آپ ﷺ نے اپنی امت کو لوگوں میں ایک دوسرے کی بات کو غلط طریقے سے نقل کرکے لوگوں کی چغلی کھانے سے ڈرانے کا ارادہ فرمایا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی بات کو استفہام اور سوال کے صیغے سے شروع فرمایا تاکہ دلوں پر زیادہ اثر کرے اور متنبہ کرنے کا باعث بنے۔ آپ ﷺ نے صحابہ سے سوال کیا: العَضْه کیا ہے؟ یعنی جھوٹ اور افترا کیا ہے؟ اس کی تشریح جادو کے ساتھ بھی کی گئی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے خود اس سوال کا جواب دیا کہ العَضْه لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے پیدا کرنے کا نام ہے۔ اس لیے کہ یہی فساد، لوگوں کو تکلیف دینا، محبت کرنے والوں کے دلوں میں تفرقہ ڈالنا، رشتے ختم کرنا اور دلوں کو غصے اور کینہ سے بھرنا جادو کی وجہ سے ہوتا ہے، جس کا لوگوں میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
صحيح مسلم، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب - الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. الجديد في شرح كتاب التوحيد - محمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي - دارسة وتحقيق: محمد بن أحمد سيد أحمد - مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية - الطبعة الخامسة، 1424هـ - 2003م. الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، دار العاصمة، الرياض، الطبعة الأولى، 1422ه - 2001م. القول المفيد على كتاب التوحيد، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين - دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية - الطبعة الثانية، 1424هـ.