عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : رسول اللہ ﷺ نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: "تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہو۔ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی طرف دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتلانا کہ اللہ تعالی نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو پھر انہیں بتلانا کہ اللہ تعالی نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے، جو ان کے مال دار لوگوں سے لے کر انہی میں سے فقیر لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو ان کے عمدہ اور قیمتی اموال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا، کیوں کہ اس کے اور اللہ تعالی کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو داعی اور معلم کی حیثیت سے یمن کی جانب بھیجا، تو ان سے کہا کہ ان کو ایک عیسائی قوم کا سامنا کرنا ہے، تاکہ وہ اس کے لیے تیار رہيں اور اس کے بعد بتایا کہ ان کو دعوت کے کام کا آغاز کرتے وقت اہم ترین سے اہم کی طرف رخ کرنے کے قاعدے کا دھیان رکھنا چاہیے۔ چنانچہ سب سے پہلے عقیدے کی اصلاح کی دعوت دینی چاہیے یعنی اس بات کی گواہی کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ اسی گواہی کے ذریعے وہ اسلام میں داخل ہو سکتے ہیں۔ جب وہ یہ گواہی دے دیں، تو ان کو نماز قائم کرنے کا حکم دیں، کیوں کہ نماز توحید کے بعد سب سے بڑا فریضہ ہے۔ جب نماز قائم کر لیں، تو اس قوم کے مال داروں کو حکم دیں کہ اپنے فقیروں کو اپنے اموال کی زکاۃ دیں۔ اس کے بعد ان کو افضل ترین مال لینے سے منع کیا، کیوں کہ (زکاۃ میں) درمیانے قسم کا مال لینا ہی واجب ہوتا ہے۔ پھر ان کو ظلم سے بچنے کی وصیت کی، تاکہ مظلوم کی بد دعا کا شکار نہ ہونا پڑے، کیوں کہ مظلوم کی بد دعا قبولیت سے سرفراز ہو جاتی ہے۔
فوائد
اللہ کے علاوہ کسی کے سچے معبود نہ ہونے کی گواہی دینے کے معنی ہیں: ہر قسم کی عبادت کو صرف اللہ کے لیے خاص کرنا اور اس کے علاوہ دوسروں کی عبادت کو مکمل چھوڑ دینا۔
محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینے کے معنی ہیں، ان پر اور ان کے لائے ہوئے پیغام پر ایمان لانا، ان کی تصدیق کرنا اور اس بات کو ماننا کہ وہ انسانوں کی جانب بھیجے جانے والے آخری رسول ہیں۔
علم رکھنے والے اور شبہات کے شکار شخص کو دعوت دینا جاہل کو دعوت دینے کی طرح نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا : "تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔"
اس بات کی اہمیت کہ ایک مسلمان کو اپنے دین کے سلسلے میں بصیرت کا حامل ہونا چاہیے، تاکہ شبہات پیدا کرنے والوں کے شبہات سے بچ سکے۔ اس کے لیے علم طلب کرنا ضروری ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں کا دین باطل ہو گیا اور اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے ان کو قیامت کے دن نجات نہیں مل سکتی۔ نجات پانے کے لیے اسلام میں داخل ہونا اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانا ضروری ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 119) (1458)، (2/ 128) (1496)، (9/ 114) (7372).
صحيح مسلم (1/ 50) (19).
فتح الباري لابن حجر (13/ 349).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح فوزان (ص54).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص64).
