عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لینے کے بعد کہنے لگے: مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ تو ایک پتھر ہے ۔ تو نہ کچھ نقصان دے سکتا ہے اور نہ کوئی نفع۔ اگر میں نے نبی ﷺ کو تمہارا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تمہارا بوسہ نہ لیتا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اوقات، مقامات اور دیگر اشیاء بذات خود اس قدر مقدس و معظم نہیں ہوتے بایں طور کہ یہ ذاتی طور پر عبادت کی تعظیم کے حقدار ہوں، بلکہ ان کی تعظیم شریعت کی بنا پر ہوتی ہے۔ اسی لیے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور حاجیوں کے سامنے اس کا بوسہ لیا جنھیں بتوں کی پوجا اور ان کے احترام کو چھوڑے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اور وضاحت فرمائی کہ اس پتھر کو چومنا اور اس کی تعظیم کرنا ان کی اپنی اپچ نہیں اور نہ ہی اس وجہ سے ہے کہ اس سے کوئی نفع یا نقصان ہوتا ہے بلکہ یہ تو ایک عبادت ہے جسے انھوں نے شارع علیہ السلام سے لیا ہے۔ انھوں نے نبی ﷺ کو ا س کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ کی اقتداء میں انھوں نے بھی اس کا بوسہ لیا نہ کی اپنی ذاتی رائے کی بنا پر یا خود ساختہ طور پر ایسا کیا۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 149) (1597).
صحيح مسلم (2/ 925) (1270).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص394).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (3/ 527).
عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: قَدِم عُيَينَة بن حِصنٍ، فَنزَل على ابنِ أَخِيه الحُرِّ بن قَيسٍ، وكان من النَّفَر الذين يُدنِيهِم عمر رضي الله عنه ، وكان القُرَّاء أصحاب مَجلِس عُمر رضي الله عنه ومُشاوَرَتِه كُهُولا كانوا أو شُبَّانًا، فقال عيينة لابن أَخِيه: يَا ابن أخي، لك وَجْه عند هذا الأمير فَاسْتَأذِن لِي عليه، فَاسْتَأذَن فَأَذِن لَه عُمر، فَلَمَّا دَخَل قال: هي يا ابن الخطَّاب، فَوالله مَا تُعطِينَا الجَزْلَ ولا تَحكُمُ فِينَا بِالعَدلِ، فغضب عمر رضي الله عنه حَتَّى هَمَّ أَنْ يُوقِعَ بِه، فقال له الحُرُّ: يا أمير المؤمنين، إنَّ الله تعالى قال لِنَبِيِّه صلى الله عليه وسلم : {خذ العفو وأمر بالعرف وأعرض عن الجاهلين}، وإِنَّ هذا مِن الجَاهِلِين، والله مَا جَاوَزَها عُمر حِين تَلاَهَا، وكان وَقَّافًا عند كِتَاب الله تعالى .
