سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ ڈالو، خوش خبری دو اور متنفر نہ کرو“۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ ڈالو، خوش خبری دو اور متنفر نہ کرو“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دین اور دنیا سے متعلق سبھی معاملوں میں، شرعی دائرے میں رہ کر، لوگوں کا بوجھ ہلکا کرنے، ان کو آسانی دینے اور دشواری نہ ڈالنے کا حکم دیتے تھے۔ ساتھ ہی خیر کی خوش خبری دینے اور لوگوں کو دین سے نفرت نہ دلانے کی ترغیب دیتے تھے۔

فوائد
  1. ایک مؤمن کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ سے محبت دلائے اور اچھے کام کی ترغیب دے۔
  2. داعی الی اللہ کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینے کے طریقہ کے بارے میں حکمت اپنائے۔
  3. خوش خبری دینے کے نتیجے میں داعی اور اس کی دعوت کے بارے میں لوگوں کے اندر خوشی، توجہ اور اطمینان کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
  4. لوگوں کو دشواری میں ڈالنے سے داعی کی بات سے دوری، شکوک و شبہات اور بے رخی پیدا ہوتی ہے۔
  5. بندوں پر اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ اس نے ان کے لیے ایک کشادگى والے دین اور آسان شریعت کا انتخاب کیا ہے۔
  6. آسانی سے مراد وہی آسانی ہے، جو شرعی تعلیمات کے عین مطابق ہو۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 25) (69). صحيح مسلم (3/ 1358) (1732). شرح صحيح البخاري، لابن بطال (1/ 153). إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، لأبو العباس القسطلاني (1/ 169). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 687).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com