سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

گناہوں کی مذمت

19 احادیث

’’کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟

عن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «‌أَلَا ‌أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟» ثَلَاثًا، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ» وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: «أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ»، قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ.
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟" یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرائی۔ لوگوں نے کہا : "اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔" آپ ﷺ پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، لیکن سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور پھر فرمایا : "خبردار! جھوٹی بات کہنا"۔ آپ ﷺ اس بات کو اتنی مرتبہ دہراتے رہے کہ ہم نے کہا : کاش آپ ﷺ خاموش ہوجائیں‘‘۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں کو سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ان تین گناہوں کا ذکر کیا : 1- اللہ کا شریک ٹھہرانا : شرک نام ہے کوئی بھی عبادت اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے کرنے اور غیراللہ کو الوہیت، ربوبیت اور اسماء و صفات میں اللہ کے برابر لا کھڑا کرنے کا۔ 2- ماں باپ کی نافرمانی : یعنی قول و فعل کے ذریعہ یا ان کی خدمت میں کوتاہی کرکے ان کو کسی طرح کی تکلیف دینا۔ 3- جھوٹ بولنا، جس میں جھوٹی گواہی دینا بھی شامل ہے: اس سے مراد ہر وہ گھڑی ہوئی اور جھوٹی بات ہے، جس کا مقصد کسی کا مال ہڑپنا یا کسی کو بے عزت کرنا وغیرہ ہو۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جھوٹ بولنے سے بار بار خبردار کرکے یہ بتایا ہے کہ جھوٹ ایک بری چیز ہے اور سماج پر اس کے بڑے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آپ نے جھوٹ بولنے سے اتنی بار خبردار کیا کہ صحابہ نے آپ کی پریشانی کو دیکھ کر کہا کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔

فوائد
  1. سب سے بڑا گناہ اللہ کا شریک ٹھہرانا ہے، کیوں کہ اللہ نے اسے سب سے پہلا اور سب سے بڑا کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ اس کی تاکید اللہ تعالی کا یہ قول بھی کرتا ہے : "یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جس کے لئے جو چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔"
  2. والدین کے حقوق کی اہمیت، کیوں کہ اللہ تعالی نے ان کا حق اپنے حق کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔
  3. گناہ کی دو قسمیں ہيں؛ صغیرہ گناہ اور کبیرہ گناہ۔ کبیرہ گناہ سے مراد ہر وہ گناہ ہے، جس کی کوئی دنیوی سزا متعین ہو، جیسے حدود اور لعنت وغیرہ یا جس پر کوئی اخروی وعید سنائی گئی ہو، جیسے جہنم میں داخلے کی وعید۔ کبیرہ گناہوں میں سے بھی کچھ گناہوں کی حرمت دیگر کبیرہ گناہوں کے مقابلے میں زیادہ شدید ہے۔ جب کہ صغیرہ گناہوں سے مراد کبیرہ گناہ کے علاوہ دیگر گناہ ہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 172) (2654)، (8/ 4) (5976)، (8/ 62) (6273-6274). صحيح مسلم (1/ 91) (87). عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم (ص257) (380). شرح النووي على مسلم (2/ 81). الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري (2/ 149). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام (ص703). أعلام السنة المنشورة لاعتقاد الطائفة الناجية المنصورة، لحافظ بن أحمد الحكمي (ص111).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے پاس لانے میں جلدی کی چنانچہ میں نے اس پر جنت حرام کر دی۔

عَن الحَسَنِ قال: حَدَّثنا جُنْدَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنه، فِي هَذَا المَسْجِدِ، وَمَا نَسِينَا مُنْذُ حَدَّثَنَا، وَمَا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ جُنْدُبٌ كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلم: «كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ بِهِ جُرْحٌ، فَجَزِعَ، فَأَخَذَ سِكِّينًا فَحَزَّ بِهَا يَدَهُ، فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: بَادَرَنِي عَبْدِي بِنَفْسِهِ، حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الجَنَّةَ».
جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے ایک زخم لاحق تھا۔ وہ اسے برداشت نہ کر سکا چنانچہ اس نے ایک چھری لی اور اس سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا۔ خون نہ رکنے کی وجہ سے وہ مر گیا۔اللہ عز و جل نے فرمایا: میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے پاس لانے میں جلدی کی چنانچہ میں نے اس پر جنت حرام کر دی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو ہم سے پہلے گزر جانے والی قوموں میں سے ایک آدمی کے بارے میں بتایا جو ایک بہت ہی المناک قسم کے زخم میں مبتلا تھا جسے وہ برداشت نہ کر سکا۔ اپنے ایمان اور یقینِ قلب کی کمزوری کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت اور اس کی شفا سے مایوس ہو گیا اور یہ نہ کر سکا کہ اللہ سے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس زخم کی تکلیف پر صبر کرتا۔ چنانچہ اس نے ایک چھری لے کر اس سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا۔ جس کی وجہ سے اس کا خون بہنا شروع ہو گیا جو رکا ہی نہیں یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بندے نے میری رحمت اور شفا کو بعید جانا اور میری طرف سے آنے والی آزمائش پر صبر و استقلال کا مظاہرہ نہ کیا اور اس فعلِ حرام کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنی روح کو میری طرف بھیجنے میں جلدی کی اور یہ گمان کیا کہ خود کو مار کر کے اس نے اپنے مدتِ عمر کو کم کر دیا ہے چنانچہ میں نے (اس جرم کی پاداش میں) اس کے لیے جنت حرام کر دی۔ اس لیے دوزخ اس کا ٹھکانہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کی پیشگی علم اور اس کی مشیئت و قضا میں اس قاتل کا یہ فعل پہلے سے موجود تھا۔

