سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ذکر اللہ کے فوائد

13 احادیث

جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے، تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: یہاں نہ تمھارے لیے رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ رات کے کھانے کی گنجائش

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ، فَذَكَرَ اللهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ، وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ، فَلَمْ يَذْكُرِ اللهَ عِنْدَ دُخُولِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللهَ عِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہتے ہوئے سنا: "جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے، تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: یہاں نہ تمھارے لیے رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ رات کے کھانے کی گنجائش۔ اور جب وہ گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہيں لیتا، تو شیطان کہتا ہے: تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی اور جب کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا، تو کہتا ہے : تم نے رات بتانے کی جگہ اور رات کا کھانا دونوں پا لیا۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھانے سے پہلے اللہ کا نام لینے کا حکم دیا ہے۔ جب کوئی شخص گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت بسم اللہ کہتا ہے، تو شیطان اپنے معاونوں سے کہتا ہے کہ تمھارے لیے اس گھر میں رات گزارنے کی جگہ اور رات کے کھانے کی گنجائش نہیں ہے، کیوں کہ گھر کے مالک نے تم سے اللہ کی پناہ لے لی ہے۔ اس کے برخلاف جب کوئی شخص گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا، تو شیطان اپنے معاونوں سے کہتا ہے کہ اس گھر میں ان کے رات گزارنے اور کھانے کا انتظام ہو گیا ہے۔

فوائد
  1. گھر میں داخل ہوتے اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لینا مستحب ہے۔ کیوں کہ اللہ کا نام نہ لینے کی صورت میں شیطان گھر میں رات گزارتا ہے اور کھانے میں شریک ہو جاتا ہے۔
  2. شیطان انسان کے ہر کام کو دھیان سے دیکھتا رہتا ہے اور جیسے ہی انسان اللہ کے نام سے غافل ہوتا ہے، اس کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔
  3. اللہ کا ذکر شیطان کو بھگانے کا کام کرتا ہے۔
  4. ہر شیطان کے کچھ پیروکار اور معاونین ہوتے ہیں، جو اس کی بات سے خوش ہوتے ہیں اور اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
حوالہ

صحيح مسلم (3/ 1598) (2018). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 50). تطريز رياض الصالحين، لفيصل المبارك (ص467). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 190). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 700).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق کام کرتا ہوں اور ميں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُ، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا، تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا، اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق کام کرتا ہوں اور ميں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے جی میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ کسی مجلس میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں ایسی مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں جو اس سے بہتر ہوتی ہے۔ جو ایک بالشت میرے قریب آتا ہے میں ایک ہاتھ اُس کے قریب آتا ہوں، جو ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے میں دو ہاتھ اُس کے قریب آتا ہوں، اور جب وہ ميری طرف چلتا ہوا آتا ہے میں اس کی طرف دوڑتا ہوا آتا ہوں“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی حدیث قدسی میں فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق کام کرتا ہوں۔ اس کے ساتھ میرا برتاؤ ویسا ہی رہتا ہے، جیسا وہ میرے بارے میں سوچتا ہے۔ اچھا تو اچھا اور برا تو برا۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، تو میری رحمت، توفیق، تائید، ہدایت اور حمایت اس کے ساتھ رہتی ہے۔ اگر وہ تنہائی میں میری تسبیح وتہلیل وغیرہ کرتا ہے اور اس طرح مجھے یاد کرتا ہے، تو میں اسے تنہائی میں یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ مجھ کو کسی جماعت کے درمیان یاد کرتا ہے، تو میں اسے کہیں بڑی اور مقدس جماعت کے درمیان یاد کرتا ہوں۔ جو اللہ کی جانب ایک بالشت کے برابر بڑھتا ہے، اللہ اس کی جانب ایک ہاتھ کے برابر بڑھتا ہے۔ جو اللہ کی جانب ایک ہاتھ بڑھتا ہے، اللہ اس کی جانب دو ہاتھ بڑھتا ہے۔ جو اللہ کی جانب چل کر آتا ہے، اللہ اس کی جانب دوڑ کر جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ جب بندہ اپنے رب کی جانب اس کی اطاعت گزاری اور بندگی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، تو اللہ تعالی اسے اپنے سے اور قریب کر لیتا ہے، کیوں کہ بدلہ عمل کی جنس سے ہی ملتا ہے۔ مومن کی بندگی جتنی مکمل ہوگی، اللہ اس سے اتنا ہی قریب ہوگا۔ اللہ کی نوازش اور اس کا ثواب ہر اعتبار سے بندے کے عمل اور کد وکاوش سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ سے اچھا گمان رکھے، سر گرم عمل رہے اور اس کا یہ جذبۂ عمل اللہ سے ملنے تک فزوں تر ہوتا چلا جائے۔