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: نجد کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سن رہے تھے، لیکن سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ جب وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے نزدیک آپہنچا، تب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "دن رات میں پانچ نمازیں پڑھی جائیں"۔ اس نے کہا : کیا ان کے سوا بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نہیں، مگریہ کہ تو نفل پڑھے۔ اور رمضان کے روزے رکھے۔" اس نے کہا : کیا اس کے علاوہ بھی کوئی روزہ مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "نہیں، مگر یہ کہ تو نفل روزے رکھے"۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے زکاۃ کا ذکر کیا۔ وہ کہنے لگا کہ اور کوئی صدقہ مجھ پر ہے یا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "نہیں، مگر یہ کہ تو نفلی صدقہ دے"۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر یہ کہتے ہوۓ چل پڑا کہ قسم اللہ کی! میں نہ اس سے بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر اس نے سچ کہا ہے، تو کامیاب ہو گیا۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
نجد کا رہنے والا ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔ آواز اونچی تھی۔ لیکن کیا کہہ رہا ہے، سمجھ میں نہيں آرہا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور اسلامی فرائض کے بارے میں پوچھنے لگا۔
جواب میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آغاز نماز سے کیا اور بتایا کہ اللہ نے اس پر دن اور رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔
اتنا سننے کے بعد اس نے پوچھا کہ کیا ان پانچ نمازوں کے علاوہ بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟
آپ نے جواب دیا : نہيں۔ البتہ تم نفل نمازیں جتنی چاہو، پڑھ سکتے ہو۔
بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تمھارے اوپر رمضان مہینے کے روزے بھی فرض ہيں۔
اس نے عرض کیا : کیا رمضان مہینے کے روزے کے علاوہ بھی کوئی روزہ مجھ پر فرض ہے؟
آپ نے جواب دیا : نہيں۔ البتہ تم نفل روزے رکھنا چاہو، تو رکھ سکتے ہو۔
پھر آپ نے اس کے سامنے زکاۃ کا ذکر کیا۔
لہذا اس نے پوچھا : کیا فرض زکاۃ کے بعد بھی کوئی صدقہ ضروری ہے؟
آپ نے کہا : نہيں۔ البتہ نفلی صدقے کرنا چاہو، تو کر سکتے ہو۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ان فرائض کو سننے کے بعد وہ شخص واپس چلا گیا۔ جاتے ہوئے اس نے اللہ کی قسم کھاکر بتایا کہ وہ کوئی کمی بیشی کیے بغیر ان فرائض کی پابندی کرے گا۔ اس کی بات سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: یہ آدمی اگر اپنی قسم پر کھرا اترا، تو کامیاب ہو جائے گا۔
فوائد
اسلامی شریعت مکلفین کے لئے ایک کشادہ اور آسان شریعت ہے۔
مذکورہ شخص کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اچھا سلوک کہ اسے قریب آنے اور سوال کرنے کا موقع دیا۔
دعوت الی اللہ کا کام بہ تدریج اہم ترین امور سے اہم امور کی جانب جاتے ہوئے کرنا چاہیے۔
اسلام عقیدہ و عمل کا نام ہے۔ بلا ایمان عمل مفید نہیں اور بلا عمل ایمان کا کوئی فائدہ نہيں۔
ان اعمال کی اہمیت اور یہ اعمال اسلام کے ارکان ہیں۔
جمعے کی نماز پانچ وقت کی فرض نمازوں میں داخل ہے۔ کیوں کہ جمعے کی نماز جس پر واجب ہے، یہ اس کے حق میں اس دن کے ظہر کی نماز کی بدل ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تعلیم کا آغاز اسلام کے اہم ترین فرائض یعنی شہادتین کے بعد کے ارکانِ اسلام سے کیا۔ اس میں دونوں شہادتوں کا ذکر اس لیے نہيں ہے کہ سائل مسلمان تھا۔ اسی طرح حج کا ذکر اس لیے نہيں کیا ہے کہ یہ اس کی فرضیت سے پہلے کا واقعہ ہے یا پھر اس کا وقت نہيں آیا تھا۔
واجبات کی ادائیگی ہی انسان کی کامیابی کے لیے کافی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہيں ہے کہ نوافل کا اہتمام سنت نہیں ہے۔ کیوں کہ قیامت کے دن نوافل کے ذریعے فرائض کی کمیوں کو دور کیا جائے گا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 18) (46).
صحيح مسلم (1/ 40) (11).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين.
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 346).
نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 857).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 242).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں تا آں کہ لوگ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ جو لوگ یہ کرلیں گے وہ مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیں گے سوائے اس حق کے جو اسلام کی وجہ سے واجب ہوگا، باقی رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کو مشرکوں کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا ہے، جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں اور گواہی کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے دن اور رات میں فرض پانچ وقت کی نمازیں ادا نہ کرنے لگيں اور حق داروں کو فرض زکاۃ نہ دینے لگیں۔ جب وہ اتنا کر لیں گے، تو اللہ ان کی جان اور ان کے مال کو تحفظ فراہم کر دے گا اور ان کا قتل حلال نہیں رہ جائے گا۔ ہاں، اگر وہ ایسا جرم کر بیٹھیں کہ اس کی بنا پر اسلامی احکام کی رو سے قتل کے حق دار ٹھہر جائيں تو الگ بات ہے۔ پھر اللہ قیامت کے دن ان کا حساب لے گا، جو ان کے دلوں کی بات جانتا ہے۔
فوائد
احکام ظاہر کی بنیاد پر صادر ہوتے ہیں اور باطن کا حساب اللہ لے گا۔
توحید کی دعوت کی اہمیت۔ دعوت کا آغاز اسی سے کیا جائے گا۔
اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مشرکوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔ دراصل ان کے سامنے دو راستے ہوا کرتے ہیں۔ یا تو اسلام قبول کر لیں یا پھر جزیہ ادا کریں۔ اگر دونوں منظور نہ ہوں، تو احکام اسلام کی رو سے جنگ کی راہ ہی بچ جاتی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 14) (25).
صحيح مسلم (1/ 53) (22).
التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية، لإسماعيل السعدي (ص23).
شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص125).
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھا۔ چلتے ہوئے ایک دن میں آپ سے قریب ہو گیا، تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے، جو مجھے جنت میں لے جائے اور جہنم سے دور رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے اور بے شک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے، جس کے لیے اللہ آسان کر دے۔ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں بھلائی کے دروازے (راستے) نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے، جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے اور آدھی رات کے وقت آدمی کا نماز (تہجد) پڑھنا"۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ”تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ“ کی تلاوت ” يَعْمَلُونَ“ تک فرمائی“ (ترجمہ: ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے، وه خرچ کرتے ہیں۔کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا میں تمھیں دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اے اللہ کے رسول! (ضرور بتائیے)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں ان تمام باتوں کا جس چیز پر دار و مدار ہے، وہ نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اسے اپنے قابو میں رکھو“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں، اس پر پکڑے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری ماں تم پر روئے، اے معاذ! لوگ اپنی زبانوں کے بڑ بڑ ہی کی وجہ سے تو اوندھے منہ (یا فرمایا : اپنے نتھنوں کے بل) جہنم میں ڈالے جائیں گے؟“۔
رواه الترمذي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح بمجموع طرقه
تشریح
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : میں ایک سفر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھا۔ چلتے ہوئے ایک دن میں آپ سے قریب پہنچ گیا، تو عرض کیا : اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائيں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور رکھے۔ آپ نے کہا : تو تم نے ایک ایسے عمل کے بارے میں پوچھا ہے، جو نفس پر شاق گزرتا ہے، لیکن اللہ کی توفیق شامل حال ہو جائے، تو آسان بھی ہے۔ اسلام کے فرائض ادا کرو :
1- تم بس ایک اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ۔
2- دن اور رات میں پانچ وقت کی فرض نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ قائم کرو۔ یہ پانچ نمازیں ہیں، فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔
3- فرض زکاۃ نکالو۔ زکاۃ دراصل ایک مالی عبادت ہے، جو شرعی طور پر مقررہ مقدار تک پہنچنے والے مال پر واجب ہوتی ہے اور حق داروں کو دی جاتی ہے۔
4- ماہ رمضان کے روزے رکھو۔ روزہ نام ہے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج ڈوبنے تک کھانے پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چيزوں سے رکے رہنے کا۔
5- خانۂ کعبہ کا حج کرو۔ دراصل حج نام ہے اللہ کی عبادت کی خاطر مناسک کی ادائیگی کے ارادے سے مکہ کا رخ کرنے کا۔
پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کیا میں تم کو خیر کے دروازوں تک پہنچانے والا راستہ نہ بتاؤں؟ وہ راستہ یہ ہے کہ فرائض کے بعد نوافل کا اہتمام کیا جائے :
1- نفلی روزہ۔ نفلی روزہ انسان کو گناہ میں ملوث ہونے سے روکتا ہے۔ کیوں کہ روزہ شہوت کو توڑتا ہے اور قوت نفسانی کو کمزور کرتا ہے۔
2- نفلی صدقہ گناہ کی آگ کو بجھا دیتا ہے اور اس کے اثر کو مٹا دیتا ہے۔
3- رات کے آخری تہائی حصے میں تہجد کی نماز پڑھنا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالی کا یہ قول پڑھا: {تتجافى جنوبهم} ان کے پہلو دور رہتے ہیں {عن المضاجع} سونے کی جگہوں سے۔ {يدعون ربهم} وہ نماز، ذکر، تلاوت اور دعا کے ذریعے اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ {خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون، فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين} (اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے، وه خرچ کرتے ہیں۔کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔) یعنی لوگ یہ نہیں جانتے کہ ہم نے ان کے اعمال کے بدلے میں قیامت کے دن ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان بہم پہنچانے والی کیا کیا چیزیں اور جنت میں کیا کیا نعمتیں پیدا کر رکھی ہیں۔
بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا: کیا میں تم کو دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟
معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ضرور، اے اللہ کے رسول!
