عبد اللہ بن عمرو بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے کہ قتل کے معاملے میں اللہ کے نزدیک سب سے سرکش لوگ تین ہیں: پہلا وہ جس نے اللہ کے پر امن حرم یعنی مکہ کے اندر کسی کو ناحق قتل کر دیا۔ کیونکہ کسی کو ناحق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے اور قتل کی واردات جب حرم کے اندر ہو، تو اس کی حرمت اور گناہ اور بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : {ومن يُرِدْ فيه بإلحاد بظلم نُذِقْهُ من عذاب أليم } [الحج، آیت نمبر:25] یعنی جو بھی وہاں ظلم کے ساتھ الحاد کا ارادہ کرے گا، ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔ ساتھ ہی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث میں ہے : "بے شک تمھارا خون، تمھاری عزت و آبرو اور تمھارے اموال تمھارے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح تمھارے اس شہر میں تمھارا یہ مہینہ قابل احترام ہے"۔ [اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ حدیث نمبر : 1218] دوسرا وہ آدمی، جو اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : {ولا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أخرى} [الأنعام: 164] یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آدمی اپنے قاتل کو علاوہ کسی اور کا قتل کر دے یا اس کے ساتھ کسی اور کو بھی مار دے۔ دراصل ان تین وجوہات کی بنا پر کسی کا خون بہا دینا دور جاہلیت کی عادت تھی، جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ تیسرا وہ آدمی، جو دور جاہلیت کی عداوتوں اور انتقاموں کی وجہ سے، جن کو اسلام نے کالعدم قرار دے دیا ہے، قتل کرے۔ لیکن علما نے دو لوگوں کو اس سے مستثنی قرار دیا ہے۔ ایک وہ شخص جو اپنے بچاو میں کسی کا قتل کر دے، جب قتل کے علاوہ کوئی صورت نہ بچی ہو اور دوسرا وہ شخص جو حرم کے اندر کوئی جرم کرے، جس سے اس کا قتل مباح ہو جائے، جیسے قتل عمد وغیرہ۔ ایسا اس لیے، تاکہ حرم جرائم کا ذریعہ نہ بن جائے۔
صحيح البخاري، المحقق: محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة : الأولى 1422هـ. الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان، محمد بن حبان أبو حاتم، البُستي، ترتيب: الأمير علاء الدين علي بن بلبان الفارسي،حققه وخرج أحاديثه وعلق عليه: شعيب الأرنؤوط، الناشر: مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى، 1408 هـ - 1988 م. مسند الإمام أحمد بن حنبل المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي مؤسسة الرسالة الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، المكتبة الإسلامية، القاهرة،الطبعة الأولى، 1427هـ. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، الطبعة الخامسة، 1423. منحة العلام شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لأحمد بن علي بن حجر العسقلاني، تحقيق وتخريج وتعليق: سمير بن أمين الزهيري-الناشر: دار الفلق – الرياض-الطبعة: السابعة، 1424 هـ. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، لصالح الفوزان، اعتناء عبد السلام السلمان، الرياض، الطبعة الأولى، 1427.