سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو (ہمیں) قرآن اور سنت کی تعلیم دیں۔ آپ نے ان کے ساتھ ستّر (70) انصاری صحابہ بھیج دیے جنہیں قرّاء کہا جاتا تھا، ان میں میرے ماموں حضرت حرام (بن ملحان) رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

عن أنس رضي الله عنه قال: جاء ناس إلى النبي صلى الله عليه وسلم أن ابعث معنا رجالاً يعلمونا القرآن والسنة، فبعث إليهم سبعين رجلا ًمن الأنصار يقال لهم: القراء، فيهم خالي حَرامٌ، يقرؤون القرآن، ويتدارسون بالليل يتعلمون، وكانوا بالنهار يَجِيئُون بالماء، فيضعونه في المسجد، ويحتطبون فيبيعونه، ويشترون به الطعام لأهل الصُّفَّةِ، وللفقراء، فبعثهم النبي صلى الله عليه وسلم فَعَرَضُوا لهم فقتلوهم قبل أن يبلغوا المكان، فقالوا: اللهم بلَغِّ ْعَنَّا نبينا أنا قد لَقِينَاك فرضينا عنك ورَضِيتَ عَنَّا، وأتى رجلٌ حَرَاماً خال أنس من خلفه، فطعنه برُمْحٍ حتى أَنْفَذَهُ، فقال حَرَامٌ: فُزْتُ ورَبِّ الكعبة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن إخوانكم قد قُتِلُوا وإنهم قالوا: اللهم بلغ عنا نبينا أنا قد لقيناك فرضينا عنك ورضيت عنا».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو (ہمیں) قرآن اور سنت کی تعلیم دیں۔ آپ نے ان کے ساتھ ستّر (70) انصاری صحابہ بھیج دیے جنہیں قرّاء کہا جاتا تھا۔ ان میں میرے ماموں حضرت حرام (بن ملحان) رضی اللہ عنہ بھی تھے، یہ لوگ رات کے وقت قرآن پڑھتے تھے، ایک دوسرے کو سناتے تھے، قرآن کی تعلیم حاصل کرتے تھے، اور دن کو مسجد میں پانی لا کر رکھتے تھے اور جنگل سے لکڑیاں لا کر فروخت کرتے اور اس سے اصحاب صفہ اور فقراء کے لیے کھانا خریدتے تھے، نبی (ﷺ) نے انہیں ان (آنے والے کافروں) کی طرف بھیجا اور انہوں نے منزل پر پہنچنے سے پہلے (راستے ہی میں دھوکے سے) ان پر حملہ کردیا اور انہیں شہید کردیا، اس وقت انہوں نے کہا : ”اے اللہ ! ہماری طرف سے ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہماری تجھ سے ملاقات ہوگئی ہے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہوگیا ہے“۔ اس سانحے میں ایک شخص نے پیچھے سے آ کر انس رضی اللہ عنہ کے ماموں، حرام (بن ملحان) رضی اللہ عنہ کو اس طرح نیزہ مارا کہ وہ آر پار ہوگیا تو انہوں نے کہا ”رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہوگیا“، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : " تمہارے بھائی شہید کردیے گئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے ”اے اللہ ! ہمارے نبی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کرلی ہے، ہم تجھ سے راضی ہوگئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہوگیا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عرب کے کسی قبیلے کا وفد آپ ﷺ کے پاس آیا، ان کا دعویٰ تھا کہ وہ لوگ اسلام لے آئے ہیں اور آپ ﷺ سے ایسے لوگوں کا مطالبہ کیا جو ان کو قرآن سکھائیں، آپ ﷺ نے ان کو ستر (70)صحابہ دیے، ان کو قرآن کا زیادہ حصہ یاد ہونے اور قرآن کے ساتھ زیادہ وابستگی کی وجہ سے انہیں قراء کہا جاتا تھا۔ تاہم قرآن کے ساتھ وابستگی انہیں کسبِ حلال سے نہیں روکتی تھی، اسی وجہ سے انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”وكانوا بالنَّهار يَجِيئُون بالماء، فَيَضَعُونَه في المسجد، وَيَحْتَطِبُونَ فَيَبِيعُونَهُ، ويَشترون به الطعام لأهل الصُّفَّةِ، وللفقراء“ اس کا مطلب یہ ہے کہ دن کو یہ لوگ پانی لا کر مسجد میں رکھ دیا کرتے تھے تاکہ جو چاہے اسے پاکی حاصل کرنے یا پینے یا کسی اور غرض سے استعمال کرے۔ ”وَيَحْتَطِبُونَ فَيَبِيعُونَهُ، ويشترون به الطعام لأهل الصُّفَّةِ، وللفقراء“۔ اصحابِ صفہ وہ فقیر اور غریب لوگ تھے جنہوں نے مسجدِ نبوی کو اپنا ٹھکانا بنایا تھا، مسجد کے آخر میں، مسجد سے الگ ان کے لیے ایک چبوترہ تھا، جس پر سائبان تھا، وہاں وہ رات گزارتے تھے۔ آپ ﷺ نے قرّاء کو بھیجا، جب انہوں نے بئر معونہ پر پڑاؤ ڈالا، یہ اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے کی جگہ تھی، ان کی منزل أبو براء بن مُلَاعِبِ الْأَسِنَّہ کا گھر تھا، تو عامر بن طفیل اور اس کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت نے ان سے قتال کیا۔ ”اللهُمَّ بلِّغ عنَّا نبيَّنا أنَّا قد لَقِينَاكَ فرضِيْنَا عنَّك ورضِيت عنَّا " وفي رواية ’’ألا بَلِّغوا عنَّا قوْمَنا أنا قد لقِيْنَا ربَّنا فَرَضِي عنَّا وأرضَانا“۔ جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے آپ ﷺ کو بتایا ”أَنَّهُمْ قَدْ لَقُوا رَبَّهُمْ فَرَضِيَ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ“ جیسا کہ بخاری کی روایت میں ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے ملاقات کر لی، رب ان سے راضی اور وہ رب سے راضی ہیں۔ آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا ”إن إخْوَانَكم قد قُتِلوا وإنهم قالوا: اللَّهم بلِّغ عنَّا نبيَّنا أنَّا قد لَقِينَاكَ فَرَضِينا عنَّك ورَضِيت عنَّا“۔ یعنی ان کی اطاعت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اور اس کے بدلے اللہ نے جو ان کا اکرام کیا، انہیں بہت سارا خیر دیا اور اس خیر، احسان اور رحمت پر مستزاد یہ کہ اپنی خوشنودی دی اس سے وہ بھی خوش ہیں۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425 هـ. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. صحيح البخاري، ط1، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. الكاشف عن حقائق السنن (شرح المشكاة) للطيبي، تحقيق: عبد الحميد هنداوي، مكتبة الباز، مكة، 1417هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج للنووي ، ط2، دار إحياء التراث العربي - بيروت، 1392هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
صحابہ رضی اللہ عہنہم کی فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com