فوائد
  1. یہ حدیث ان حدیثوں میں سے ایک ہے، جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ حدیث ہے، جس کے لفظ اور معنی دونوں اللہ کے ہوں۔ البتہ اس کے اندر قرآن کی امتیازی خصوصیات، جیسے اس کی تلاوت کا عبادت ہونا، اس کے لیے طہارت حاصل کرنا اور اس کے ذریعہ تحدی وچیلینج دیا جانا اوراس کا معجزہ ہونا وغیرہ نہیں پائی جاتیں۔
  2. آجری کہتے ہيں: "اہل حق اللہ عز و جل کے وہی اوصاف بیان کرتے ہیں جو خود اللہ تبارک و تعالی اپنے لیے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کے لیے بیان کیے ہیں۔ یہی اتباع سنت کے علم بردار اور بدعت سے گریزاں رہنے والے علما کا مسلک ہے۔" اہل سنت اللہ تبارک و تعالی کے انھیں اسما وصفات کو ثابت کرتے ہیں جنھیں خود اللہ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے، بغير كسی تحریف، تعطلیل، تکییف اور تمثیل کے۔ اللہ کی ذات سے ان اسما وصفات کی نفی کرتے ہیں، جن کی نفی اس نے خود کی ہے اور جن اسما وصفات کے بارے میں نفی واثبات وارد نہ ہوا ہو، ان کے بارے میں خاموش رہتے ہيں۔ اللہ تعالی نے کہا: "اس کے جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے"۔
  3. اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کے ساتھ ساتھ عمل بھی ضروری ہے۔ حسن بصری کہتے ہيں: ایک مومن اپنے رب سے حسن ظن رکھتا ہے اور اچھا عمل کرتا ہے، جب کہ ایک فاجر اپنے رب سے بدظن رہتا اور برا عمل کرتا ہے۔
  4. قرطبی کہتے ہیں: کچھ لوگ کہتے ہیں: "میں اپنے بندے کے گمان کے قریب ہوں" سے مراد دعا کے وقت نوازش کا گمان، توبہ کے وقت قبولیت کا گمان، مغفرت طلب کرتے وقت بخشش کا گمان اور شروط کو پورا کرتے ہوئے عبادت کرتے وقت اجر وثواب کا گمان جو اللہ کے برحق وعدہ کے مطابق ہے۔ اس لیے بندے کو اپنی ذمے داریاں پورے تن من سے اس یقین کے ساتھ ادا کرنی چاہیے کہ اللہ قبول کرے گا اور بخشش عطا کرے گا۔ کیوں کہ یہ اس کا وعدہ ہے اور وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے۔ اس کے بر خلاف اگر کسی کا اعتقاد ہو یا اسے گمان ہو کہ اللہ اس کی عبادت قبول نہیں کرے گا یا اس سے اس کو کوئی فائدہ نہيں ہوگا تو یہ اللہ کی رحمت سے مایوسی ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔ اس پر مرنے والے انسان کے ساتھ اس کے ظن کے مطابق ہی برتاؤ کیا جائے گا، جیسا کہ اس حدیث کے بعض طرق میں آیا ہے : "لہذا میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان چاہے رکھے۔" وہ کہتے ہیں: جہاں (کسی گناہ پر اصرار کے ساتھ) مغفرت کا گمان رکھنے کی بات ہے، تو یہ محض جہالت اور دھوکہ ہے۔
  5. زبان اور دل دونوں سے زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کی ترغیب۔ انسان کے دل میں اللہ کا خوف جاگزیں ہو، اس کی عظمت اور حق کی یاد زندہ ہو، اس سے امید وابستہ رہے، عظمت ومحبت رہے، حسن ظن رہے، خالص اسی کے لیے عمل کرنے کا جذبہ موجزن رہے اور زبان پر سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر اور لا حول ولا قوۃ الا باللہ کا ورد جاری ہے۔
  6. ابن ابو جمرہ کہتے ہيں: جو خوف کے عالم میں اللہ کو یاد کرے گا، اسے امن و سکون ملے گا اور جو وحشت کے عالم میں اسے یاد کرے گا، اسے انسیت ملے گی۔
  7. شِبر: اسے اردو میں بالشت کہتے ہیں۔ اسے مراد ہے ہتھیلی کو پھیلا دینے کے بعد خنصر کے کنارے سے انگوٹھے کے کنارے تک کی دوری۔ ذراع : درمیان انگلی کے کنارے سے کہنی کی ہڈی تک کی مسافت۔ باع : دونوں ہاتھوں، بازووں اور سینے کی چوڑائی کی مسافت۔ سب ملاکر کل چار ہاتھ ہوا کرتے ہيں۔
حوالہ

