس پر چلنے والوں کا صفایا کرے گا، الحاشر (جمع کرنے والا) جو قیامت کے دن دیگر لوگوں سے پہلے اٹھا کر میدان حشر میں لایا جائے گا اور العاقب (آخری نبی) جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ یعنی آپ آخری نبی تھے اور آپ کے بعد اس سلسلے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پانچ نام ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے بس اتنے ہی نام ہیں، بلکہ صحیح حدیثوں سے آپ کے اور بھی کئی نام ثابت ہیں۔ جیسے المقفی (آخری نبی)، نبی الرحمۃ (رحمت والا نبی) اور نبی التوبۃ (توبہ والا نبی) وغیرہ۔

حوالہ

-صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. -صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. -فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر العسقلاني، تحقيق: محب الدين الخطيب، نشر: دار المعرفة-بيروت، 1379ه. -مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. -المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت، الطبعة: الثانية، 1392هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ہمارے نبی محمدﷺ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com