حوالہ

صحيح البخاري (4/ 170) (3463). صحيح مسلم (1/ 107) (113). فتح الباري، لابن حجر (3/ 227). شرح النووي على مسلم (2/ 127). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص651).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کبیرہ گناہ ہيں: اللہ کا شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کا قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ».
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "کبیرہ گناہ ہيں: اللہ کا شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کا قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔"
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کبیرہ گناہ بیان کر رہے ہيں۔ دراصل کبیرہ گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں، جن میں ملوث ہونے والوں کو دنیا یا آخرت کی کوئی سخت وعید سنائی گئی ہو۔ چنانچہ سب سے پہلا کبیرہ گناہ ہے اللہ کا شریک ٹھہرانا۔ یاد رہے کہ شرک نام ہے کوئی بھی عبادت اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے کرنے اور غیراللہ کو الوہیت، ربوبیت اور اسما و صفات میں اللہ کے برابر لا کھڑا کرنے کا۔ دوسرا کبیرہ گناہ ہے والدین کی نافرمانی کرنا۔ واضح رہے کہ اس سے مراد ہر والدین کو تکلیف دینے والا ہر قول وفعل اور ان کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرنا ہے۔ تیسرا گناہ ناحق کسی کو جان سے مار دینا ہے۔ مثلا کسی کو ظلم و سرکشی کے طور پر مار دینا۔ چوتھا گناہ ہے جھوٹی قسم کھانا۔ یعنی جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانا۔ اسے عربی میں "یمین غموس" اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ قسم کھانے والے کو گناہ یا جہنم میں ڈوبا دیتی ہے۔

فوائد
  1. جھوٹی قسم کھانا اتنا خطرناک گناہ اور بڑا جرم ہے کہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔بلکہ توبہ ہی اسے مٹا سکتی ہے۔
  2. اس حدیث میں ان چار کبیرہ گناہوں پر اکتفا دراصل ان کی سنگینی کے پیش نظر کیا گیا ہے، یہ بتانے کے لیے نہيں کہ کبیرہ گناہ یہی چار ہیں۔
  3. گناہ کی دو قسمیں ہيں؛ صغیرہ گناہ اور کبیرہ گناہ۔ کبیرہ گناہ سے مراد ہر وہ گناہ ہے، جس کی کوئی دنیوی سزا متعین ہو، جیسے حدود اور لعنت وغیرہ یا جس پر کوئی اخروی وعید سنائی گئی ہو، جیسے جہنم میں داخلے کی وعید۔ کبیرہ گناہوں میں سے بھی کچھ گناہ کی حرمت دیگر کبیرہ گناہوں کے مقابلے میں زیادہ شدید ہے۔ جب کہ صغیرہ گناہوں سے مراد کبیرہ گناہ کے علاوہ دیگر گناہ ہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 137) (6675). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 408). رياض الصالحين للنووي (ص125) (337). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (5/ 610). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص964).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اچھے ہم نشیں اور برے ہم نشیں کی مثال بعینہ ایسی ہی ہے جیسے کہ عطر فروش اور بھٹی پھونکنے والا۔

