سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو میرے گھر میں تھوڑے سے جَو کے سوا جو ایک طاق میں رکھا ہوا تھا اور کوئی چیز ایسی نہیں تھی، جو کسی جگر والے (جاندار) کی خوراک بن سکتی۔ میں اسی میں سے کھاتی رہی، یہاں تک کہ کافی عرصہ گزر گیا۔ پھر میں نےاسے ناپا تو وہ ختم ہو گیا۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: تُوُفِّيَ رسول الله صلى الله عليه وسلم وما في بيتي من شيء يَأكُلُهُ ذُو كَبدٍ إلا شَطْرُ شَعير في رَفٍّ لي، فأكَلتُ منه حتى طال عليَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو میرے گھر میں تھوڑے سےجَو کے سوا جو ایک طاق میں رکھا ہوا تھا اور کوئی چیز ایسی نہیں تھی جو کسی جگر والے (جاندار) کی خوراک بن سکتی۔ میں اسی میں سے کھاتی رہی، یہاں تک کہ کافی عرصہ گزر گیا۔ پھر میں نے اسے ناپا تو وہ ختم ہو گیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی، تو ان کے گھر میں تھوڑے سے جَو کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔ ”شَطْرُ شَعيرٍ“ کے معنی تھوڑے سے جَو کے ہیں، جیسا کہ امام ترمذی نے بیان کیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک مدت تک اسی جو کو کھاتی رہیں جو نبی ﷺ چھوڑ کر گئے تھے۔ جب انہوں نے اسے وزن کر لیا تو وہ ختم ہو گیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس تھوڑے سے اناج میں آپﷺ کی برکت شامل رہی، لیکن اسے وزن کیے بغیر، جو کہ توکل پر دلالت کرتا ہے۔ خرید وفروخت کے وقت وزن کرنا مطلوب ہے اس لے کہ بیچنے اور خریدنے والے کے حقوق اس سے وابستہ ہیں، البتہ خرچ کرتے وقت وزن (حساب) کرنا مستحب نہیں ہے۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، أ.د. حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار، دار كنوز إشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ. بهجة الناظرين، الشيخ: سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. نزهة المتقين، د. مصطفى سعيد الخن، د. مصطفى البغا، محيي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى: 1397 هـ 1977 م، الطبعة الرابعة عشرة 1407 هـ 1987م. شرح صحيح البخاري لابن بطال، المؤلف: ابن بطال أبو الحسن علي بن خلف بن عبد الملك، تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم، دار النشر: مكتبة الرشد - السعودية، الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م. رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م. صحيح مسلم، المؤلف: مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. صحيح البخاري، المؤلف: محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي، المحقق: محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، المؤلف: أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1392.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ہمارے نبی محمدﷺ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com