زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن جب وہ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس مختلف رقعوں سے، جن پر قرآن کی آیتیں لکھی ہوئی تھیں، قرآن یک جا کر رہے تھے۔ اس دوران اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "شام والوں کے لیے سعادت و خوشخبری ہے"۔ یعنی شام اور اہل شام کے لیے آرام و سکون اور خوشگوار زندگی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا آخر کیوں فرمایا؟ تو جواب دیا: "کیوں کہ رحمن کے فرشتے اس کے اوپر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں"۔ یعنی فرشتے شام کی سرزمیں اور اس کے باشندوں کے اوپر اپنے پر پھیلا کر انھیں گھیرے میں لیے ہوئے ہیں، اس پر برکت نازل کر رہے ہیں، ہلاکتوں اور اذیتوں سے اس کا بچاو کر رہے ہیں اور کفر اور فتنوں سے اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ یہاں ایک سوال یہ ہے کہ کیا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے یا پھر حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ باتیں نبوت کے بعد دور اول میں حاصل ہوئی تھیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث مطلق ہے اور اس سے دوام لازم نہيں آتا۔ واللہ اعلم۔
- سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م. - مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. - سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، تأليف محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، لمكتبة المعارف. - تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي لمحمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم المباركفورى، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت. - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م. - التيسير بشرح الجامع الصغير, زين الدين محمد المدعو بعبد الرؤوف بن تاج العارفين بن علي بن زين العابدين الحدادي ثم المناوي, مكتبة الإمام الشافعي – الرياض, الطبعة: الثالثة، 1408هـ - 1988م.