اس حدیث میں نبی ﷺ نے جلیل القدر صحابی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی تعریف بیان کی ہے، ان کے لیے ان کی آمد کی وجہ سے عرشِ رحمان خوشی سے جھوم اٹھا، ان کے لیے آسمان کے دروازے رحمت اور فرشتوں کے نزول، ان کے قدوم کی تزئین اور ان کے روح کے نکلنے کے لیے کھول دیا گیا، اس لیے کہ مومنوں کے روحوں کا ٹھکانہ جنت ہے اور وہ ساتویں آسمان کے اوپر ہے، اسی طرح اس صحابیٔ رسول کے فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ ان کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے ان کی تعظیم کے لیے حاضر ہوئے۔ پھر نبی ﷺ نے سعد بن معاذ کی فضیلت اور اللہ کے نزدیک ان کے بلند مقام و مرتبے کو ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان کیا کہ قبر نے ان کو ایک بار بھینچا اور پھر اللہ کی طرف سے یہ سختی کشادگی میں بدل گئی، قبر کی اس پکڑ سے کوئی نجات نہیں پاسکتا اور اگر کوئی اس سے نجات پاسکتا تو سعد رضی اللہ عنہ اس سے نجات پاتے جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے۔
- السنن الصغرى للنسائي "المجتبى"، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، نشر: مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، الطبعة: الثانية، 1406ه – 1986م. - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. - صحيح الجامع الصغير وزياداته، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي. - شرح سنن النسائي المسمى «ذخيرة العقبى في شرح المجتبى»، المؤلف: محمد بن علي بن آدم بن موسى الإثيوبي الوَلَّوِي، الناشر: دار المعراج الدولية للنشر - دار آل بروم للنشر والتوزيع, الطبعة الأولى, 1416- 1424. - حاشية السندي على سنن النسائي (مطبوع مع السنن), محمد بن عبد الهادي التتوي، أبو الحسن، نور الدين السندي, مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب, الطبعة: الثانية، 1406 – 1986م.