عَنْ أَبِي مُوسَى رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ: إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً».
ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "اچھے ہم نشیں اور برے ہم نشیں کی مثال بعینہ ایسی ہی ہے جیسے کہ عطر فروش اور بھٹی پھونکنے والا۔ عطر فروش یا تو تمہیں عطر تحفے میں دے دے گا یا پھر تم اس سے عطر خرید لو گے یا ( کم از کم )تمہیں اس سے خوش بو تو آئے گی ہی۔ جب کہ بھٹی میں پھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا ڈالے گا یا پھر تمہیں اس سے بدبو آئے گی۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے دو قسم کے لوگوں کی ایک مثال دی ہے: پہلی قسم : صالح ہم نشیں اور دوست، جو اللہ اور اس کی رضا کے کاموں کی راہ دکھائے اور نیکی کے کاموں میں معین و مددگار ہو۔ اس کی مثال خوشبو بیچنے والے کی طرح ہے۔ وہ یا تو ہدیہ کرے گا یا تم اس سے خرید لوگے یا کم از کم اس کی خوشبو تمھارے مشام جاں کو معطر کرے گی۔ دوسری قسم : برا دوست اور ہم نشیں، جو اللہ کی راہ سے روکے، گناہ کے کاموں میں مدد کرے اور برے برے کام کرے اور اس کى صحبت اور دوستى سے اس کے ہمنشیں اور دوست کو مذمت لا حق ہو۔ ایسے دوست کی مثال اس لوہار کی طرح ہے، جو بھٹی پھونکتا رہتا ہو۔ وہ یا تو اڑتی ہوئی چنگاریوں سے تمھارے کپڑے جلا دے گا یا پھر اس کی بھٹی کی بدبو سے تمہاری طبیعت مکدر ہوتی رہے گی۔

فوائد
  1. سامع کو کوئی بات سمجھانے کے لیے مثال پیش کرنا جائز ہے۔
  2. نیک اور صالح لوگوں کی ہم نشینی اختیار کرنے اور بگڑے ہوئے اور بدخلق لوگوں سے الگ رہنے کی ترغیب۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 96) (5534). صحيح مسلم (4/ 2026) (2628). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 431). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 339). شرح النووي على مسلم (16/ 178).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو“۔ صحابۂ کرام نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول! وہ کيا ہيں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے میدان سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن مؤمنہ عورتوں پر تہمت لگانا“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امت کو سات ہلاک کرنے والے جرائم اور گناہوں سے دور رہنے کا حکم دے رہے ہيں۔ جب آپ سے پوچھا گیا کہ وہ سات جرائم اور گناہ کیا ہیں؟ تو فرمایا : 1- شرک کرنا۔ یعنی کسی کو کسی بھی طرح سے اللہ کے جیسا قرار دینا اور کوئی بھی عبادت غیراللہ کے لیے کرنا۔ شرک سے آغاز اس لیے کیا کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ 2- جادو کرنا۔ جادو نام ہے اس طرح گرہ لگانے، دم کرنے اور دواؤں وغیرہ کے استعمال کا، جو جادو کیے ہوئے شخص کے جسم میں اثر انداز ہوکر اس کی جان لے لے، یا اسے بیمار کر دے یا میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دے۔ یہ ایک شیطانی عمل ہے۔ اس کے بیش تر حصے کے لیے شرک کرنے اور ناپاک ارواح کو خوش کرنے والے کچھ کام کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ 3- کسی ایسی جان کا قتل کرنا، جسے کسی شرعی سبب کے بغیر قتل کرنے سے اللہ نے منع کیا ہو اور شرعی سبب کے پائے جانے پر بھی قتل کرنے کا کام حاکم کا ہو۔ 4- سود لینا، چاہے اسے کھایا جائے اور اس سے کسی اور طرح سے فائدہ اٹھایا جائے۔ 5- ایسے نابالغ بچے کا مال ہڑپ لینا، جس کا باپ مر گیا ہو۔ 6- کفار کے ساتھ ہو رہی جنگ کے میدان سے بھاگ کھڑا ہونا۔ 7- پاک دامن آزاد عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔ اسی طرح مردوں پر بھی زنا کی تہمت لگانا۔

فوائد
  1. یاد رہے کہ بڑے گناہ صرف سات ہی نہیں ہیں۔ البتہ ان سات کا ذکر ان کی خطرناکی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
  2. قصاص، ارتداد اور محصن (شادی شدہ) ہونے کے باوجود زنا کرنے پر جان کو قتل کرنا جائز ہے اور یہ کام شرعی حاکم کرے گا۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 10) (2766). صحيح مسلم (1/ 92) (89). شرح صحيح البخارى لابن بطال (8/ 489). الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان (ص201).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص بھی ظلما قتل کر دیا جاتا ہے، اس کے قتل کے گناہ کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کو بھی جاتا ہے؛ کیوںکہ قتلِ ناحق کی ریت اسی نے ڈالی تھی۔

