سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ تعالیٰ نےاسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا پھر بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا۔ میں اولادِ آدم کا سردار ہوں مگر اس پر فخر نہیں، میں پہلا شخص ہوں گا جس سے قبر شق کی جائے گی، سب سے پہلے میں سفارش کروں گا اور میں ہی پہلا ہوں گا جس کی سفارش قبول کی جائے گی۔

عن واثلة بن الأسقع رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إنَّ اللهَ اصْطَفى كِنانَة من وَلَد إسماعيل، واصْطَفى قُريشًا من كِنانة، واصْطَفى بَني هاشم مِنْ قُرَيش، واصْطَفاني مِنْ بني هاشم، فأنا سَيِّدُ وَلَد آدم ولا فَخْر، وأوَّلُ مَن تَنْشَقُّ عنه الأرض، وأوَّلُ شافع، وأوَّل مُشَفَّع».
واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا پھر بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا۔میں اولادِ آدم کا سردار ہوں مگر اس پر فخر نہیں۔ میں پہلا شخص ہوں گا جس سے قبر شق کی جائے گی، سب سے پہلے میں سفارش کروں گا اور میں ہی پہلا ہوں گا جس کی سفارش قبول کی جائے گی“۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرب میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور ان کو بنی اسماعیل پر فضیلت عطا فرمائی، پھر قریش کو منتخب کیا اور اس کو قبیلہ کنانہ کے بقیہ قبائل پر فضیلت عطا فرمائی، پھر بنی ہاشم کو منتخب کیا اور اس کو قریش کی بقیہ قبائل پر فضیلت دی۔ پھر محمد ﷺ کو منتخب کیا اور ان کو بنی ہاشم پر فضیلت دی۔ آپ ﷺ کُلْ اولاد آدم کے سردار ہیں اور سب سے بڑھ کر فضیلت والے ہیں۔ ان سب کے باوجود آپ ﷺ نے کسی ایک پر فخر نہیں کیا بے شک آپ ﷺ اس مقام پر اللہ کی طرف سے ملنے والی وحی کی وجہ سے پہنچے ہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ ہی وہ ہوں گے جن کو قیامت کے دن سب سے پہلے اٹھایا جائے گا۔ آپ ﷺ ہی پہلے انسان ہوں گی جو سفارش کریں گے اور آپ ﷺ ہی وہ پہلے ہوں گے جن کی سفارش قبول کی جائے گی۔

حوالہ

-صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. -الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان، المؤلف: محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ البُستي، ترتيب: الأمير علاء الدين علي بن بلبان الفارسي، حققه وخرج أحاديثه وعلق عليه: شعيب الأرنؤوط، الناشر: مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى، 1408 هـ - 1988 م. -سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، تأليف محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، لمكتبة المعارف. -المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت، الطبعة: الثانية، 1392ه. -مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت - لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. -إكمال المعلم بفوائد مسلم لعياض بن موسى بن عياض بن عمرون اليحصبي السبتي، المحقق: الدكتور يحيى إسماعيل، الناشر: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر، الطبعة: الأولى، 1419 هـ - 1998 م. -كشف المشكل من حديث الصحيحين، لجمال الدين أبي الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي، المحقق: علي حسين البواب، الناشر: دار الوطن – الرياض. -المفاتيح في شرح المصابيح, الحسين بن محمود بن الحسن المُظْهِري, تحقيق لجنة من المحققين بإشراف: نور الدين طالب, دار النوادر، وهو من إصدارات إدارة الثقافة الإسلامية - وزارة الأوقاف الكويتية, الطبعة: الأولى، 1433 هـ - 2012 م. -شرح مصابيح السنة للإمام البغوي, محمَّدُ بنُ عزِّ الدِّينِ الرُّوميُّ الكَرمانيّ، المشهور بـ ابن المَلَك, تحقيق: لجنة مختصة بإشراف: نور الدين طالب, إدارة الثقافة الإسلامية, الطبعة: الأولى، 1433 هـ - 2012 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ہمارے نبی محمدﷺ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com