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: دین کی بنیاد اسلام یعنی دونوں گواہیاں (شہادتین) ہیں۔ ان کے ذریعہ انسان کے ہاتھ میں دین کی بنیاد آجاتی ہے۔ اس کا ستون نماز ہے۔ نماز کے بغیر اسلام کا وجود نہیں ہے۔ بالکل ویسے ہی، جیسے ستون کے بغیر کسی گھر کا وجود نہیں ہوتا۔ جو نماز کا پابند ہے، اس کا دین مضبوط اور بلند ہے۔ جب کہ اسلام کی سربلندی کا ذریعہ جہاد اور اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے دین کے دشمنوں سے جنگ کرنا ہے۔
اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا : کیا میں تم کو ایسی چيز نہ بتاؤں، جس سے گزری ہوئی تمام چيزیں مضبوط اور پختہ ہوجاتی ہیں؟ آپ نے اپنی زبان پکڑ لی اور فرمایا : اس پر قابو رکھو اور غیر ضروری باتیں نہ بولو۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیا ہماری کہی ہوئی باتوں کا ہمارا رب ہم سے مؤاخذہ کرے گا، حساب لے گا اور سزا دے گا؟
آپ نے جواب دیا : تمھاری ماں تم کو گم پائے۔ یاد رہے کہ اس جملے سے مراد بد دعا نہیں ہوتی۔ عرب کے لوگ اس کا استعمال انسان کو کسی ایسی بات پر متنبہ کرنے کے لیے کرتے ہيں، جس سے اسے متنبہ ہونا چاہیے تھا۔ پھر آپ نے فرمایا: لوگوں کو ان کے منہ کے بل صرف اس لیے ہی گھسیٹا جائے گا کہ وہ اپنی زبان سے کفریہ کلمات نکالتے‘ سب وشتم‘ غیبت وچغل خوری اور بہتان تراشی وغیرہ کرتے ہیں۔
فوائد
صحابۂ کرام کا حصول علم کے تئیں اہتمام۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آپ سے بہت زیادہ سوال کیا کرتے تھے۔
صحابہ رضی اللہ عنہم کی فقہ۔ کیوں کہ ان کو پتہ تھا کہ اعمال ہی دخول جنت کا سبب ہیں۔
معاذ رضی اللہ عنہ نے جو سوال کیا تھا وہ بہت بڑا سوال ہے۔ کیوں کہ درحقیقت وہی حیات اور وجود کا راز ہے۔ کیوں کہ اس دنیا میں موجود ہر انسان اور جنات کا انجام یا تو جنت ہے یا پھر جہنم۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک غیر معمولی سوال ہے۔
اسلام کے پانچ ارکان کی ادائیگی کا ثمرہ دخول جنت سے سرفرازی ہے۔ یہ پانچ ارکان ہیں : دونوں گواہیاں (شہادتین)، نماز، زکاۃ، روزہ اور حج۔
دین کی بنیاد، سب سے بیش قیمت کام اور سب سے اعلى درجے کا واجب یہ ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے۔
بندوں پر اللہ کی رحمت ہی کا نتیجہ ہے کہ ان کے لیے خیر کے دروازے کھول دیے، تاکہ وہ اجر و ثواب کے حصول اور گناہوں کی بخشش کے کام زیادہ سے زیادہ کریں۔
فرائض کی ادائیگی کے بعد نوافل کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی فضیلت۔
اسلام میں نماز کی وہی اہمیت ہے، جو ایک خیمے کے لیے ستون کی ہے۔ جس طرح ستون ہٹ جانے سے خیمہ گر جاتا ہے، اسی طرح نماز غائب ہو جانے سے اسلام چلا جاتا ہے۔
دین کو نقصان پہنچانے والی تمام چیزوں سے زبان کی حفاظت کی ضرورت۔
زبان کو قابو میں روک کر رکھنا ہر خیر کی بنیاد ہے۔
حوالہ
سنن الترمذي (4/ 362) (2616).
