عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نیک اعمال کی طرف تیزی سے بڑھو، ان فتنوں سے پہلے، جو سخت تاریک رات کی طرح ہوں گے؛ (حالت یہ ہوگی کہ) آدمی صبح کے وقت مؤمن ہوگا، تو شام کے وقت کافر اور شام کے وقت مؤمن ہوگا، تو صبح کے وقت کافر۔ دنیاوی ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مومن کو اچھے کاموں کی طرف تیزی سے بڑھنے اور زیادہ سے زیادہ اچھے کام کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں، قبل اس کے کہ اچھے کاموں سے روک دینے والے فتنوں اور شبہات کی آمد کی وجہ سے انھیں کرنا دشوار ہو جائے اور انسان کے ہاتھ سے موقع نکل جائے۔ یہ فتنے تاریکیوں کی شکل میں نمودار ہوں گے۔ مانو رات کے ٹکڑے ہوں۔ ان کے آنے کی وجہ سے حق باطل کے ساتھ اس طرح گڈ مڈ ہو جائے گا کہ انسان کے لیے دونوں کے درمیان فرق کرنا دشوار ہو جائے گا۔ حالت یہ ہوگی کہ انسان بدحواسی کا شکار ہو جائے گا۔ صبح مومن رہے گا، تو شام کو کافر ہو جائے گا۔ شام کو مومن رہے گا، تو صبح کافر بن جائے گا۔ دنیا کے متاع فانی کی وجہ سے دین سے کنارہ کش ہو جائے گا۔
فوائد
- دین کو مضبوطی سے پکڑے رہنے اور عمل صالح کی جانب تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت، قبل اس کے کہ موانع حائل ہو جائيں۔
- آخری وقت میں گمراہ کن فتنوں کے پے در پے آنے کا اشارہ۔ صورت حال یہ ہوگی کہ ایک فتنہ جائے گا تو دوسرا فتنہ آ جائے گا۔
- جب انسان کا دین کمزور ہو جاتا ہے اور وہ متاع دنیا، جیسے مال وغیرہ کے چکر میں دین سے کنارہ کش ہو جاتا ہے، تو یہ اس کے دین سے انحراف، دین بیزاری اور فتنوں کے شکار ہونے کا سبب بن جاتا ہے۔
- اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اچھے اعمال فتنوں سے نجات کا سبب ہے۔
- فتنوں کی دو قسمیں ہيں : شبہات کا فتنہ، جس کا علاج علم ہے اور شہوات کا فتنہ، جس کا علاج ایمان اور صبر ہے۔
- اس حدیث میں اس بات کا اشارہ ہے کہ جو قلیل العمل ہوگا، اس کی جانب فتنے زیادہ تیزی سے آئيں گے اور جو کثیرالعمل ہوگا، اسے اپنے عمل کے دھوکے میں آنے کے بجائے مزید عمل کرنا چاہیے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 110) (118).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 169).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 16).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 122).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «الإيمانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أو بِضْعٌ وسِتُّونَ شُعْبَةً: فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ: لا إله إلا الله، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایمان کی ستّر سے زیادہ شاخیں ہیں یا فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے زیادہ شاخیں ہیں جن میں سے سب سے افضل لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کم راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ایمان صرف ایک ہی خصلت یا ایک ہی شعبے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے بہت سے شعبہ جات ہیں، ستّر سے کچھ اوپر یا ساٹھ سے کچھ اوپر شعبہ جات ہیں۔ تاہم ان میں سے افضل ترین کلمہ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے ہلکا شعبہ ہر اس شے کو راستے سے ہٹانا ہے جس سے راہ گیروں کو تکلیف پہنچے جیسے پتھر، کانٹا وغیرہ جیسی اشیاء۔ اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
حوالہ
- صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب، الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
- نزهة المتقين بشرح رياض الصالحين، تأليف مصطفى سعيد الخن، مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشربجي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت، لبنان، الطبعة الرابعة عشر، 1407ه.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1418ه.
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، المؤلف: محمد علي بن محمد بن علان الصديقي، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت، لبنان، الطبعة: الرابعة، 1425هـ - 2004م.
