اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پانچ نام تھے: محمد، احمد، الماحی (مٹانے والا) جس کے ذریعے سے اللہ کفر اور اس پر چلنے والوں کا صفایا کرے گا، الحاشر (جمع کرنے والا) جو قیامت کے دن دیگر لوگوں سے پہلے اٹھا کر میدان حشر میں لایا جائے گا اور العاقب (آخری نبی) جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ یعنی آپ آخری نبی تھے اور آپ کے بعد اس سلسلے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پانچ نام ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے بس اتنے ہی نام ہیں، بلکہ صحیح حدیثوں سے آپ کے اور بھی کئی نام ثابت ہیں۔ جیسے المقفی (آخری نبی)، نبی الرحمۃ (رحمت والا نبی) اور نبی التوبۃ (توبہ والا نبی) وغیرہ۔
-صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. -صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. -فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر العسقلاني، تحقيق: محب الدين الخطيب، نشر: دار المعرفة-بيروت، 1379ه. -مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. -المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت، الطبعة: الثانية، 1392هـ.