سنن ابن ماجه (5/ 116) (3973).
مسند أحمد (36/ 344) (22016).
التحفة الربانية، لإسماعيل الأنصاري (ص67).
شرح الأربعين النووية، للعثيمين (ص291).
الأحاديث الأربعين النووية مع ما زاد عليها ابن رجب وعليها الشرح الموجز المفيد، لعبد الله بن صالح المحسن (ص57).
مقداد بن عمرو کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اگر میرا کسی کافر سے سامنا ہو جائے اور ہم ایک دوسرے سے لڑائی شروع کر دیں اور وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دے اور پھر مجھ سے بچنے کے لیے ایک درخت کی آڑ لے لے اور کہے کہ میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کیا، تو کیا میں ایسا کہنے کے بعد بھی اسے قتل کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "اسے قتل نہ کرو"۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے تو میرا ایک ہاتھ کاٹ دیا اور ہاتھ کاٹنے کے بعد ایسا کہا؟ (کیا پھر بھی اسے قتل نہیں کرنا چاہیے؟) آپ ﷺ نے فرمایا : "اسے قتل نہ کرو۔ اگر تم اسے قتل کر دو گے، تو وہ اس جگہ پر آ جائے گا، جس پر اس کو قتل کرنے سے پہلے تم تھے اور تم اس جگہ پر چلے جاؤ گے، جس پر وہ اس کلمے کو کہنے سے پہلے تھا"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ جب میدان جنگ میں ان کا سامنا کسی کافر سے ہو جائے، دونوں اپنی اپنی تلوار لے کر ایک دوسرے سے بھڑ جائيں، کافر ان کے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دے، پھر بھاگ کر ایک درخت کی آڑ لے لے اور کہنے لگے کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہيں ہے، تو کیا میرے لیے اس کا قتل حلال ہوگا، جب کہ اس نے میرا ہاتھ کاٹ ڈالا ہے؟
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تم اسے قتل مت کرو۔
جواب سن کر انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ دیا، اس کے باوجود میں اس کا قتل نہ کروں؟
آپ نے فرمایا : تم اس کا قتل مت کرو۔ کیوں کہ اب اس کا خون کرنا حرام ہو چکا ہے۔ اگر مسلمان ہو جانے کے بعد بھی تم اس کا قتل کر دوگے، تو وہ مسلمان ہو جانے کی وجہ سے معصوم الدم ٹھہرا اور تم اس کا قتل کرنے کی وجہ سے بطور قصاص مباح الدم ہو گئے۔
فوائد
جس شخص سے اسلام میں داخل ہونے پر دلالت کرنے والا کوئی قول یا فعل صادر ہو، اس کا قتل حرام ہے۔
جب کوئی کافر دوران جنگ مسلمان ہو جائے، تو اس کا خون محفوظ ہو جاتا ہے اور اس سے دست کش رہنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ہاں، اگر صاف دکھائی دے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے تو بات الگ ہے۔
مسلمان پر واجب ہے کہ اس کی خواہش شریعت کے تابع ہو، نہ کہ عصبیت اور انتقام کے۔
ابن حجر عسقلانی کہتے ہيں : اس بات کو ترجیح دیتے ہوئے کہ اس حدیث میں جس واقعے کے بارے میں پوچھا گیا ہے، وہ واقع نہيں ہوا تھا، اس حدیث سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ کسی مسئلے کے پیش آنے سے پہلے اس کا شرعی حکم دریافت کیا جا سکتا ہے۔ بعض سلف کا اسے ناپسند کرنا ایسے مسائل کے بارے میں پوچھنے پر محمول ہے، جو بہت کم واقع ہوتے ہوں۔ جن مسائل کا عام طور پر سامنے آنا ممکن ہو، ان کا حکم جاننے کے لیے ان کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (5/ 85) (4019).
