سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلام چار ہيں؛ سبحان اللہ (اللہ پاک ہے)، الحمد للہ (ساری تعریف اللہ کی ہے)، لا الہ الا اللہ (اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہيں ہے) اور اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے)۔ تم ان میں سے جسے چاہو پہلے کہو، حرج کی کوئی بات نہیں ہے۔

عن سَمُرَة بن جندبٍ رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللهِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ».
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلام چار ہيں؛ سبحان اللہ (اللہ پاک ہے)، الحمد للہ (ساری تعریف اللہ کی ہے)، لا الہ الا اللہ (اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہيں ہے) اور اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے)۔ تم ان میں سے جسے چاہو پہلے کہو، حرج کی کوئی بات نہیں ہے۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب کلام چار ہيں: سبحان اللہ : اس کا مطلب ہے اللہ کو ہر نقص اور کمی سے پاک قرار دینا۔ الحمد للہ : اس کا مطلب ہے اللہ کو ہر قسم کے کمال سے متصف کرنا اور ساتھ میں اس سے محبت بھی رکھنا اور اس کی تعظیم بھی کرنا۔ لا الہ الا اللہ : یعنی اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں ہے۔ اللہ اکبر : یعنی اللہ ہر چیز سے زیادہ طاقت ور، عظیم اور عزت والا ہے۔ ساتھ میں آپ نے یہ بھی بتایا کہ ان کلمات کی فضیلت اور ان کے ثواب کا حصول ان کو بولتے وقت ان کی ترتیب قائم رکھنے کا تقاضا نہيں کرتا۔

فوائد
  1. شریعت اسلامی ایک آسان شریعت ہے۔ اسی وجہ سے اس نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ انسان ان چار کلمات میں سے جسے چاہے پہلے پڑھے۔
حوالہ

صحيح مسلم (3/ 1685) (2137)، (4/ 2093) (2731)، (4/ 2072) (2695). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 540). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 411). فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 477). سبل السلام بشرح بلوغ المرام، للصنعاني (2/ 706).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
عام اذکار

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com