اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں یہ وضاحت فرمائی ہے کہ کافر جب اسلام لاتا ہے، تو اسلام لانے سے قبل زمانۂ جاہلیت میں جو نیک اعمال اس نے کیے تھے، ان کا بھی اجر وثواب اسے ملتا ہے۔ جیسے صدقہ و خیرات کرنا، غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی کرنا۔
- دنیا میں کافر جو نیکیاں کرتا ہے، اگر کفر کی حالت میں اس کی وفات ہوجائے، تو آخرت میں ان نیکیوں کا کوئی ثواب اسے نہیں ملے گا۔
صحيح البخاري (2/ 114) (1436)، صحيح مسلم (1/ 113) (123)، المفهم (1/332)، شرح النووي على مسلم (2/140)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (22/ 96)، فتح الباري لابن حجر (3/ 302)، البحر المحيط الثجاج (3/499).