صحيح مسلم (1/ 95) (95).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 359).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 461).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (6/ 345).
المعجم الوسيط، (2/ 815).
عن أسامة بن زيد رضي الله عنهما ، قال: بَعَثَنَا رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إلى الحُرَقَةِ من جُهَيْنَةَ فَصَبَّحْنَا القَوْمَ على مِيَاهِهِم، ولَحِقْتُ أنا ورجلٌ من الأنصارِ رجلًا منهم، فلما غَشِينَاهُ، قال: لا إله إلا الله، فَكَفَّ عنه الأَنْصَارِيُّ، وطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا المدينةَ، بَلَغَ ذَلِكَ النبيَّ صلى الله عليه وسلم فقال لي: «يا أسامةُ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لا إلهَ إلَّا اللهُ؟!» قُلْتُ: يا رسولَ اللهِ، إنما كان مُتَعَوِّذًا، فقال: «أَقَتَلْتَهُ بعد ما قال: لا إلهَ إلَّا اللهُ؟!» فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حتى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لم أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ اليَوْمِ.
وفي رواية: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أَقَالَ: لا إلهَ إلا اللهُ وَقَتَلْتَهُ؟!» قُلْتُ: يا رسولَ اللهِ، إنما قَالَهَا خَوْفًا من السِّلَاحِ، قال: «أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا؟!» فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ.
وعن جندب بن عبد الله رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بَعْثًا مِن المسلمينَ إلى قومٍ من المشركينَ، وأنهم الْتَقَوا، فَكَانَ رجلٌ مِن المشركينَ إذا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إلى رجلٍ مِن المسلمينَ قَصَدَ له فَقَتَلَهُ، وأَنَّ رجلًا مِن المسلمينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ. وكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أسامةُ بْنُ زيدٍ، فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ، قال: لا إلهَ إلا اللهُ، فَقَتَلَهُ، فجاءَ البَشِيرُ إلى رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ وأَخْبَرَهُ، حتى أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرجلِ كَيْفَ صَنَعَ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ، فقال: «لِمَ قَتَلْتَهُ؟» فقال: يا رسولَ اللهِ، أَوْجَعَ في المسلمينَ، وقَتَلَ فُلانًا وفُلانًا، وسَمَّى له نَفَرًا، وإِنِّي حَمَلْتُ عليهِ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ، قال: لا إلهَ إلا اللهُ. قال رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : «أَقَتَلْتَهُ؟» قال: نعم. قال: «فَكَيْفَ تَصْنَعُ بلا إلهَ إلا اللهُ، إذا جَاءَتْ يَومَ القِيَامَةِ؟» قال: يا رسولَ اللهِ، اسْتَغْفِرْ لِي. قال: «وكَيْفَ تَصْنَعُ بلا إلهَ إلا اللهُ إذا جَاءَتْ يَوْمَ القِيَامَةِ؟» فجعل لا يَزِيدُ على أَنْ يقولَ: «كَيْفَ تَصْنَعُ بلا إلهَ إلا اللهُ إذا جَاءَتْ يَوْمَ القيامةِ».