صحيح البخاري (9/ 121) (7405). صحيح مسلم (4/ 2067) (2675). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 151). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 516). منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، حمزة محمد (5/ 372). الجواب الكافي لمن سأل عن الدواء الشافي أو الداء والدواء (ص25). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 510). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 983).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

’’شیطان تم میں سے ہر آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مارتا ہے کہ سوجا، ابھی رات بہت باقی ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلاَثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ كُلَّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ، فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلاَنَ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’شیطان تم میں سے ہر آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مارتا ہے کہ سوجا، ابھی رات بہت باقی ہے۔ پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کو یاد کرنے لگے تو ایک گرہ کھُل جاتی ہے۔ پھر اگر وضو کر لے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر نماز پڑھے تو ایک اور گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق وچو بند اور خوش مزاج رہتا ہے۔ ورنہ غمگین اور سست رہتا ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب انسان تہجد یا فجر کی نماز کے لیے اٹھنا چاہتا ہے، تو کس طرح شيطان اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک مومن شخص جب سو جاتا ہے، تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے میں تین گرہیں لگا دیتا ہے۔ چنانچہ جب وہ جاگ کر اللہ کو یاد کرتا ہے اور شیطان کے وسوسوں کو خلل ڈالنے نہيں دیتا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر وضو کرتا ہے، تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ نتیجے کے طور انسان صبح اس حال میں کرتا ہے کہ وه خوش مزاج اور چاق وچوبند رہتا ہے کیوں کہ طاعت کے لئے توفیق الہی ملنے کى وجہ سے وہ مسرور ہوتا ہے ساتھ ہی اللہ نے جو ثواب ومغرفت کا وعدہ کیا ہے اس سے اچھی امید رکھتا ہے اور اس بات پر بھی خوش ہوتا ہے کہ شیطان کے ہتھکنڈے ناکام ہو گئے۔ اس کے برعکس اگر وہ عبادت کے لیے کھڑا نہيں ہوا، تو اس کی صبح بدمزاجی، کبیدگی اور بھلائی و نیکی کے کاموں میں سستی کے ساتھ ہوتی ہے۔ کیوں کہ دراصل وہ شیطانى زنجیر میں قید اور رحمن کی قربت سے دور کر دیا گیا ہوتا ہے۔

