سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ“ (اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کی ہیں، اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے) کہنا میرے نزدیک ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج نکلتا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لَأَنْ أَقُولَ: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ“ (اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کی ہیں، اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے) کہنا میرے نزدیک ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج نکلتا ہے۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ ان عظیم کلمات کے ذریعے اللہ کا ذکر کرنا اللہ اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے, اور وہ یہ ہیں۔ "سبحان الله" : ان کلمات کے ذریعے تمام نقائص سے اللہ کی پاکی بیان کی جاتی ہے۔ "الحمد لله" : ان کے ذریعے اللہ تعالی کو اس کی محبت اور تعظیم کے ساتھ اوصاف کمال سے متصف کیا جاتا ہے۔ "لا إله إلا الله" : یعنی اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہيں ہے۔ "الله أكبر" : اللہ ہر چیز سے بڑا اور جلیل القدر ہے۔

فوائد
  1. اللہ کے ذکر کی ترغیب اور اس بات کا بیان کہ اللہ کا ذکر ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔
  2. اللہ کے ذکر کے اجر و ثواب کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے کی ترغیب۔
  3. دنیا سے لطف اندوز ہونے کا موقع بہت مختصر ہے اور اس کی من موہک چیزيں فنا ہو جانے والی ہیں۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2072) (2695). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 496). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 485). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 970). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل المبارك (ص772).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
عام اذکار

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com