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ حرقہ کی طرف (مہم پر) بھیجا۔ ہم نے ان لوگوں کو صبح کے وقت ان کے پانیوں پر انہیں جالیا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک انصاری آدمی قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تک پہنچے اور جب ہم نے اسے گھیرلیا تو اس نے کہا ”لا الہ الا ﷲ“۔ انصاری صحابی نے تو (یہ سنتے ہی) ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا۔ جب ہم مدینہ آئے تو اس واقعہ کی خبر نبی ﷺ تک پہنچی۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:’’اسامہ! کیا تم نے کلمہ لا الہ الا اﷲ کا اقرار کرنے کے بعد بھی اسے قتل کر ڈالا؟‘ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اس کا اقرار کیا تھا۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”کیا تم نے اسے ’لا الہ الا ﷲ‘ کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا؟“ آپ ﷺ یہ جملہ بار بار مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش میں اس دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: كيا اس نے لا إله إلا الله کہا اور پھر بھی تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے ایسا اسلحے کے خوف سے کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا کہ تجھے پتہ چل جاتا کہ اس نے خلوص دل سے پڑھا تھا یا نہیں؟، پھر آپ ﷺ بار بار یہی بات دُہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ کاش ! میں اسی روز مسلمان ہوا ہوتا۔
جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکوں کی ایک قوم کی طرف بھیجا اور ان کا آمنا سامنا ہو گیا۔ مشرکوں میں ایک شخص تھا، وہ جس مسلمان کی طرف چاہتا بڑھ کر اسے قتل کر دیتا۔ آخر ایک مسلمان نے اس کو غفلت کی حالت میں جا لیا۔ ہم آپس میں گفتگو کرتے تو کہتے تھے کہ وہ مسلمان اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے۔ پھر جب انھوں نے تلوار اس پر سیدھی کی تو اس نے کہا:لا الٰہ الا اللہ لیکن انھوں نے اسے مار ڈالا۔ اس کے بعد قاصد خوشخبری لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے حال پوچھا۔ اس نے سب حال بیان کیا یہاں تک کہ اس شخص کے بارے میں بھی بتا دیا کہ اس نے کیا کیا۔ آپ ﷺ نے ان کو بلایا اور پوچھا کہ تم نے کیوں اس کو مار ڈالا؟، انہوں (اسامہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: یا رسول اللہ ! اس نے مسلمانوں کو بہت تکلیف دی، فلاں اور فلاں کو قتل کر دیا اور کئی آدمیوں کا نام لیا۔ میں جب اس پر حملہ آور ہوا اور اس نے تلوار کو دیکھا تو لا الٰہ الا اللہ پڑھنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کو قتل کر دیا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن جب یہ کلمہ لا الہ الا اللہ آئے گا تو تم کیا جواب دو گے؟ انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش کی دعا کردیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن جب یہ کلمہ لا الہ الا اللہ آئے گا تو تم کیا جواب دو گے؟ پھر آپ ﷺ نے اس سے زیادہ کچھ نہ کہا اور یہی کہتے رہے کہ: قیامت کے دن جب یہ کلمہ لا الہ الا اللہ آئے گا تو تم کیا جواب دو گے؟۔
اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ایک سریہ میں جہینہ قبیلے کی شاخ حرقہ کی طرف بھیجا۔ جب وہ ان لوگوں پر جا کر حملہ آور ہو گئے تو مشرکین میں سے ایک شخص بھاگ اٹھا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری آدمی اسے قتل کرنے کے ارادے سے اس کے پیچھے لگ گئے۔ جب انہوں نے اسے جا لیا تو اس نے کہا: لا الہ الا اللہ۔ انصاری آدمی نے تو اسے چھوڑ دیا کیونکہ اس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا تھا لیکن اسامہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا۔ جب وہ مدینے واپس لوٹے اور نبی ﷺ تک یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا ’لا الہ الا اللہ‘ کہنے کے بعد بھی تم نے اسے قتل کر دیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں یا رسول اللہ! وہ تو یہ کلمہ صرف قتل ہونے سے بچنے کے لیے پڑھ رہا تھا اور اس کی آڑ لے رہا تھا۔ نبی ﷺ نے ان سے کہا کہ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا تاکہ تمہیں یقینی طور پر اس کا علم ہو جاتا۔ قیامت کے دن جب کلمہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ آئے گا تو پھر تم کیا کرو گے۔ تمہاری کون سفارش کرے گا۔اس وقت تمہاری طرف سے کون جھگڑا کرے گا جب کلمہ توحید کو لایا جائے گا اور تمہیں کہا جائے گا کہ تم نے اس کلمہ کو پڑھنے والے کو کیسے قتل کر دیا؟۔
اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آرزو کی کہ کاش میں نے آج سے پہلے اسلام ہی قبول نہ کیا ہوتا۔ کیوں کہ اگر وہ کافر ہوتے اور پھر مسلمان ہو جاتے تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دیتا۔ لیکن اب تو مسلمان ہونے کی حالت میں ان سے یہ فعل سر زد ہو گیا۔
حوالہ
رياض الصالحين، للنووي، نشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق – بيروت، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، الطبعة: الأولى، 1428هـ - 2007م.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م.