فوائد
  1. شیطان کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ کی عبادت کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کی جائے اور بندہ شیطان کے ہتھکنڈوں سے اسی صورت میں بچ سکتا ہے، جب اللہ عز و جل کی مدد حاصل کرے اور وقایت و تحفظ کے راستوں کو اپنائے۔
  2. اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت انسان کے اندر چستی اور نشاط لاتی ہے، اسے قلبی مسرت عطا کرتی ہے، کاہلی اور سستی دور کرتی ہے اور بے چینی اور ناراضگی ختم کرتی ہے۔ کیوں کہ ذکر و عبادت شیطان کو دور بھگاتی ہے اور مذکورہ چيزیں شیطان کے وسوسے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔
  3. مومن اللہ تعالیٰ کی جانب سے عبادت کی توفیق ملنے پر خوش اور فضل و کمال کے درجات کے حصول میں پیچھے رہ جانے پر کبیدہ خاطر ہوتا ہے۔
  4. غفلت اور نیکی کے کاموں سے دوری میں شیطان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ دراصل وہ ان چیزوں کو انسان کے سامنے خوش نما بناکر پیش کرتا ہے۔
  5. مذکورہ تینوں چیزیں -اللہ کا ذکر، وضو اور نماز- شیطان کو دور بھگانے کا کام کرتی ہیں۔
  6. شیطان کے ذریعے سر کے پچھلے حصے ہی میں گرہیں اس لیے لگائی جاتی ہیں کہ وہی ساری قوتوں کا سرچشمہ ہے اور وہیں سے پورے جسم کا نظام چلتا ہے۔ لہذا اس پر گرہیں لگا دینے کے بعد انسان کی روح پر قابض ہونا اور اس پر نیند طاری کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
  7. ابن حجر عسقلانی کہتے ہيں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے قول "عليك ليل" میں رات کا ذکر بظاہر یہ بتلاتا ہے کہ یہ بات رات کی نیند کے ساتھ خاص ہے۔
  8. ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں: ذکر کے لیے کوئی چيز اس طرح مخصوص نہيں ہے کہ دوسری چيز کافی نہ ہو۔ ہر وہ چيز کافی ہے، جس پر "اللہ کا ذکر" کے الفاظ صادق آتے ہوں۔ اس کے دائرے مں قرآن کی تلاوت، حدیث نبوی پڑھنا اور علم شرعی میں مشغول رہنا بھی آتے ہيں۔ البتہ سب سے اچھا یہ ہے کہ اللہ کا ذکر اس حدیث نبوی میں وارد الفاظ کے ذریعے کیا جائے : "جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له،‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير‏، الحمد لله،‏‏‏‏ وسبحان الله،‏‏‏‏ ولا إله إلا الله،‏‏‏‏ والله أكبر،‏‏‏‏ ولا حول ولا قوة إلا بالله‏» (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے، تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کی ہیں‘ اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی کو گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قدرت۔) پھر کہے : اے اللہ! میری مغفرت فرما، یا کوئی دعا کرے، تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر اگر وہ وضو کرے (اور نماز پڑھے)، تو نماز بھی مقبول ہوتی ہے)۔ صحیح بخاری۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 52) (1142). صحيح مسلم (1/ 538) (776). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 328). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 834). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (15/ 305). فتح الباري شرح صحيح البخاري، لأحمد العسقلاني (10/ 564). طرح التثريب في شرح التقريب، العراقي (3/ 82).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ہر دن ایک ہزار نیکیاں کما لے؟۔ آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھے لوگوں میں سے ایک شخص نے پوچھا: آدمی ہزار نیکیاں کیسے کما سکتا ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ سو دفعہ سبحان اللہ کہے، اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں یا اس کے ایک ہزار گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