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے اپنے بھتیجے حر بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا۔ حر بن قیس رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے، جنھیں عمر رضی اللہ عنہ اپنے قریب رکھتے تھے۔ علما عمر رضی اللہ عنہ کے شریکِ مجلس و مشورہ رہتے تھے؛ خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان۔ عیینہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھتیجے سے کہا: اے بھتیجے! تمھیں امیر المؤمنین کے یہاں رسوخ حاصل ہے۔ چنانچہ تم مجھے ان سے ملنے کی اجازت لے دو۔ حر بن قیس رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی۔ جب عیینہ رضی اللہ عنہ آئے، تو کہنے لگے: اے ابن خطاب! واللہ! تم ہمیں بہت زیادہ نہیں دیتے اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو"۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ انھیں مارنے کا ارادہ کر لیا۔ اتنے میں حر بن قیس رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا:"امیر المؤ منین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ: {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ} (الأعراف:198) ”آپ درگزر کو اختیار کریں، نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں“۔
اور یہ جاہلوں میں سے ہیں۔ اللہ کی قسم! جب انھوں نے یہ آیت تلاوت کی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے بالکل بھی تجاوز نہ کیا۔ در حقیقت آپ رضی اللہ عنہ تھے ہی ایسے کہ آپ اللہ کی کتاب (کے احکامات) پر ٹھہر جاتے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
جلیل القدر صحابی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پیش آنے والے ایک واقعہ کے بارے میں ہمیں بتا رہے ہیں کہ ان کے پاس عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ آئے، جو اپنی قوم کے سرکردہ لوگوں میں سے تھے۔ انھوں نے اپنی بے سروپا گفتگو کا آغاز درشتگی اور مذمت بھرے انداز میں کیا اور پھر ڈانٹتے ہوئے کہنے لگے: "تم ہمیں بہت زیادہ نہیں دیتے اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ شدید غصے میں آ گئے اور قریب تھا کہ وہ ان کی پٹائی كر دیتے، لیکن بعض علما جن میں ایک عیینہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے حر بن قیس رضی اللہ عنہ بھی تھے، آگے بڑھے اور خلیفۂ راشد رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ} (الأعراف: 199) ”آپ درگزر کو اختیار کریں، نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں“۔
اور یہ جاہل لوگوں میں سے ہے۔ اس آیت پر عمر رضی اللہ عنہ ٹھہر گئے اور انھوں نے اپنا غصہ دبا لیا اور اس سے تجاوز نہ کیا؛ کیوں کہ آپ رضی اللہ عنہ اللہ کی کتاب (کے احکامات) پر رک جانے والے تھے۔ چنانچہ آپ کے سامنے تلاوت کی جانے والی اس آیت کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو نہ مارا۔
اللہ کی کتاب کے معاملے میں صحابۂ کرام کا طرز عمل یہی تھا کہ وہ اس سے تجاوز نہ کرتے۔ جب ان سے یہ کہہ دیا جاتا کہ یہ اللہ کا فرمان ہے، تو وہ رک جاتے؛ چاہے کچھ بھی ہو۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ.
تطريز رياض الصالحين، للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ.
رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ.
رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ.
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ.
شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.
تاج العروس من جواهر القاموس، لمحمّد بن محمّد بن عبد الرزّاق الحسيني، الملقّب بمرتضى، الزَّبيدي، تحقيق مجموعة من المحققين، دار الهداية.
الدلائل في غريب الحديث، لقاسم بن ثابت بن حزم العوفي السرقسطي، تحقيق: د. محمد بن عبد الله القناص، الناشر: مكتبة العبيكان، الرياض، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2001م.
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو وفات سے پانچ دن پہلے کہتے ہوئے سنا: "میں اللہ تعالی کے سامنے اس چیز سے بری ہوں کہ تم میں سے کسی کو اپنا خلیل (سب سے پیارا دوست) بناؤں؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا اور اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا، تو ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو بناتا۔ خبردار! بے شک تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا کرتے تھے۔ لہذا خبردارتم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمھیں اس سے منع کرتا ہوں“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے یہاں اپنے مقام و مرتبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ محبت کے اعلی درجے پر فائز ہیں۔ آپ کو اللہ کے یہاں محبت کا وہی مقام حاصل ہے، جو ابراہیم علیہ السلام کو حاصل تھا۔ اسی لیے آپ نے اس بات کی نفی کر دی ہے کہ اللہ کے علاوہ آپ کا کوئی خلیل ہو۔ کیوں کہ آپ کا دل اللہ کی محبت، تعظیم اور معرفت سے بھرا ہوا ہے، لہذا اس میں کسی اور کے لیے کوئی جگہ نہيں ہے۔ ہاں، اگر کوئی مخلوق آپ کا خلیل ہوتا، تو یہ مقام ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوتا۔ پھر آپ نے محبت کے بارے میں جائز حد سے آگے بڑھنے سے متنبہ کیا، جیساکہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کے ساتھ کیا اور ان کو معبود بنا کر اللہ کی بجائے پوجنا شروع کر دیا اور ان کى قبروں کو سجدہ گاہ اور عبادت گاہ بنا لیا۔ آپ نے اپنی امت کو ان کے نقش قدم پر چلنے سے منع کیا۔
فوائد
ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت، ان کا افضل ترین صحابی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی موت کے بعد آپ کی خلافت کا سب سے زیادہ مستحق ہونا۔
قبروں پر مسجد تعمیر کرنا پچھلی امتوں کے غلط کاموں میں سے ایک ہے۔
اس میں قبروں کو عبادت کی جگہ بناکر ان کے پاس یا ان کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنے اور ان کے اوپر مسجد یا گنبد بنانے سے منع کیا گیا ہے، تاکہ اس کی وجہ سے کوئی شرک کا شکار نہ ہو۔
اس میں نیک لوگوں کی قبروں کے بارے میں غلو سے کام لینے سے منع کیا گیا ہے، کیوں کہ یہ شرک کا سبب بنتا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے آگاہ کیے گئے اس کام کی خطرناکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنی وفات سے پانچ دن پہلے اس سے بچنے کی تاکید کی ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 377) (532).
