سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جو شخص ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے) کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں۔

عن أبي سعيد الخدري وأبي هريرة رضي الله عنهما أَنهُما شَهِدَا عَلَى رسول اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم- أَنه قالَ: «من قال: لا إله إلا الله والله أكبر، صَدَّقه ربه، فقال: لا إله إلا أنا وأنا أكبر. وإذا قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، قال: يقول: لا إله إلا أنا وَحدِي لا شريك لي. وإذا قال: لا إله إلا الله له الملك وله الحمد، قال: لا إله إلا أنا لي الملك ولي الحمد. وإذا قال: لا إله إلا الله ولا حول ولا قوة إلا بالله، قال: لا إله إلا أنا ولا حول ولا قوة إلا بي» وكان يقول: «من قالها في مرضه ثم مات لم تَطْعَمْهُ النار».
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ“ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے) کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَہ‘‘ (اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے) کہتا ہے، تو آپ نے فرمایا ”اللہ کہتا ہے (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور جب کہتا ہے ’’ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ‘‘ (اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں) تو اللہ کہتا ہے، (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میرا کوئی شریک نہیں ہے، اور جب کہتا ہے ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے) تو اللہ کہتا ہے ’’کوئی معبود برحق نہیں مگر میں، میرے لیے ہی بادشاہت ہے اور میرے لیے ہی حمد ہے ‘‘ اور جب کہتا ہے ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور گناہ سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) تو اللہ کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور گناہوں سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی قوت نہیں ہے مگر میری توفیق سے، اور آپ فرماتے تھے جو ان کلمات کو اپنی بیماری میں کہے اور مر جائے تو (جہنم کی) آگ اسے نہ کھائے گی“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب بندہ ’’لا إله إلا الله، الله أكبر‘‘ کہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’بے شک میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں‘‘۔ جب بندہ کہتا ہے ’’الله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله‘‘، اس پر بھی اللہ تعالی اس کی تصدیق کرتا ہے۔پس جو شخص ’’لا إله إلا الله، ولا حول ولا قوة إلا بالله‘‘ کہہ کر بقیہ ذکر کے ساتھ مر جائے، جہنم کی آگ اسے نہیں کھاتی یعنی یہ انسان پر جہنم کی آگ کے حرام ہونے کا ایک سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اس ذکر (دُعا) کو یاد رکھے اور اپنی بیماری کی حالت میں کثرت سے اسے پڑھتا رہے کہ ان شاء اللہ اس کا خاتمہ بالخیر ہو۔

حوالہ

1- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. 2- الجامع الصحيح –وهو سنن الترمذي-؛ للإمام محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وآخرين، مكتبة الحلبي-مصر، الطبعة الثانية، 1388هـ. 3- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. 4- سلسلة الأحاديث الصحيحة؛ للشيخ محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف-الرياض، 1415هـ. 5- سنن ابن ماجه؛ للحافظ محمد بن يزيد القزويني، حققه محمد فؤاد عبدالباقي، دار إحياء الكتب العربية. 6- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. 7- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ذکر اللہ کے فوائد

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com