سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے رسول صلی اللہ و سلم نے ہمارے سامنے اپنے کئی نام بیان کیے، جن میں سے کچھ ہمیں یاد ہیں۔ آپ نے فرمایا : "میں محمد، احمد، المقفی (آخری نبی)، الحاشر (جمع کرنے والا) اور نبی الرحمۃ (رحمت والا نبی) ہوں"۔

عن أبي موسى رضي الله عنه قال: سَمَّى لنا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم نفْسَه أسْماءً منها ما حَفِظْنا فقال: «أنا محمد، وأحمد، والمُقَفِّي، والحاشِر، ونبي الرَّحمة، قال يزيد: ونبِيُّ التوبة ونَبِيُّ المَلْحَمة».
سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ و سلم نے ہمارے سامنے اپنے کئ نام بیان کیے، جن میں سے کچھ ہمیں یاد ہیں۔ آپ نے فرمایا : "میں محمد، احمد، المقفی (آخری نبی)، الحاشر (جمع کرنے والا) اور نبی الرحمۃ (رحمت والا نبی) ہوں"۔ یزید کہتے ہیں: "نبی التوبۃ (توبہ والا نبی) اور نبی الملحمۃ (جنگ والا نبی) بھی آپ کے نام ہیں"۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے کئی نام بیان کیے ہیں، جن میں سے یہنام ہمیں یاد رہ گئے ہیں : محمد، احمد، المقفی یعنی آخری نبی، الحاشر یعنی سب سے پہلے میدان حشر میں لائے جانے والا انسان، نبی الرحمۃ یعنی اپنی لائی ہوئی شریعت کے حوالے سے سارے جہان والوں کے حق میں اور کچھ خصائص کی بنا پر بطور خاص ایمان والوں کے حق میں مہربان و شفیق، نبی التوبہ یعنی نیت اور زبان سے ادا کیے گئے الفاظ کے ذریعے توبہ قبول ہونے کا پیغام لانے والے نبی، جب کہ کچھ اگلی امتوں میں توبہ کے لیے ضروری تھا کہ آدمی اپنی جان لے لے، یا پھر نبی التوبہ (توبہ والے نبی ) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نبی جس کی امت میں توبہ کے معاملات بکثرت ہوا کریں گے، کیوں کہ جب آپ کی امت تعداد کے اعتبار سے سب سے بڑی ہوگی، تو اس میں توبہ کے واقعات بھی دیگر امتوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں گے۔ آپ کا ایک نام نبی الملحمۃ (جنگ کا نبی) بھی ہے، کیوں کہ آپ اللہ کے کلمہ کی سر بلندی کے لیے جہاد کے حریص تھے۔

حوالہ

-مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. -صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. -كشف المشكل من حديث الصحيحين، لجمال الدين أبي الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي، المحقق: علي حسين البواب، الناشر: دار الوطن – الرياض. -فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي، المكتبة التجارية الكبرى – مصر، الطبعة: الأولى. -المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت، الطبعة: الثانية، 1392هـ. -فتح الباري شرح صحيح البخاري, أحمد بن علي بن حجر العسقلاني الشافعي, دار المعرفة - بيروت، 1379, رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي, قام بإخراجه وصححه وأشرف على طبعه: محب الدين الخطيب.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ہمارے نبی محمدﷺ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com