سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو سب سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق۔ پھر آپ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : منہ اور شرم گاہ۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكثر ما يُدْخِلُ الناسَ الجنة؟ قال: «تقوى الله وحسن الخلق»، وسئل عن أكثر ما يُدْخِلُ الناسَ النار، فقال: «الفم والفرج».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا، جو سب سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا:”اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق“۔ پھر آپ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا، جو لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”منہ اور شرم گاہ“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہاس حديث کی سند حَسَنْ ہے۔
تشریح

جن اسباب کی بنیاد پر لوگ سب سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے وہ اللہ کا تقویٰ اوراچھے اخلاق ہیں۔ اللہ کا تقویٰ ہر قسم کی حرام اشیا سے اجتناب کر کے ظہور میں آتا ہے اورحسن خلق مخلوق کے ساتھ اچھا برتاؤ کرکے عمل میں آتا ہے۔ کم ترین حسن خلق یہ ہے کہ مخلوق کو تکلیف نہ دی جائے اور اعلی ترین یہ ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ جن اسباب کی بنیاد پر سب سے زیادہ لوگ جہنم میں جائیں گے، وہ منہ اور شرم گاہ ہیں؛ کیوں کہ انسان عموما انہی کی وجہ سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور لوگوں کی مخالفت کرتا ہے۔

حوالہ

مسند الإمام أحمد بن حنبل, تأليف: أبو عبدالله أحمد بن حنبل الشيباني, تحقيق: شعيب الأرنؤوط وعادل مرشد وآخرون, الناشر: دار الرسالة, ط1 عام 1421. سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م. سنن ابن ماجه, تأليف: أبو عبدالله محمد القزويني, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, الناشر: دار إحياء الكتب العربية. السلسلة الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها, تأليف: أبو عبدالرحمن محمد ناصر الدين الألباني, الناشر: مكتبة المعارف, ط1 عام 1415. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح, تأليف: علي بن سلطان القاري, الناشر: دار الفكر, ط1 عام 1422.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com