شرح النووي على مسلم (5/ 13).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص188).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص172).
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے انصار کے بارے میں فرمایا : "ان سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ جو شخص ان سے محبت کرے گا، اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو اُن سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ مدینے میں رہنے والے انصار کی محبت کمال ایمان کی علامت ہے۔ ایسا اس لیے کہ انھوں نے اسلام اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بڑھ چڑھ کر مدد کی، مسلمانوں کو پناہ دینے کی کوشش کی اور اللہ کے راستے میں جان و مال کی قربانی دی۔ آپ نے بتایا کہ ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ جو انصار سے محبت رکھے گا، اللہ اس سے محبت رکھے گا اور جو انصار سے بغض رکھے گا، اللہ اس سے بغض رکھے گا۔
فوائد
اس حدیث میں انصار کی ایک بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ ان سے محبت نفاق سے براءت اور ایمان کی علامت ہے۔
اولیاء اللہ سے محبت اور ان کی نصرت سے اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔
اسلام لانے میں سبقت کرنے والی اولین جماعت کی فضیلت۔
حوالہ
صحيح البخاري (5/ 32) (3783).
صحيح مسلم (1/ 85) (75).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 447).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص257).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (6/ 258).
شرح النووي على مسلم (2/ 63).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 350).
عن أنس رضي الله عنه أن أم الرُّبيع بنت البراء وهي أم حارثة بن سُراقة، أتَت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، ألا تُحَدِّثُنِي عن حارثة -وكان قُتِل يوم بَدْرٍ- فإن كان في الجنَّة صَبَرْت، وإن كان غير ذلك اجْتَهَدْتُ عليه في البُكَاء، فقال: «يا أم حارثة، إنها جِنَان في الجنة، وإن ابْنَك أصَاب الفِردَوْس الأعلى».
انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ام ربیع بنت براء جو حارثہ بن سراقہ کی والدہ تھیں، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! آپ مجھے حارثہ کے بارے نہیں بتائیں گے (کہ وہ کس حال میں ہے) -وہ جنگ بدر میں شہید ہو گئے تھے- اگر تو وہ جنت میں ہے، تو میں صبر کروں اور اگر جنت میں نہیں، تو میں اس پر خوب رؤوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ام حارثہ! جنت میں بہت سی جنتیں ہیں ہیں، تیرے بیٹے نے تو فردوس اعلی پائی ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حدیث کا مفہوم: حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کی جنگ بدر کے دن ایک نامعلوم سمت سے آنے والے تیر سے شہادت ہوگئی، جس کا پتہ نہ چل سکا کہ وہ کہاں سے آیا تھا۔ ان کی والدہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور ان کے انجام کے بارے پوچھنے لگیں۔ انھيں یہ اندیشہ تھا کہ ہو سکتا ہے، وہ شہدا میں شمار نہ ہوں۔ کیوں کہ ان کی وفات ایک نامعلوم سمت سے آنے والے تیر سے ہوئی تھی اور وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے، جو معرکے میں شریک تھے۔ جیسا کہ حدیث میں اس کی وضاحت آئی ہے کہ: "وہ بدر کے دن ایک ایسے تیر کا شکار ہو کر مارے گئے تھے، جس کے مارنے والے کا کوئی پتہ نہیں تھا۔" یعنی یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کس جانب سے آیا ہے۔
امام احمد اور نسائی کی روایت میں ہے کہ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حارثہ دشمنوں کی تاک لگانے والے کے طور پر نکلے۔ (یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اونچی جگہ تلاش کرکے دشمنوں کو دیکھتے ہیں اور ان کے بارے بتاتے ہیں)۔ اسی درمیان انھيں ایک تیر لگا، جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔ اسی لیے ان کی والدہ نے کہا: اگر وہ جنت میں ہے، تو میں اس پر صبر کروں، یعنی اس کی جدائی پر صبر کروں اور اللہ کے ہاں سے اس پر اجر کی امیدوار رہوں اور اللہ کی راہ میں اس کے مارے جانے اور درجہ شہادت پر فائز ہونے پر خوشی کا اظہار کروں۔
اور اگر وہ جنت میں نہیں، تو پھرمیں خوب رؤوں، کیوں کہ میں نے اسے کھو دیا اور اس نے بلا فائدہ اپنی جان گنوائی۔
آپ ﷺ نے فرمایا: اے ام حارثہ! جنت میں بہت سی جنتیں ہیں، جیسا کہ بخاری شریف کی ایک روایت میں وضاحت کے ساتھ آیا ہے کہ: کیا یہ ایک ہی جنت ہے؟ جنتیں تو بہت ساری ہیں اور وہ فردوس اعلی میں ہے۔ اس سے مراد جنت میں ایک مخصوص جگہ ہے، جو جنت کا سب سے افضل اور بلند مقام ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اللہ سے مانگو، تو جنت الفردوس مانگو، یہ جنت کا درمیانی اور سب سے بلند حصہ ہے۔ اس کے اوپر اللہ تعالی کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ جنت کے درمیانی حصے سے مراد اس کا سب سے بہترین، افضل اور سب سے کشادہ حصہ ہے۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: الرابعة 1425هـ.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ، 2007م.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، الطبعة: الرابعة 1428هـ.
شرح رياض الصالحين للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى 1430هـ، 2009م.
منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، حمزة محمد قاسم، راجعه: عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق، مكتبة المؤيد، الطائف، الطبعة: 1410هـ، 1990م.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ، 1987م.
عن أنس رضي الله عنه قال: جاء ناس إلى النبي صلى الله عليه وسلم أن ابعث معنا رجالاً يعلمونا القرآن والسنة، فبعث إليهم سبعين رجلا ًمن الأنصار يقال لهم: القراء، فيهم خالي حَرامٌ، يقرؤون القرآن، ويتدارسون بالليل يتعلمون، وكانوا بالنهار يَجِيئُون بالماء، فيضعونه في المسجد، ويحتطبون فيبيعونه، ويشترون به الطعام لأهل الصُّفَّةِ، وللفقراء، فبعثهم النبي صلى الله عليه وسلم فَعَرَضُوا لهم فقتلوهم قبل أن يبلغوا المكان، فقالوا: اللهم بلَغِّ ْعَنَّا نبينا أنا قد لَقِينَاك فرضينا عنك ورَضِيتَ عَنَّا، وأتى رجلٌ حَرَاماً خال أنس من خلفه، فطعنه برُمْحٍ حتى أَنْفَذَهُ، فقال حَرَامٌ: فُزْتُ ورَبِّ الكعبة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن إخوانكم قد قُتِلُوا وإنهم قالوا: اللهم بلغ عنا نبينا أنا قد لقيناك فرضينا عنك ورضيت عنا».