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه مرفوعًا: «ليس مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلماً إِلاَّ كَان على ابنِ آدَمَ الأَوَّل كِفْلٌ مِن دمِهَا؛ لِأَنَّه كان أوَّل مَن سَنَّ القَتْلَ».
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”جو شخص بھی ظلما قتل کر دیا جاتا ہے، اس کے قتل کے گناہ کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کو بھی جاتا ہے؛ کیوںکہ قتلِ ناحق کی ریت اسی نے ڈالی تھی“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

یہ حدیث اس سبب کو بیان کر رہی ہے، جس کی وجہ سے آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں میں سے ایک پر، اس کے بعد بہائے جانے والے ہرناحق خون کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کہاجاتا ہے کہ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی وجہ سے قتل کیا تھا۔ آدم علیہ السلام کی اولاد میں یہ سب سے پہلے قاتل اور مقتول تھے۔ چنانچہ قابیل کے بعد جو بھی ناحق خون کیا جاتا ہے، اس کے گناہ کا ایک حصہ قابیل کے کھاتے میں جاتا ہے؛ کیوںکہ اسی نے قتل کی ریت ڈالی تھی اور اس کے بعد آنے والا ہر شخص اسی کی اقتدا کرتا ہے۔

حوالہ

تطريز رياض الصالحين، فيصل بن عبد العزيز المبارك، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى 1423هـ، 2002م. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: الرابعة 1425هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى 1430هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص آ کر مجھ سے میرا مال چھیننا چاہے (تو مجھے کیا کرنا چاہیے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے اپنا مال نہ دو۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي؟ قَالَ: «فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ» قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي؟ قَالَ: «قَاتِلْهُ» قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي؟ قَالَ: «فَأَنْتَ شَهِيدٌ»، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: «هُوَ فِي النَّارِ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص آکر مجھ سے میرا مال چھیننا چاہے (تو مجھے کیا کرنا چاہیے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسے اپنا مال نہ دو۔ اس نے پوچھا کہ اگر وہ مجھ سے لڑے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر اس سے لڑو۔ اس نے مزید پوچھا کہ اگر اس نے مجھے قتل کر دیا تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس صورت میں تم رُتبۂ شہادت پر فائز ہو جاؤ گے۔ اس نے دریافت کیا کہ اگر میں نے اسے قتل کر دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس صورت میں وہ جہنم رسید ہو گا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیں کہ اگر کوئی شخص آکر میرا مال ناحق مجھ سے چھیننا چاہے تو مجھے کیا کرنے کا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسے اپنا مال نہ دو۔ اس نے مزید پوچھا کہ مجھے یہ بتائیں کہ اگر وہ مجھ سے لڑنے لگے تو میں کیا کرنے کا حق رکھتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے مال کا دفاع کرو اگرچہ اس کی وجہ سے اس سے لڑنا پڑے۔ تاہم پہلے آپ کو آسان سے آسان تر طریقے سے اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جیسے لوگوں سے مدد مانگ کر یا اسے چھڑی یا اس کی سمت کے بجائے کسی اور طرف فائرنگ وغیرہ کر کے ڈرا دھمکا کر۔ اس شخص نے پوچھا اگر وہ مجھ پر قابو پا لے اور مجھے قتل کر دے تو میرا انجام کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا تجھے شہید کا اجر ملے گا۔ اس نے دریافت کیا کہ اگر میں اس پر قابو پا لوں اور اپنے مال کا دفاع کرتے ہوئے اسے قتل کردوں تو اس کا کیا انجام ہو گا؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ایک متعینہ مدت کے لیے دوزخ میں جائے گا بشرطیکہ وہ اس عمل کو حلال سمجھ کر نہ کرتا ہو۔ اگر وہ اپنے اس فعل کو حلال سمجھتا ہوا تو اس صورت میں ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ کیونکہ اُس نے ایک ایسی شے کو حلال سمجھا جو دین میں بدیہی طور پر حرام ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم (1/ 124) (140). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 449). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 936). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 389).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”میری تمام امت معاف کردی جائے گی سوائے اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا المُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ المُجَاهَرَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولَ: يَا فُلاَنُ، عَمِلْتُ البَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : ”میری تمام امت معاف کردی جائے گی سوائے اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے۔ اور اعلانیہ گناہ کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ کوئی شخص رات کو کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور اس کی صبح اس حال میں ہو کہ الله نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالے رکھا ہو اور وہ (کسی سے) کہے کہ اے فلاں! میں نے کل رات یہ یہ کام کیا ہے۔ جب کہ اس کی رات اس حال میں گزری تھی کہ اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالے رکھا تھا، لیکن صبح ہوتے ہی وہ خود اپنے بارے میں اللہ کے پردے کو کھولنے لگا“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اس بات کی امید رہتی ہے کہ اللہ گناہ کرنے والے مسلمان کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ کرے۔ لیکن ایسا فخر اور بے شرمی کے ساتھ گناہ کرنے والے کے ساتھ نہیں ہوتا۔ وہ شخص عفو و درگزر کا حق دار نہیں ہے، جو رات میں گناہ کرتا ہو اور صبح لوگوں کو بتاتا پھرتا ہو کہ اس نے گزشتہ رات فلاں گناہ کیا ہے، جب کہ اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال رکھا تھا۔ پوری رات اللہ نے پردہ ڈالے رکھا اور صبح ہوتے ہی اس نے اسے تار تار کر دیا۔