عَنْ سَعْدِ بنِ أبي وَقَّاصٍ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ، كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟» فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ: «يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ، فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ، أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ».
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے حضور بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ہر دن ایک ہزار نیکیاں کما لے؟۔ آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھے لوگوں میں سے ایک شخص نے پوچھا: آدمی ہزار نیکیاں کیسے کما سکتا ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ سو دفعہ سبحان اللہ کہے، اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں یا اس کے ایک ہزار گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ اپنے صحابہ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کی استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ ہر دن ایک ہزار نیکیاں حاصل کر لے؟۔ آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھے لوگوں میں سے کسی نے پوچھا کہ آدمی آسانی کے ساتھ ایک ہزار نیکیاں کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ایک سو دفعہ سبحان اللہ پڑھ لے، اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں؛ کیوںکہ ایک نیکی پر اس طرح کی دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور اس کے بدلے میں اس کے گناہوں میں سے ایک ہزار گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2073) (2698). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 507). مرقاة المفاتيح، لعلي القاري (4/ 1594). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 980). مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعبيد الله المباركفوري (7/ 454).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو اسے یاد نہیں کرتا، زندہ اور مردہ کی سی ہے“۔

عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لاَ يَذْكُرُ رَبَّهُ، مَثَلُ الحَيِّ وَالمَيِّتِ»، ولفظ مسلم: «مَثَلُ الْبَيْتِ الَّذِي يُذْكَرُ اللهُ فِيهِ، وَالْبَيْتِ الَّذِي لَا يُذْكَرُ اللهُ فِيهِ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ».
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو اسے یاد نہیں کرتا، زندہ اور مردہ کی سی ہے“۔ صحیح مسلم کے الفاظ ہيں: ”اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے اور اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد نہیں کیا جاتا ہے، زندہ اور مردہ کی طرح ہے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں اللہ کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کا فرق بیان فرمایا ہے۔ نفع رسانی اور حسن منظر کے معاملے میں دونوں کے درمیان وہی فرق ہے، جو زندہ اور مردہ کے درمیان ہے۔ اپنے رب کو یاد کرنے والا زندہ کی طرح ہے، جس کا ظاہر زندگی اور باطن معرفت کے نور سے مزین ہوتا ہے۔ اس کے اندر نفع پہنچانے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ جب کہ اللہ کو یاد نہ کرنے والے کی مثال مردے کی طرح ہے، جس کا ظاہر حیات سے خالی اور باطن بے سود ہوتا ہے۔ اس کے اندر نفع پہنچانے کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی۔ اسی طرح جب گھر میں رہنے والے لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہوں، تو وہ گھر زندہ ہے اور جب اللہ کے ذکر سے پہلو تہی کرتے ہوں، تو وہ گھر مردہ ہے۔ ویسے یہاں زندہ اور مردہ اگرچہ گھر کو کہا گیا ہے، لیکن مراد گھر میں رہنے والے لوگ ہیں۔

فوائد
  1. اللہ کا ذکر کی ترغیب اور ذکر سے غفلت پر تنبیہ۔
  2. جس طرح روح جسم کی زندگی ہے، اسی طرح ذکر روح کی زندگی ہے۔
  3. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ آپ مفہوم و مراد کو سمجھانے کے لیے مثال بیان کرتے تھے۔
  4. نووی کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے اور گھر کو اللہ کے ذکر سے خالی نہيں رکھنا چاہیے۔
  5. نووی کہتے ہیں: اگرچہ میت بھی خیر کی طرف منتقل ہوتی ہے، لیکن اللہ کی بندگی کے ساتھ لمبی عمر ملنا فضیلت کی بات ہے۔ کیوں کہ زندہ آدمی کی نیکیوں کا خزانہ اس کے ذریعے کیے گئے اچھے کاموں سے بڑھتا جاتا ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 86) (6407). صحيح مسلم (1/ 539) (779). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، (2/ 982). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 516).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ کہے گا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگایا جائے گا۔

