سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيطَان».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”گھنٹی شیطان کی بانسری (باجا) ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ فرما رہے ہیں کہ گھنٹیاں جو چوپایوں پر (ان کے گلوں وغیرہ میں) لٹکائی جاتی ہیں وہ شیطان کے آلات میں سے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے اولیاء کو مشغول رکھتا ہے اور انہیں ان کے مقصد حیات سے پھیر دیتا ہے۔ رہی وہ گھنٹیاں جو گھروں اور مدرسوں میں استعمال کی جاتی ہیں تو ان کے متعلق سعودی عرب کی مستقل فتوی کمیٹی نے فتوی دیا کہ وہ جائز ہیں جبکہ اس میں کوئی حرام کردہ چیز نہ ہو جیسے اس گھنٹی کا عیسائیوں کی گھنٹیوں سے مشابہ ہونا یا پھر اس گھنٹی میں موسیقی کا پایا جانا تب تو وہ گھنٹی حرام ہوگی۔

حوالہ

نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ. كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ. فتاوى اللجنة الدائمة بالمملكة العربية السعودية.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
گناہوں کی مذمت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com