فوائد
  1. اللہ کی جانب سے پردہ پوشی کے بعد گناہ کا اعلان کرنے کی مذمت۔
  2. گناہ کا اعلان کرنا ایک طرح سے اہل ایمان کے درمیان برائی عام کرنا ہے۔
  3. اللہ جس کی دنیا میں پردہ پوشی فرمائے گا، آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ یہ دراصل بندوں پر اللہ کے بے پایاں فضل و کرم کی ایک مثال ہے۔
  4. جس سے کوئی گناہ ہو جائے، وہ اپنے گناہ کو چھپائے اور اللہ کے سامنے توبہ کرے۔
  5. گناہ کا اعلان کرنے والے بڑے گناہ کے حق دار ہیں، جو جان بوجھ کر گناہ کا اعلان کرتے پھرتے ہیں اور خود کو اللہ کے عفو و درگزر سے محروم کر لیتے ہيں۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 20) (6069). صحيح مسلم (4/ 2291) (2990). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 15). منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة قاسم (5/ 251). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 329). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 255).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
19 میں سے 8
19 احادیث
  1. ’’کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟
  2. میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے پاس لانے میں جلدی کی چنانچہ میں نے اس پر جنت حرام کر دی۔
  3. کبیرہ گناہ ہيں: اللہ کا شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کا قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔
  4. اچھے ہم نشیں اور برے ہم نشیں کی مثال بعینہ ایسی ہی ہے جیسے کہ عطر فروش اور بھٹی پھونکنے والا۔
  5. ”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو
  6. جو شخص بھی ظلما قتل کر دیا جاتا ہے، اس کے قتل کے گناہ کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کو بھی جاتا ہے؛ کیوںکہ قتلِ ناحق کی ریت اسی نے ڈالی تھی۔
  7. یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص آ کر مجھ سے میرا مال چھیننا چاہے (تو مجھے کیا کرنا چاہیے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے اپنا مال نہ دو۔
  8. ”میری تمام امت معاف کردی جائے گی سوائے اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے۔
  9. جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی عزتوں سے کھیلتے تھے۔
  10. جب دو مسلمان تلواریں سونت کر ایک دوسرے کے مد مقابل آجائیں، تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہوں گے
  11. رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو سب سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق۔ پھر آپ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : منہ اور شرم گاہ۔
  12. کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ ”عَضْہ“ کیا چیز ہوتی ہے؟ اس سے مراد وہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کر دے۔
  13. تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف (نظرِ رحمت سے) دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا: ایک بوڑھا زانی، دوسرا ایسا غریب آدمی جو متکبر ہو اور تیسرا وہ شخص جس نے اللہ کو ہی اپنا سامان تجارت بنا لیا ہو بایں طور کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر خریداری کرے اور اس کی قسم کے ساتھ ہی فروخت کرے۔
  14. اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو عذاب دینا چاہتا ہے، تو وہ عذاب ہر اس شخص کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جو اس قوم میں ہوتا ہے اور پھر آخرت میں لوگوں کو ان کے اعمال کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
  15. گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔
  16. اللہ کے نزدیک سب سے سرکش وہ ہے, جواللہ کے حرم کے اندر قتل کرے, یا جو اپنے قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا جو زمانۂ جاہلیت کی عداوت وانتقام کی بنا پر قتل کرے
  17. اللہ کی لعنت ہو چور پر، جو ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے
  18. چار خصلتیں جس شخص کے اندر ہوں گی، وہ خالص منافق ہوگا۔ جس کے اندر ان میں سے ایک خصلت ہوگی، اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہوگی، جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے : جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب معاہدہ کرے تو دھوکہ دے دے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑے تو بد زبانی کرے۔
  19. چار خصلتیں جس شخص کے اندر ہوں گی، وہ خالص منافق ہوگا۔ جس کے اندر ان میں سے ایک خصلت ہوگی، اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہوگی، جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے : جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب معاہدہ کرے تو دھوکہ دے دے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑے تو بد زبانی کرے۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com