سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے انصار کے بارے میں فرمایا : "ان سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ جو شخص ان سے محبت کرے گا، اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو اُن سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا"۔

عَنِ الْبَرَاءِ رضي الله عنه: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ: «لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللهُ».
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے انصار کے بارے میں فرمایا : "ان سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ جو شخص ان سے محبت کرے گا، اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو اُن سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ مدینے میں رہنے والے انصار کی محبت کمال ایمان کی علامت ہے۔ ایسا اس لیے کہ انھوں نے اسلام اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بڑھ چڑھ کر مدد کی، مسلمانوں کو پناہ دینے کی کوشش کی اور اللہ کے راستے میں جان و مال کی قربانی دی۔ آپ نے بتایا کہ ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ جو انصار سے محبت رکھے گا، اللہ اس سے محبت رکھے گا اور جو انصار سے بغض رکھے گا، اللہ اس سے بغض رکھے گا۔

فوائد
  1. اس حدیث میں انصار کی ایک بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ ان سے محبت نفاق سے براءت اور ایمان کی علامت ہے۔
  2. اولیاء اللہ سے محبت اور ان کی نصرت سے اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔
  3. اسلام لانے میں سبقت کرنے والی اولین جماعت کی فضیلت۔
حوالہ

صحيح البخاري (5/ 32) (3783). صحيح مسلم (1/ 85) (75). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 447). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص257). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (6/ 258). شرح النووي على مسلم (2/ 63). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 350).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ایمان کے شعبے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com