اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دین اور دنیا سے متعلق سبھی معاملوں میں، شرعی دائرے میں رہ کر، لوگوں کا بوجھ ہلکا کرنے، ان کو آسانی دینے اور دشواری نہ ڈالنے کا حکم دیتے تھے۔ ساتھ ہی خیر کی خوش خبری دینے اور لوگوں کو دین سے نفرت نہ دلانے کی ترغیب دیتے تھے۔
- ایک مؤمن کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ سے محبت دلائے اور اچھے کام کی ترغیب دے۔
- داعی الی اللہ کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینے کے طریقہ کے بارے میں حکمت اپنائے۔
- خوش خبری دینے کے نتیجے میں داعی اور اس کی دعوت کے بارے میں لوگوں کے اندر خوشی، توجہ اور اطمینان کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
- لوگوں کو دشواری میں ڈالنے سے داعی کی بات سے دوری، شکوک و شبہات اور بے رخی پیدا ہوتی ہے۔
- بندوں پر اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ اس نے ان کے لیے ایک کشادگى والے دین اور آسان شریعت کا انتخاب کیا ہے۔
- آسانی سے مراد وہی آسانی ہے، جو شرعی تعلیمات کے عین مطابق ہو۔
صحيح البخاري (1/ 25) (69). صحيح مسلم (3/ 1358) (1732). شرح صحيح البخاري، لابن بطال (1/ 153). إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، لأبو العباس القسطلاني (1/ 169). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 687).