سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

عام اذکار

7 احادیث

سب سے افضل ذکر "لا الہ الا اللہ" اور سب سے افضل دعا "الحمد للہ" ہے۔

عن جابر رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أَفْضَلُ الذِّكْرِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ: الْحَمْدُ لِلهِ».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : "سب سے افضل ذکر "لا الہ الا اللہ" اور سب سے افضل دعا "الحمد للہ" ہے۔"
رواه الترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجهدرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں بتا رہے ہیں کہ سب سے افضل ذکر "لا الہ الا اللہ" ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہيں ہے۔ جب کہ سب سے افضل دعا "الحمد للہ" ہے، جو اس بات کا اعتراف ہے کہ اصل منعم اللہ سبحانہ و تعالی ہے، جو کامل و جمیل وصف کا مستحق ہے۔

فوائد
  1. کلمۂ توحید کے ذریعے اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرنے اور حمد و ثنا کے ذریعے بہت زیادہ دعا کرنے کی ترغیب۔
حوالہ

سنن الترمذي (5/ 393) (3383). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 984). زاد المعاد في هدي خير العباد، ابن قيم الجوزية (1/ 36).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلام چار ہيں؛ سبحان اللہ (اللہ پاک ہے)، الحمد للہ (ساری تعریف اللہ کی ہے)، لا الہ الا اللہ (اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہيں ہے) اور اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے)۔ تم ان میں سے جسے چاہو پہلے کہو، حرج کی کوئی بات نہیں ہے۔

عن سَمُرَة بن جندبٍ رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللهِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ».
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلام چار ہيں؛ سبحان اللہ (اللہ پاک ہے)، الحمد للہ (ساری تعریف اللہ کی ہے)، لا الہ الا اللہ (اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہيں ہے) اور اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے)۔ تم ان میں سے جسے چاہو پہلے کہو، حرج کی کوئی بات نہیں ہے۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلام چار ہيں: سبحان اللہ : اس کا مطلب ہے اللہ کو ہر نقص اور کمی سے پاک قرار دینا۔ الحمد للہ : اس کا مطلب ہے اللہ کو ہر قسم کے کمال سے متصف کرنا اور ساتھ میں اس سے محبت بھی رکھنا اور اس کی تعظیم بھی کرنا۔ لا الہ الا اللہ : یعنی اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں ہے۔ اللہ اکبر : یعنی اللہ ہر چیز سے زیادہ طاقت ور، عظیم اور عزت والا ہے۔ ساتھ میں آپ نے یہ بھی بتایا کہ ان کلمات کی فضیلت اور ان کے ثواب کا حصول ان کو بولتے وقت ان کی ترتیب قائم رکھنے کا تقاضا نہيں کرتا۔

فوائد
  1. شریعت اسلامی ایک آسان شریعت ہے۔ اسی وجہ سے اس نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ انسان ان چار کلمات میں سے جسے چاہے پہلے پڑھے۔
حوالہ

صحيح مسلم (3/ 1685) (2137)، (4/ 2093) (2731)، (4/ 2072) (2695). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 540). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 411). فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 477). سبل السلام بشرح بلوغ المرام، للصنعاني (2/ 706).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہ کلمے باقیات صالحات (یعنی باقی رہنے والی نیکیاں) ہیں : ”لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَاَللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بِاَللَّهِ“۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ، لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَاَللَّهُ أَكْبَرُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بِاَللَّهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کلمے باقیات صالحات (یعنی باقی رہنے والی نیکیاں) ہیں : ”لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَاَللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بِاَللَّهِ“۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔درجہیہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
تشریح

اس حديث ميں ان الفاظ كے ساتھ ذكر كرنے کی فضیلت کا بیان ہے کیونکہ ان میں اللہ تعالی کی تسبیح، تقدیس اور تعظیم کے معانی پائے جاتے ہیں اور اس لئے بھی کہ ان میں اللہ کے افعال پر اس کی حمد بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ اللہ کی مشیئت کے بغیر بندہ کوئی تدبیر، یا کوئی حرکت نہیں کرسکتا اور نہ اس کی کوئی قوت واستطاعت ہے۔ پس اللہ جل وعلا کی توفیق کے بغیر نہ شر کو دور کرنے کی طاقت ہے اور نہ ہی بھلائی حاصل کرنے کی قوت۔ ان عظیم الشان معانی پر مشتمل یہ کلمات ایسے ہیں جن کا اثر اور فائدہ مومن کے لیے اس کی موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔

حوالہ

الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان، لمحمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي، ترتيب: الأمير علاء الدين علي بن بلبان الفارسي، حققه وخرج أحاديثه وعلق عليه: شعيب الأرنؤوط، ط مؤسسة الرسالة، بيروت. المستدرك على الصحيحين، لأبي عبد الله الحاكم محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه النيسابوري المعروف بابن البيع، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا، ط دار الكتب العلمية – بيروت. السنن الكبرى، لأبي عبد الرحمن أحمد بن شعيب بن علي الخراساني، النسائي، تحقق: حسن عبد المنعم شلبي، ط مؤسسة الرسالة – بيروت. سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، لأبي عبد الرحمن محمد ناصر الدين، بن الحاج نوح بن نجاتي بن آدم الألباني، ط مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، الشيخ عبد الله بن عبد الرحمن البسام، ط مكتبة الأسد الإسلامية، الطبعة الخامسة. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، الشيخ عبد الله بن صالح الفوزان، ط دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، الشيخ صالح الفوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بها عبد السلام بن عبد الله السليمان، الطبعة الأولى. فتح ذي الجلال والإكرام، الشيخ محمد بن صالح العثيمين، ط المكتبة الإسلامية، الطبعة الأولى. سبل السلام بشرح بلوغ المرام، للإمام محمد بن إسماعيل الصنعاني، ط دار الحديث.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر بڑے ہلکے ہیں، میزان میں بڑے وزنی ہیں، رحمٰن کو بڑے محبوب ہیں

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر بڑے ہلکے ہیں، میزان میں بڑے وزنی ہیں، رحمٰن کو بڑے محبوب ہیں۔ وہ دونوں کلمے ہيں : ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو ایسے جملے بتائے ہيں، جو انسان آسانی سے اور ہر حالت میں بول سکتا ہے، جن کا اجر میزان میں بڑا بھاری ہے اور ہمارا رحمت والا رب ان کو محبوب رکھتا ہے۔ یہ دو جملے ہيں : ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ“ کیوں کہ ان کے اندر اللہ کی عظمت اور اس کے کمال کو بیان کیا گیا ہے اور اللہ تبارک وتعالی کو سارے نقائص سے پاک بتایا گیا ہے۔

فوائد
  1. سب سے عظیم ذکر یہ ہے کہ اس میں اللہ کی پاکی اور اس کی تعریف دونوں ہوں۔
  2. بندوں پر اللہ کی وسیع رحمت کا بیان کہ وہ تھوڑے سے عمل کا بدلہ بہت بڑا دیتا ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 86) (6406). صحيح مسلم (4/ 2072) (2694). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 480). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (6/ 519).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

’’لوگ جب کسی ایسی محفل میں بیٹھیں، جس میں نہ اللہ کو یاد کریں اور نہ اپنے نبی پر درود بھیجیں، تو وہ (محفل) ان کے لیے باعثِ نقصان ہوگی۔ پھر اگر (اللہ تعالی) چاہے تو انھیں عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کردے۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ إِلاَّ كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً، فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’لوگ جب کسی ایسی محفل میں بیٹھیں، جس میں نہ اللہ کو یاد کریں اور نہ اپنے نبی پر درود بھیجیں، تو وہ (محفل) ان کے لیے باعثِ نقصان ہوگی۔ پھر اگر (اللہ تعالی) چاہے تو انھیں عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کردے۔‘‘
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرىدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے ذکر سے غفلت برتنے سے خبردار کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں سے اللہ کا ذکر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجے بغیر اٹھ گئے، تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے حق میں حسرت، ندامت، خسارہ اور نقصان کا سامان ہوگی۔ ایسے میں اگر اللہ چاہے گا، تو ان کو ان کے سابقہ گناہوں اور بعد میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں کے پیش نظر عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو اپنے فضل و کرم کی بنا پر معاف کر دے گا۔

فوائد
  1. ذکر کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان۔
  2. ایسی مجلسوں کی فضیلت جن میں اللہ کا ذکر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر کیا جائے۔ جو مجلسیں ان دونوں باتوں سے خالی ہوں، وہ قیامت کے دن وہاں بیٹھنے والوں کے لیے باعث نقصان ہوں گی۔
  3. ذکرِ الٰہی سے غافل ہونے کی تنبیہ صرف مجالس تک محدود نہیں ہے، بلکہ دیگر جگہوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو شخص کسی جگہ بیٹھ جائے اس کے لیے اس جگہ کو اللہ کا ذکر کرنے سے پہلے چھوڑنا ناپسندیدہ ہے۔
  4. قیامت کے دن حسرت وندامت یا تو وقت کا استعمال اللہ کی بندگی میں نہ کرنے کی وجہ سے اجر و ثواب سے محرومی کے سبب ہوگی یا پھر اللہ کی نافرمانی کے کاموں میں وقت گزارنے کی بنا پر گناہ و سزا کو سامنے دیکھ کر۔
  5. جب جائز کاموں میں مشغول ہوکر اللہ کے ذکر سے غافل ہونے والے کے لیے یہ تنبیہ ہے، تو ان حرام مجلسوں کا کیا حال ہوگا، جن میں غیبت اور چغل خوری وغیرہ ہوتی ہو۔
حوالہ