- تطريز رياض الصالحين، تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة، الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنِ الْبَرَاءِ رضي الله عنه: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ: «لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللهُ».
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے انصار کے بارے میں فرمایا : "ان سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔ جو شخص ان سے محبت کرے گا، اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو اُن سے بغض رکھے گا اس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ مدینے میں رہنے والے انصار کی محبت کمال ایمان کی علامت ہے۔ ایسا اس لیے کہ انھوں نے اسلام اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بڑھ چڑھ کر مدد کی، مسلمانوں کو پناہ دینے کی کوشش کی اور اللہ کے راستے میں جان و مال کی قربانی دی۔ آپ نے بتایا کہ ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ جو انصار سے محبت رکھے گا، اللہ اس سے محبت رکھے گا اور جو انصار سے بغض رکھے گا، اللہ اس سے بغض رکھے گا۔
فوائد
- اس حدیث میں انصار کی ایک بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ ان سے محبت نفاق سے براءت اور ایمان کی علامت ہے۔
- اولیاء اللہ سے محبت اور ان کی نصرت سے اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔
- اسلام لانے میں سبقت کرنے والی اولین جماعت کی فضیلت۔
حوالہ
صحيح البخاري (5/ 32) (3783).
صحيح مسلم (1/ 85) (75).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 447).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص257).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (6/ 258).
شرح النووي على مسلم (2/ 63).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 350).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن جابر رضي الله عنه: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: وَاللهِ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا.
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اگر میں فرض نماز پڑھتا رہوں, رمضان میں روزہ رکھوں اور حلال کو حلال سمجھوں اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہوں اور اس کے علاوہ کچھ نہ کروں تو آپ ﷺ کی کیا رائے ہے کہ کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں!" اس شخص نے عرض کیا: اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کروں گا-
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت فرمائی کہ جو شخص پانچ وقت کی فرض نمازوں کی پابندی کرے اور نوافل نہ پڑھے، رمضان کے روزے رکھے اور نفلی روزے نہ رکھے، حلال کو حلال سمجھ کر انجام دے اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
فوائد
- اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو فرائض کی انجام دہی اور محرمات سے کنارہ کشی کا حریص رہنا چاہیے اور اس کا مقصد صرف دخول جنت سے سرفرازی ہونا چاہیے۔
- اس حدیث سے حلال کام کو انجام دینے اور اس کی حلت کا عقیدہ رکھنے اور حرام کام سے بچتے رہنے اور اس کی حرمت کا عقیدہ رکھنے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
- واجبات کی ادائیگی اور محرمات سے دوری جنت میں داخل ہونے کا سبب ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 44) (15).
جامع العلوم والحكم (1/513). شرح الأربعين النووية للعثيمين (ص: 215).
فتح القوي المتين في شرح الأربعين للعباد (ص 77).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي مالكٍ الأشعريِّ رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ تَمْلَآنِ -أَوْ تَمْلَأُ- مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا».
