سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یہ میرے ماموں ہیں، اگر کوئی شخص ایسا ماموں رکھتا ہے تو وہ مجھے دکھائے۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما ، قال: أقبل سعد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «هذا خالي فليُرِني امرؤٌ خالَه».
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے ماموں ہیں، اگر کوئی شخص ایسا ماموں رکھتا ہے تو وہ مجھے دکھائے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی مجلس مبارک کی طرف آ رہے تھے۔ جب نبی ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: یہ میرے ماموں ہیں جن پر مجھ فخر ہے۔ کوئی مجھے اپنا ماموں دکھائے تاکہ معلوم ہوجائے کہ میرے ماموں جیسا کوئی ماموں نہیں ہے۔ سعد بن وقاصرضی اللہ عنہ قبیلہ بنی زھرہ میں سے تھے اور نبی ﷺ کی والدہ بی بی آمنہ بھی بنی زھرہ سے تھیں۔ سعد رضی اللہ عنہ بی بی آمنہ کے رشتہ دار تھے اور ماں کی طرف کے رشتہ دار ماموں ہوا کرتے ہیں۔

حوالہ

سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراهيم عطوة عوض، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ، 1975م. صحيح الجامع الصغير وزيادته، محمد ناصر الدين الألباني، المكتب الإسلامي، بيروت، الطبعة: الثالثة 1408هـ. تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم المباركفورى، دار الكتب العلمية، بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
صحابہ رضی اللہ عہنہم کی فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com