سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں گھر کی ضمانت لیتا ہوں جو حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑ دے۔

عن أبي أمامة الباهلي رضي الله عنه مرفوعاً: «أنا زعيم ببيت في رَبَضِ الجنة لمن ترك المِرَاءَ وإن كان مُحِقًّا، وببيت في وسط الجنة لمن ترك الكذب وإن كان مازحاً، وببيت في أعلى الجنة لمن حَسَّنَ خلقه»
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں گھر دیے جانے کی ضمانت لیتا ہوں جو حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑ دے اور اس شخص کے لیے جنت کے درمیان میں گھر کا ضامن ہوں جو مذاق میں بھی جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور اس شخص کے لیے جنت کے بالائی حصے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو اچھےاخلاق کا مالک بن جائے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

نبی ﷺ نے خبر دی کہ وہ جنت کے باہر اس کے گرد و نواح میں اس شخص کے لیے گھر کی ضمانت دیتے ہیں جو حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑدے کیونکہ اس میں وقت کا ضیاع ہے اور اس سے دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ اس شخص کے لیے جنت کے بیچوں بیچ گھر کے ضامن ہیں جو ازراہ مزاح بھی جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور خلافِ واقع کوئی بات نہ کہتا ہو اور اسی طرح اس شخص کے لیے آپ ﷺ نے جنت کے بالائی حصے میں گھر کی ضمانت دی جو اچھے اخلاق کو اپنا لیتا ہے چاہے ایسا وہ اپنے نفس کو ان کا عادی بنا کر اور ان کی مشق کرا کر ہی کیوں نہ کرے۔

حوالہ

سنن أبو داود, تأليف: أبو داود سليمان بن الأشعث السجستاني, تحقيق: شعيب الأرنؤوط, الناشر: دار الرسالة العالمية, ط1 عام 1430. حجة النبي صلى الله عليه وسلم كما رواها عنه جابر رضي الله عنه, تأليف: محمد ناصر الدين الألباني, الناشر: المكتب الإسلامي, ط5 عام 1399. رياض الصالحين, تأليف: أبي زكريا يحيى بن شرف النووي الدمشقي, تحقيق: عصام موسى هادي, الناشر: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية بقطر, ط4 1428. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين, تأليف: محمد علي بن محمد بن علان, اعتنى بها: خليل مأمون شيحا, الناشر: دار المعرفة, ط4 عام 1425.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com