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو خود كو آزاد کرنے والا ہوتا ہے يا خود کو تباہ کرنے والا"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ ظاہری طہارت وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اور یہ طہارت نماز کے لیے شرط ہے۔ "الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے۔" الحمد للہ در اصل اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کرنے اور اسے صفات کمال سے متصف کرنے سے عبارت ہے۔ قیامت کے دن اس کلمہ کو ترازو پر وزن کیا جائے گا، تو اس سے عمل کو تولا جانے والا ترازو بھر جائے گا۔ "سبحان الله اور الحمد لله" یہ دونوں کلمات ہر قسم کے نقص سے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسے اس کی جلالت شان کے مطابق کمال مطلق کے وصف سے موصوف کرتے ہیں، جس کے ساتھ اس کی محبت اور اس کی تعظیم بھی ہم رکاب ہوتی ہے۔ یہ دونوں کلمات آسمان وزمین کے درمیان کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ "نماز نور ہے" جو بندے کے دل کو، اس کے چہرے کو، اس کی قبر کو اور اس کی آخرت کو منور کرتی ہے۔ "صدقہ دلیل ہے۔" صدقہ مؤمن کے سچے ایمان والے ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ اس منافق سے مختلف ہے، جو صدقہ سے دامن کش رہتا ہے، کیوں کہ وہ اس اجر وثواب کو سچ نہيں جانتا، جس کا وعدہ صدقہ کرنے والے سے کیا گیا ہے۔ "صبر روشنی ہے۔" صبر نفس کو جزع فزع کرنے اور تقدیر پر ناراضگی ظاہر کرنے سے روکنے کا نام ہے۔ ضیا ایسی روشنی کو کہتے ہیں، جس کے ساتھ حرارت اور جلانے کے اوصاف پائے جائیں۔ جیسے کہ سورج کی روشنی۔ صبر کو ضیا اس لیے کہا گیا ہے کہ صبر کرنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے لیے نفس سے لڑنے اور اسے خواہشات سے روکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب انسان صبر سے کام لیتا ہے، تو اس کی راہیں روشن رہتی ہیں اور وہ صحیح راستے پر گامزن رہتا ہے۔ یہاں صبر سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت گزاری پر گام زن رہا جائے، اس کی نافرمانی سے اجتناب کیا جائے دنیاوی مصائب ومشکلات کا مقابلہ پامردی کے ساتھ کیا جائے۔ "قرآن تمہارے حق میں دلیل ہے۔" قرآن انسان کے حق میں دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تلاوت کرے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرے۔"یا پھر تمہارے خلاف دلیل ہے۔" قرآن انسان کے خلاف دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اس کی تلاوت کرنے سے گریز کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تمام لوگ جد وجہد کرتے، زمین میں پھیل جاتے اور نیند سے بیدار ہوکر اپنے مختلف مشاغل کی غرض سے گھروں سے نکل جاتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ اللہ کی اطاعت پر قائم رہتے ہوئے اپنی جان کو جہنم سے آزاد کر لیتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ اس راہ سے بھٹک کر گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہيں، تو اللہ ان کو جہنم میں داخل کرکے ہلاک کردیتا ہے۔
فوائد
- طہارت کی دو قسمیں ہیں: ظاہری طہارت جو وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اور باطنی طہارت جو توحید و ایمان اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
- پابندی کے ساتھ نماز پڑھنے کی اہمیت، کیوں کہ نماز بندے کے لیے دنیا میں بھی نور ہے اور قیامت کے دن بھی نور رہے گی۔
- صدقہ ایمان کی صداقت کی دلیل ہے۔
- قرآن پر عمل کرنے اور اس کی تصدیق کرنے کی اہمیت، تاکہ قرآن آپ کے حق میں حجت ہو نا کہ آپ کے خلاف۔
- اگر آپ اپنے نفس کو اطاعت میں مشغول نہیں رکھیں گے تو وہ آپ کو گناہ میں مشغول کر دے گا۔
- ہر انسان لا محالہ کچھ نہ کچھ عمل کرتا ہے۔ یا تو وہ اطاعت کے ذریعہ اپنے نفس کو آزاد کر لیتا ہے یا گناہ کے ذریعہ اسے ہلاک کر لیتا ہے۔
- صبر کے لیے تحمل اور احتساب اجر ضروری ہے، جو کہ مشقت آمیز امر ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 203) (223)، شرح الأربعين لابن دقيق العيد (ص 84)، شرح الأربعين النووية للعثيمين (ص: 231)، الرياض الزكية شرح الأربعين النووية للخضير (ص 293)، فتح القوي المتين في شرح الأربعين للعباد (ص 79)
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الجُهَنِيِّ رضي الله عنه أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ».