عَنْ جَابِرٍ رَضيَ اللهُ عنهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ العَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ، غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الجَنَّةِ».
جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ کہے گا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگایا جائے گا“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے ہوئے ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ کہتا ہے اس کے لیے ہر دفعہ کہی گئی تسبیح کے بدلے میں جنت میں کھجور کا ایک پودا لگا دیا جاتا ہے۔

حوالہ

سنن الترمذي (5/ 456) (3464). مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للمباركفوري (7/ 464). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 985). مشكاة المصابيح، للتبريزي (2/ 713).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”نماز کے بعد کی کچھ ایسی دعائیں ہیں کہ انھیں ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا یا انہیں بجا لانے والا (ثواب سے یا بلند درجوں سے) محروم نہیں ہوتا۔ (اور وہ یہ ہیں) تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمدللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا۔“

عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رضي الله عنه عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ -أَوْ فَاعِلُهُنَّ- دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً».
كعب بن عجرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کے بعد کی کچھ ایسی دعائیں ہیں کہ انھیں ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا یا انہیں بجا لانے والا (ثواب سے یا بلند درجوں سے) محروم نہیں ہوتا۔ (اور وہ یہ ہیں) تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمدللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا۔“
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ اذکار کے بارے میں بات کی ہے، جنھیں پڑھنے والا گھاٹے میں نہيں رہتا اور شرمندہ نہيں ہوتا۔ بلکہ اسے ان کا ثواب ضرور ملتا ہے۔ یہ ایسے کلمات ہيں، جو ایک دوسرے کے بعد آتے اور فرض نمازوں کے بعد پڑھے جاتے ہيں۔ یہ کلمات کچھ اس طرح ہیں : "سبحان الله" تینتیس مرتبہ۔ اس کے معنی یہ ہيں کہ اللہ تعالی ہر نقص اور کمی سے پاک ہے۔ "الحمد لله" تینتیس مرتبہ۔ یعنی اللہ کو ہر قسم کے کمال سے متصف کرنا اور ساتھ میں اس سے محبت بھی رکھنا اور اس کی تعظیم بھی کرنا۔ "الله أكبر" چونتیس مرتبہ۔ یعنی اللہ ہر چيز سے بڑا، عظیم اور م‏عزز ہے۔

فوائد
  1. تسبیح، تحمید اور تکبیر کی فضیلت۔ انھیں باقی رہنے والے نیک اعمال کہا گیا ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 418) (596). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 501). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 976). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (2/ 766). تيسير العلام، للبسام (ص227). فيض القدير شرح الجامع الصغير، لزين الدين المناوي (5/ 525).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے) کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں۔

عن أبي سعيد الخدري وأبي هريرة رضي الله عنهما أَنهُما شَهِدَا عَلَى رسول اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم- أَنه قالَ: «من قال: لا إله إلا الله والله أكبر، صَدَّقه ربه، فقال: لا إله إلا أنا وأنا أكبر. وإذا قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، قال: يقول: لا إله إلا أنا وَحدِي لا شريك لي. وإذا قال: لا إله إلا الله له الملك وله الحمد، قال: لا إله إلا أنا لي الملك ولي الحمد. وإذا قال: لا إله إلا الله ولا حول ولا قوة إلا بالله، قال: لا إله إلا أنا ولا حول ولا قوة إلا بي» وكان يقول: «من قالها في مرضه ثم مات لم تَطْعَمْهُ النار».
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ“ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے) کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں، اور جب ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَہ‘‘ (اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے) کہتا ہے، تو آپ نے فرمایا ”اللہ کہتا ہے (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور جب کہتا ہے ’’ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ‘‘ (اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں) تو اللہ کہتا ہے، (ہاں) مجھ تنہا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میرا کوئی شریک نہیں ہے، اور جب کہتا ہے ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے حمد ہے) تو اللہ کہتا ہے ’’کوئی معبود برحق نہیں مگر میں، میرے لیے ہی بادشاہت ہے اور میرے لیے ہی حمد ہے ‘‘ اور جب کہتا ہے ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور گناہ سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) تو اللہ کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور گناہوں سے بچنے اور بھلے کام کرنے کی قوت نہیں ہے مگر میری توفیق سے، اور آپ فرماتے تھے جو ان کلمات کو اپنی بیماری میں کہے اور مر جائے تو (جہنم کی) آگ اسے نہ کھائے گی“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب بندہ ’’لا إله إلا الله، الله أكبر‘‘ کہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’بے شک میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں‘‘۔ جب بندہ کہتا ہے ’’الله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله‘‘، اس پر بھی اللہ تعالی اس کی تصدیق کرتا ہے۔پس جو شخص ’’لا إله إلا الله، ولا حول ولا قوة إلا بالله‘‘ کہہ کر بقیہ ذکر کے ساتھ مر جائے، جہنم کی آگ اسے نہیں کھاتی یعنی یہ انسان پر جہنم کی آگ کے حرام ہونے کا ایک سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اس ذکر (دُعا) کو یاد رکھے اور اپنی بیماری کی حالت میں کثرت سے اسے پڑھتا رہے کہ ان شاء اللہ اس کا خاتمہ بالخیر ہو۔