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو (ہمیں) قرآن اور سنت کی تعلیم دیں۔ آپ نے ان کے ساتھ ستّر (70) انصاری صحابہ بھیج دیے جنہیں قرّاء کہا جاتا تھا۔ ان میں میرے ماموں حضرت حرام (بن ملحان) رضی اللہ عنہ بھی تھے، یہ لوگ رات کے وقت قرآن پڑھتے تھے، ایک دوسرے کو سناتے تھے، قرآن کی تعلیم حاصل کرتے تھے، اور دن کو مسجد میں پانی لا کر رکھتے تھے اور جنگل سے لکڑیاں لا کر فروخت کرتے اور اس سے اصحاب صفہ اور فقراء کے لیے کھانا خریدتے تھے، نبی (ﷺ) نے انہیں ان (آنے والے کافروں) کی طرف بھیجا اور انہوں نے منزل پر پہنچنے سے پہلے (راستے ہی میں دھوکے سے) ان پر حملہ کردیا اور انہیں شہید کردیا، اس وقت انہوں نے کہا : ”اے اللہ ! ہماری طرف سے ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہماری تجھ سے ملاقات ہوگئی ہے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہوگیا ہے“۔ اس سانحے میں ایک شخص نے پیچھے سے آ کر انس رضی اللہ عنہ کے ماموں، حرام (بن ملحان) رضی اللہ عنہ کو اس طرح نیزہ مارا کہ وہ آر پار ہوگیا تو انہوں نے کہا ”رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہوگیا“، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : " تمہارے بھائی شہید کردیے گئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے ”اے اللہ ! ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کرلی ہے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہوگیا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عرب کے کسی قبیلے کا وفد آپ ﷺ کے پاس آیا، ان کا دعویٰ تھا کہ وہ لوگ اسلام لے آئے ہیں اور آپ ﷺ سے ایسے لوگوں کا مطالبہ کیا جو ان کو قرآن سکھائیں، آپ ﷺ نے ان کو ستر (70)صحابہ دیے، ان کو قرآن کا زیادہ حصہ یاد ہونے اور قرآن کے ساتھ زیادہ وابستگی کی وجہ سے انہیں قراء کہا جاتا تھا۔ تاہم قرآن کے ساتھ وابستگی انہیں کسبِ حلال سے نہیں روکتی تھی، اسی وجہ سے انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”وكانوا بالنَّهار يَجِيئُون بالماء، فَيَضَعُونَه في المسجد، وَيَحْتَطِبُونَ فَيَبِيعُونَهُ، ويَشترون به الطعام لأهل الصُّفَّةِ، وللفقراء“ اس کا مطلب یہ ہے کہ دن کو یہ لوگ پانی لا کر مسجد میں رکھ دیا کرتے تھے تاکہ جو چاہے اسے پاکی حاصل کرنے یا پینے یا کسی اور غرض سے استعمال کرے۔
”وَيَحْتَطِبُونَ فَيَبِيعُونَهُ، ويشترون به الطعام لأهل الصُّفَّةِ، وللفقراء“۔ اصحابِ صفہ وہ فقیر اور غریب لوگ تھے جنہوں نے مسجدِ نبوی کو اپنا ٹھکانا بنایا تھا، مسجد کے آخر میں، مسجد سے الگ ان کے لیے ایک چبوترہ تھا، جس پر سائبان تھا، وہاں وہ رات گزارتے تھے۔
آپ ﷺ نے قرّاء کو بھیجا، جب انہوں نے بئر معونہ پر پڑاؤ ڈالا، یہ اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے کی جگہ تھی، ان کی منزل أبو براء بن مُلَاعِبِ الْأَسِنَّہ کا گھر تھا، تو عامر بن طفیل اور اس کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت نے ان سے قتال کیا۔
”اللهُمَّ بلِّغ عنَّا نبيَّنا أنَّا قد لَقِينَاكَ فرضِيْنَا عنَّك ورضِيت عنَّا " وفي رواية ’’ألا بَلِّغوا عنَّا قوْمَنا أنا قد لقِيْنَا ربَّنا فَرَضِي عنَّا وأرضَانا“۔
جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے آپ ﷺ کو بتایا ”أَنَّهُمْ قَدْ لَقُوا رَبَّهُمْ فَرَضِيَ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ“ جیسا کہ بخاری کی روایت میں ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے ملاقات کر لی، رب ان سے راضی اور وہ رب سے راضی ہیں۔
آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا ”إن إخْوَانَكم قد قُتِلوا وإنهم قالوا: اللَّهم بلِّغ عنَّا نبيَّنا أنَّا قد لَقِينَاكَ فَرَضِينا عنَّك ورَضِيت عنَّا“۔
یعنی ان کی اطاعت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اور اس کے بدلے اللہ نے جو ان کا اکرام کیا، انہیں بہت سارا خیر دیا اور اس خیر، احسان اور رحمت پر مستزاد یہ کہ اپنی خوشنودی دی اس سے وہ بھی خوش ہیں۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425 هـ.
رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ.
رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ.
صحيح البخاري، ط1، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت.
الكاشف عن حقائق السنن (شرح المشكاة) للطيبي، تحقيق: عبد الحميد هنداوي، مكتبة الباز، مكة، 1417هـ.
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ.
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج للنووي ، ط2، دار إحياء التراث العربي - بيروت، 1392هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.
عن أنس رضي الله عنه قال: انطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه حتى سبقوا المشركين إلى بدر، وجاء المشركون، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يقدمن أحد منكم إلى شيء حتى أكون أنا دونه»، فدنا المشركون، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «قوموا إلى جنة عرضها السماوات والأرض» قال: يقول عمير بن الحمام الأنصاري رضي الله عنه : يا رسول الله، جنة عرضها السماوات والأرض؟ قال: «نعم» قال: بخ بخ ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما يحملك على قولك بخ بخ؟» قال: لا والله يا رسول الله إلا رجاء أن أكون من أهلها، قال: «فإنك من أهلها» فأخرج تمرات من قرنه، فجعل يأكل منهن، ثم قال: لئن أنا حييت حتى آكل تمراتي هذه إنها لحياة طويلة، فرمى بما كان معه من التمر، ثم قاتلهم حتى قتل.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (جنگ بدر کے موقع پر) رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ چل پڑے، یہاں تک کہ مشرکین سے پہلے بدر میں جا پہنچے اور پھر مشرک بھی آگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص مجھ سے پہلے کسی شے کی طرف پیش قدمی نہ کرے۔ پھر مشرک قریب پپہنچے، تو فرمایا: اٹھو اس جنت میں جانے کے لیے جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یارسول اللہ! جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! انھوں نے کہا: واہ! بہت خوب! آپ ﷺ نے فرمایا: واہ واہ کیوں کہہ رہے ہو؟ وہ بولے: کچھ نہیں یا رسول اللہ ! میں نے اس امید پر کہا کہ شاید میں بھی اہل جنت میں سے ہو جاؤں! آپ ﷺ نے فرمایا: تو جنتی ہے۔ یہ سن کر وہ چند کھجوریں اپنے ترکش سے نکال کر کھانے لگے۔ پھر بولے کہ اگر میں اپنی ان کھجوروں کو کھا لینے تک زندہ رہا، تو یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی (یعنی جنت ملنے میں دیر ہوجائے گی)۔ پھر انھوں نے، جو کھجوریں ان کے پاس تھیں، پھینکیں اور کافروں سے لڑائی شروع کردی، یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
انس رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ مدینے سے ابو سفیان کے قافلے کا سامنا کرنے کے لیے نکلے، جو شام سے لوٹ کر مکہ جارہا تھا۔ مسلمانوں کا ارادہ جنگ کا نہیں تھا، لیکن اللہ تعالی نے انھیں اور ان کے دشمنوں کو بنا کسی پیش بندی کے جمع فرما دیا۔ اسی وجہ سے اس معرکے میں بہت سے صحابہ شریک نہ ہو سکے اور ان میں سے کسی پر آپ ﷺ نے عتاب بھی نہیں فرمایا۔
