اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے ذکر سے غفلت برتنے سے خبردار کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور وہاں سے اللہ کا ذکر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجے بغیر اٹھ گئے، تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے حق میں حسرت، ندامت، خسارہ اور نقصان کا سامان ہوگی۔ ایسے میں اگر اللہ چاہے گا، تو ان کو ان کے سابقہ گناہوں اور بعد میں سرزد ہونے والی کوتاہیوں کے پیش نظر عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو اپنے فضل و کرم کی بنا پر معاف کر دے گا۔
- ذکر کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان۔
- ایسی مجلسوں کی فضیلت جن میں اللہ کا ذکر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر کیا جائے۔ جو مجلسیں ان دونوں باتوں سے خالی ہوں، وہ قیامت کے دن وہاں بیٹھنے والوں کے لیے باعث نقصان ہوں گی۔
- ذکرِ الٰہی سے غافل ہونے کی تنبیہ صرف مجالس تک محدود نہیں ہے، بلکہ دیگر جگہوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جو شخص کسی جگہ بیٹھ جائے اس کے لیے اس جگہ کو اللہ کا ذکر کرنے سے پہلے چھوڑنا ناپسندیدہ ہے۔
- قیامت کے دن حسرت وندامت یا تو وقت کا استعمال اللہ کی بندگی میں نہ کرنے کی وجہ سے اجر و ثواب سے محرومی کے سبب ہوگی یا پھر اللہ کی نافرمانی کے کاموں میں وقت گزارنے کی بنا پر گناہ و سزا کو سامنے دیکھ کر۔
- جب جائز کاموں میں مشغول ہوکر اللہ کے ذکر سے غافل ہونے والے کے لیے یہ تنبیہ ہے، تو ان حرام مجلسوں کا کیا حال ہوگا، جن میں غیبت اور چغل خوری وغیرہ ہوتی ہو۔
سنن أبي داود (7/ 221) (4855). سنن الترمذي (5/ 391) (3380). السنن الكبرى للنسائي (9/ 155) (10163). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله البسام (7/ 524). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 396). فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 464).