حوالہ

1- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. 2- الجامع الصحيح –وهو سنن الترمذي-؛ للإمام محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وآخرين، مكتبة الحلبي-مصر، الطبعة الثانية، 1388هـ. 3- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. 4- سلسلة الأحاديث الصحيحة؛ للشيخ محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف-الرياض، 1415هـ. 5- سنن ابن ماجه؛ للحافظ محمد بن يزيد القزويني، حققه محمد فؤاد عبدالباقي، دار إحياء الكتب العربية. 6- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. 7- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
13 میں سے 8
13 احادیث
  1. جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے، تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے: یہاں نہ تمھارے لیے رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ رات کے کھانے کی گنجائش
  2. میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق کام کرتا ہوں اور ميں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے۔
  3. ’’شیطان تم میں سے ہر آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مارتا ہے کہ سوجا، ابھی رات بہت باقی ہے۔
  4. کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ہر دن ایک ہزار نیکیاں کما لے؟۔ آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھے لوگوں میں سے ایک شخص نے پوچھا: آدمی ہزار نیکیاں کیسے کما سکتا ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ سو دفعہ سبحان اللہ کہے، اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں یا اس کے ایک ہزار گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
  5. ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو اسے یاد نہیں کرتا، زندہ اور مردہ کی سی ہے“۔
  6. جو شخص ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ کہے گا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگایا جائے گا۔
  7. ”نماز کے بعد کی کچھ ایسی دعائیں ہیں کہ انھیں ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا یا انہیں بجا لانے والا (ثواب سے یا بلند درجوں سے) محروم نہیں ہوتا۔ (اور وہ یہ ہیں) تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمدللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا۔“
  8. جو شخص ’’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے) کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے (ہاں) میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں ہی سب سے بڑا ہوں۔
  9. شیطان نے کہا: اے رب! مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو تب تک بہکاتا رہوں گا، جب تک ان کی روحیں ان کی جسموں میں رہیں گی۔ اس پر رب تعالی نے فرمایا: مجھے میری عزت اور بزرگی کی قسم! میں تب تک ان کی مغفرت کرتا رہوں گا، جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔
  10. جو شخص یہ دعا پڑھے: أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ (میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ زندہ ہے اور قائم رکھنے والا ہے اور میں اسی سے توبہ کرتا ہوں) اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اگرچہ وہ میدان جہاد سے ہی فرار کیوں نہ ہوا ہو۔
  11. پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں
  12. شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ حتی کہ سوال کرنے لگتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا جب نوبت یہاں تک آپہنچے تو اسے اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرنا چاہیے اور اس شیطانی خیال کو ترک کر دینا چاہیے"۔
  13. پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com