نبیﷺ چل پڑے اور کفار قریش سے پہلے ہی میدان بدر پہنچ کر اپنی جگہ لے لی۔ جب کفار قریش پہنچے تو نبی ﷺ نے فرمایا: مجھ سے پہلے تم میں سے کوئی پیش قدمی نہ کرے۔ مراد یہ کہ نبی ﷺ نے صحابۂ کرام کو کسی بھی شے کی طرف بڑھنے سے منع فرمایا، یہاں تک کہ خود آپ آگے بڑھ کر ان کے مقابلے میں دشمن سے زیادہ قریب ہو جائیں، تاکہ جن مصلحتوں سے وہ نابلد ہیں، ان میں سے کوئی مصلحت چھوٹ نہ جائے۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو اور جنت کی طرف چل پڑو، جس کی چوڑائی آسمانوں او زمین کے مساوی ہے“ یعنی جلدی کرو اور اپنی جانوں کو اللہ کے راستے میں قربان کرنے میں تاخیر نہ کرو۔ اس کے بدلے میں جنت ملے گی، جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ یہ مسلمانو کو کفار سے لڑنے کی ترغیب اور اس پر ابھارنے کے قبیل سے ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! (کیا واقعی) اس جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے بقدر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں!
اس پر انھوں نے کہا: بہت خوب، بہت خوب!
ایسا انھوں نے اس خوش خبری کی اہمیت اور عظمت کو جتلانے کے لیے کہا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ بہت خوب، بہت خوب کیوں کہہ رہے ہو؟“ یعنی اس کی وجہ کیا ہے؟ کوئی خوف تو نہیں ہے؟
انھوں نے جواب دیا: نہیں یا رسول اللہ! یہ تو اس امید میں ہے کہ شاید میں بھی جنتیوں میں شامل ہونے کی سعادت کر سکوں۔ یعنی فقط جنت میں جانے کی چاہت میں میں نے یہ بات کہی۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم جنتیوں میں سے ہو“ یہ نبی ﷺ کی طرف سے اپنے صحابہ کو جنت کی خوش خبری تھی، تاکہ انھیں عمل خیر پر مہمیز کیا جا سکے۔
جب عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ نے نبی صادق و مصدوق سے یہ بشارت سنی، جو اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے، تو انھوں نے اپنے 'قرن' سے کچھ کھجوریں نکالیں۔ 'قرن' سے مراد وہ تھیلی ہے، جس میں عموما کھانے کی چیز رکھی جاتی ہے اور جسے مجاہد اپنے ساتھ رکھتا ہے- پھر کھانا شروع ہو کردیا، لیکن انھیں زندگی لمبی لگی، چنانچہ کہنے لگے: اگر میں اپنی یہ کھجوریں کھانے تک زندہ رہتا ہوں، تو یہ بہت لمبی زندگی ہو گی! اتنا کہہ کر انھوں نے اپنے پاس کی بقیہ کھجوریں پھینک دیں، آگے بڑھے اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے، اللہ ان سے راضی ہوجائے۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418هـ.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ.
- صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي.
- كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430هـ.
- شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا : "میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطافرمائے گا"۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں : اس ایک دن کے علاوہ میں نے کبھی امارت کی تمنا نہیں کی۔ وہ مزید کہتے ہیں : میں نے اس امید سے کہ مجھے اس کے لیے بلایا جائے گا، اپنی گردن اونچی کر دی۔ وہ آگے کہتے ہیں : تاہم رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالب کو بلایا، ان کو جھنڈا دیا اور فرمایا : "جاؤ، پیچھےمڑ کر نہ دیکھو، یہاں تک کہ اللہ تمھیں فتح عطا کردے"۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : علی کچھ دور گئے، پھر ٹھہر گئے، پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور بلند آواز سے پکار کر کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! میں کس بات پر لوگوں سے جنگ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "ان سے لڑو، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔ اگر انھوں نے ایسا کرلیا، تو انھوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال تم سے محفوظ کرلیے۔ ہاں، ان سے کوئی حق جڑ جائے، تو بات الگ ہے۔ ان کاحساب اللہ پر ہوگا"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو بتایا کہ آئندہ کل مسلمانوں کو مدینہ کے قریب واقع ایک شہر خیبر کے یہودیوں پر فتح مل جائے گی۔ یہ فتح ایک ایسے شخص کے ہاتھ پر نصیب ہوگی، جسے آپ علَم، جو لشکر کا شعار ہوا کرتا ہے، عطا کریں گے، اس شخص کا ایک وصف یہ ہوگا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کو اس سے محبت ہے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ایک وہی دن تھا، جب ان کے اندر امارت کی محبت جاگی اور دل میں بلائے جانے کی خواہش اس امید میں پیدا ہوئی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ بیان کردہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت حاصل کرنے کی سعادت ان کو حاصل ہو جائے۔ وہ اپنے جسم کو دراز کر کے قد کو ذرا اونچا کرنے لگے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نظر پڑجائے، ان کا نام پکار لیا جائے اور علَم عطا کر دیا جائے۔
تاہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے علی بن ابو طالب کو بلایا، علَم عطا کر دیا اور حکم دیا کہ لشکر کے ساتھ چل پڑیں اور دشمن سے ملنے کے بعد ان قلعوں پر فتح حاصل ہو جانے تک راحت کی طلب میں یا صلح کی بنا پر جنگ سے دست بردار نہ ہوں۔
چنانچہ علی رضی اللہ عنہ چل پڑے۔ ایک بار رکے بھی، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی مخالفت سے بچنے کے لیے پیچھے مڑے نہيں، خیبر کی جانب منہ کر کے ہی بلند آواز سے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں لوگوں سے کس بات پر جنگ کروں؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا : ان سے اس وقت تک جنگ کرو، جب تک اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر انھوں نے تمھاری اس دعوت کو قبول کر لیا اور اسلام میں داخل ہوگئے، تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے اموال کو تم سے محفوظ کر لیا۔ ہاں، اگر کوئی ایسا جرم کر بیٹھیں کہ اسلام کے احکام کی روشنی میں قتل کے حق دار بن جائيں، تو بات الگ ہے۔ باقی ان کا حساب و کتاب لینا اللہ کا کام ہے۔
فوائد
صحابہ کرام امارت وسرداری کو نا پسند کرتے تھے، کیوں کہ اس میں بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔
جس معاملہ میں خیر کا پایا جانا مؤکد ہو، اس کی آرزو اور خواہش ظاہر کرنا جائز ہے۔
امام کا لشکر کے قائد کو یہ رہنمائی کرنا کہ جنگ کے میدان میں کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپ کی وصیتوں کی پاسداری کرتے اور انہیں روبہ عمل لانے کے لیے سبقت کرتے تھے۔
جس شخص سے کسی چیز کا مطالبہ کیا جائے اور اسے سمجھ میں نہ آئے، تو اسے پوچھ لینا چاہئے۔
محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے نبی ہونے کے بے شمار دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ آپ نے خیبر کے یہودیوں پر فتح یاب ہونے کی بات کہی اور فتح یاب ہوئے بھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر فوری عمل کی ترغیب۔
جو شخص دونوں گواہیوں کا اقرار کرے، اسے قتل کرنا جائز نہیں ہے، سوائے اس حال میں کہ اس سے کوئی ایسا عمل سرزد ہو جس سے قتل کرنا لازم آجائے۔
لوگوں کے ظاہری اعمال کے مطابق ہی اسلامی احکام جاری ہوتے ہیں۔ ان کے باطن میں چھپے راز کا مالک اللہ ہے۔
جہاد کا سب سے بڑا مقصد ہے، لوگوں کا مذہب اسلام میں داخل ہونا۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 1871) (2405).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 127).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 45).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 174).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com