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں نماز فجر پڑھائی۔ اس دن رات کو بارش ہوئی تھی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف منہ کر کے فرمایا: ’’تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ’’(اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ) میرے کچھ بندوں نے مجھ پر ایمان کے ساتھ صبح کی اور کچھ بندوں نے کفر کے ساتھ صبح کی۔ جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی وہ تو میرا مؤمن بندہ اور ستارے کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی وہ میرا منکر اور ستارے پر ایمان لانے والا ہے۔‘‘
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں، جو کہ مکہ سے قریب ایک گاؤں ہے، صبح کی نماز پڑھائی۔ اس دن رات میں بارش ہوئی تھی۔ جب سلام پھیر چکے اور نماز سے فارغ ہو گئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے دریافت کیا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے ربنے کیا فرمایا؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالی نے یہ بیان فرمایا کہ بارش کے وقت لوگوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں: ایک وہ لوگ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ چنانچہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کے فضل و رحمت سے ہم پربارش نازل ہوئی اور نزول بارش کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرتا ہے، تو ایسا شخص اللہ پر ایمان لانے والا ہے، جو اللہ اس جہان کا خالق اور کائنات میں تصرف کرنے والا ہے۔ ایسا شخص ستارے کا منکر ہے۔ اس کے برخلاف جو یہ کہتا ہے کہ فلاں اور فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی، وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے۔ یاد رہے کہ یہ کفر اصغر ہے۔ کیوں کہ اس نے نزول بارش کو ستارے کی طرف منسوب کیا، جب کہ اللہ نے ستارے کو نہ تو بارش کا شرعی سبب بنایا ہے اور نہ تقدیری سبب۔ البتہ جو شخص نزول بارش اور دیگر زمینی حوادث کو ستاروں کے طلوع ہونے یا ٹوٹ کر گرنے جیسی حرکات کی طرف منسوب کرے اور یہ عقیدہ رکھے کہ وہی حقیقی فاعل ہیں، تو وہ شخص کفر اکبر کا مرتکب ہے۔
فوائد
- نزول بارش کے بعد یہ کہنا مستحب ہے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش نازل ہوئی۔
- جس نے نزول باراں وغیرہ کو ستارے کی طرف اس حیثیت سے منسوب کیا کہ وہی اس کی تخلیق کرتا اور اسے وجود میں لاتا ہے، تو وہ کفر اکبر کا مرتکب ہے۔ لیکن منسوب اس بنیاد پر کرے کہ ستارہ نزول باراں کا سبب ہے، تو وہ کفر اصغر کا مرتکب ہے، کیوں کہ ستارہ نزول باراں کا نہ تو شرعی سبب ہے اور نہ حسی۔
- جب نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے تو وہ کفر کا سبب بن جاتی ہے اور اگر اس پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے، تو وہ ایمان کا سبب بن جاتی ہے۔
- یہ کہنے سے منع کیا گیا ہے کہ "ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی۔" خواہ اس کا مقصد بارش کا وقت بتانا ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ممانعت دراصل شرک کا دروازہ بند کرنے کے لیے ہے۔
- نعمتوں سے فیض یاب ہونے اور مصائب ومشکلات سے دور رہنے کے لیے دل کو اللہ تعالی سے وابستہ رکھنا واجب ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 169) (846)، صحيح مسلم (1/ 83) (71)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (2/ 484)، المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (1/ 260).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي عَلَى الحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيُقَالُ: هَلْ شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ».
اسما بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "میں حوض پر موجود ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا : اے میرے رب! یہ تو میرے آدمی اور میری امت کے لوگ ہیں"۔ مجھ سے کہا جائے گا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا کام کیے تھے؟ اللہ کی قسم! یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہيں کہ قیامت کے دن آپ اپنے حوض پر ہوں گے، تاکہ دیکھیں کہ آپ کی امت کے کون لوگ حوض پر آتے ہیں۔ اس دن کچھ لوگوں کو آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو قریب آنے سے روک دیا جائے گا، تو آپ فرمائیں گے : اے میرے رب! یہ میرے لوگ اور میری امت کے افراد ہیں! چناں چہ آپ سے کہا جائے گا: کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے جانے کے بعد انہوں نے کون سے اعمال کیے؟ اللہ کی قسم! یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے اور اپنے دین سے پھرتے رہے۔ نہ یہ آپ میں سے ہیں اور نہ یہ آپ کی امت کے افراد ہیں۔
فوائد
- امت کے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت اور فکر مندی۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و طریقہ کی مخالفت کی سنگینی۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لازم پکڑنے کی ترغیب۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 121) (6593)، صحيح مسلم (4/ 1793) (2292)، عمدة القاري (23/144)، البحر المحيط الثجاج (37/322).
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com