سنن أبي داود (7/ 221) (4855). سنن الترمذي (5/ 391) (3380). السنن الكبرى للنسائي (9/ 155) (10163). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله البسام (7/ 524). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 396). فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 464).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ“ (اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کی ہیں، اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے) کہنا میرے نزدیک ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج نکلتا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لَأَنْ أَقُولَ: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ“ (اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کی ہیں، اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے) کہنا میرے نزدیک ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج نکلتا ہے۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ ان عظیم کلمات کے ذریعے اللہ کا ذکر کرنا اللہ اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے, اور وہ یہ ہیں۔ "سبحان الله" : ان کلمات کے ذریعے تمام نقائص سے اللہ کی پاکی بیان کی جاتی ہے۔ "الحمد لله" : ان کے ذریعے اللہ تعالی کو اس کی محبت اور تعظیم کے ساتھ اوصاف کمال سے متصف کیا جاتا ہے۔ "لا إله إلا الله" : یعنی اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہيں ہے۔ "الله أكبر" : اللہ ہر چیز سے بڑا اور جلیل القدر ہے۔

فوائد
  1. اللہ کے ذکر کی ترغیب اور اس بات کا بیان کہ اللہ کا ذکر ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔
  2. اللہ کے ذکر کے اجر و ثواب کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کی ترغیب۔
  3. دنیا سے لطف اندوز ہونے کا موقع بہت مختصر ہے اور اس کی من موہک چیزيں فنا ہو جانے والی ہیں۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2072) (2695). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 496). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 485). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 970). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل المبارك (ص772).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے) کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں۔

عن أبي سعيد الخدري وأبي هريرة رضي الله عنهما أَنهُما شَهِدَا عَلَى رسول اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم- أَنه قالَ: «من قال: لا إله إلا الله والله أكبر، صَدَّقه ربه، فقال: لا إله إلا أنا وأنا أكبر. وإذا قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، قال: يقول: لا إله إلا أنا وَحدِي لا شريك لي. وإذا قال: لا إله إلا الله له الملك وله الحمد، قال: لا إله إلا أنا لي الملك ولي الحمد. وإذا قال: لا إله إلا الله ولا حول ولا قوة إلا بالله، قال: لا إله إلا أنا ولا حول ولا قوة إلا بي» وكان يقول: «من قالها في مرضه ثم مات لم تَطْعَمْهُ النار».
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ“ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے) کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَہ‘‘ (اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے) کہتا ہے، تو آپ نے فرمایا ”اللہ کہتا ہے (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور جب کہتا ہے ’’ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ‘‘ (اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں) تو اللہ کہتا ہے، (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میرا کوئی شریک نہیں ہے، اور جب کہتا ہے ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے) تو اللہ کہتا ہے ’’کوئی معبود برحق نہیں مگر میں، میرے لیے ہی بادشاہت ہے اور میرے لیے ہی حمد ہے ‘‘ اور جب کہتا ہے ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور گناہ سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) تو اللہ کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور گناہوں سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی قوت نہیں ہے مگر میری توفیق سے، اور آپ فرماتے تھے جو ان کلمات کو اپنی بیماری میں کہے اور مر جائے تو (جہنم کی) آگ اسے نہ کھائے گی“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب بندہ ’’لا إله إلا الله، الله أكبر‘‘ کہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’بے شک میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں‘‘۔ جب بندہ کہتا ہے ’’الله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله‘‘، اس پر بھی اللہ تعالی اس کی تصدیق کرتا ہے۔پس جو شخص ’’لا إله إلا الله، ولا حول ولا قوة إلا بالله‘‘ کہہ کر بقیہ ذکر کے ساتھ مر جائے، جہنم کی آگ اسے نہیں کھاتی یعنی یہ انسان پر جہنم کی آگ کے حرام ہونے کا ایک سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اس ذکر (دُعا) کو یاد رکھے اور اپنی بیماری کی حالت میں کثرت سے اسے پڑھتا رہے کہ ان شاء اللہ اس کا خاتمہ بالخیر ہو۔

حوالہ

1- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. 2- الجامع الصحيح –وهو سنن الترمذي-؛ للإمام محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وآخرين، مكتبة الحلبي-مصر، الطبعة الثانية، 1388هـ. 3- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. 4- سلسلة الأحاديث الصحيحة؛ للشيخ محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف-الرياض، 1415هـ. 5- سنن ابن ماجه؛ للحافظ محمد بن يزيد القزويني، حققه محمد فؤاد عبدالباقي، دار إحياء الكتب العربية. 6- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. 7- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com