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه.
كنوز رياض الصالحين، نشر: دار كنوز إشبيليا، الطبعة: الأولى، 1430ه 2009م.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه.
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت و مودّت اور باہمی ہمدردی کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے، بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا ہے کہ خیرخواہی، رحمت، آپسی تعاون، مدد اور نقصان سے ہونے والی اذیت کے احساس کے معاملے میں مسلمانوں کا حال ایک جسم کے جیسا ہونا چاہیے کہ جب جسم کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے، تو اس کے ساتھ پورا جسم رات جاگتا ہے اور بخار کا شکار رہتا ہے۔
فوائد
مسلمانوں کے حقوق کو اہمیت دینی چاہیے اور ان کو ایک دوسرے کا تعاون کرنے اور ایک دوسرے کے تئیں نرم پہلو اختیار كرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔
اہل ایمان کے درمیان آپسی محبت اور باہمی نصرت کی فضا ہموار ہونی چاہیے۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 10) (6011).
صحيح مسلم (4/ 1999) (2586).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 246).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 317).
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (4/ 405).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص173).
المعجم الوسيط (1/ 492).
عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ عُمَر رضي الله عنهما قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسلام کو پانچ ارکان پر کھڑی ایک عمارت کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اسلام کے باقی کام اس عمارت کے تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان پانچ ارکان میں سے پہلا رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ یہ دونوں گواہیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ایک ہی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بندہ ان کو اپنی زبان سے، اللہ کے ایک ہونے اور بس اسی کے عبادت کا حق دار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے، ان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے اور آپ کا اتباع کرتے ہوئے، ادا کرے گا۔ دوسرا رکن نماز قائم کرنا ہے۔ دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں ہيں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ ان پانچ نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔ تیسرا رکن فرض زکاۃ دینا ہے۔ دراصل زکاۃ ایک مالی عبادت ہے، جو شریعت کی جانب سے مال کی ایک متعینہ مقدار پر واجب ہوتی ہے اور جسے اس کے حق داروں کو دیا جاتا ہے۔ چوتھا رکن حج ہے۔ حج در اصل اللہ کی عبادت کے طور پر مناسک کی ادائیگی کے لیے مکہ کا قصد کرنے کا نام ہے۔ پانچواں رکن رمضان مہینے کے روزے رکھنا ہے۔ روزہ نام ہے کھانے، پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چیزوں سے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کی عبادت کی نیت سے رکے رہنے کا۔
فوائد
دونوں گواہیاں ایک دوسرے کے ساتھ لازمی طور پر جڑی ہوئی ہيں۔ ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا جائے، تو دوسری صحیح نہیں ہوگی۔ اسی لیے دونوں کو ایک رکن بنایا گیا ہے۔
یہ دونوں گواہیاں دین کی بنیاد ہیں۔ ان کے بغیر کوئی قول اور عمل قبول نہیں ہوگا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 11) (8)، صحيح مسلم (1/ 45) (16)، و(1/ 88) (82)، فتح الباري لابن رجب (1/ 22)، جامع العلوم والحكم (1/147)، شرح الأربعين لابن العطّار (ص 62)، شرح الأربعين النووية لعبد الكريم الخضير (ص 87)، فتح القوي المتين في شرح الأربعين للعباد (ص 29)، شرح الأربعين النووية لصالح آل الشيخ (ص 91 - 95)، التحفة الربانية لإسماعيل الأنصاري (ص 12).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com