سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

’’جس نے ہماری نماز پڑھی، ہمارے قبلے کا استقبال کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا، تو وہی مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے، اس لیے اللہ کے ذمہ کو نہ توڑو۔‘‘

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى صَلاَتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ المُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، فَلاَ تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے ہماری نماز پڑھی، ہمارے قبلے کا استقبال کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا، تو وہی مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے، اس لیے اللہ کے ذمہ کو نہ توڑو۔‘‘
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ جو شخص دین کے ظاہری شعائر کا التزام کرے؛ اس طرح کہ وہ ہماری طرح نماز پڑھے، ہمارے قبلے، کعبہ کی طرف رخ کرے اور ہمارے ذبیحے کو حلال جانتے ہوئے کھائے، تو یہی وہ مسلمان ہے جسے اللہ اور اس کے رسول کی امان اور عہد حاصل ہے۔ اس لیے تم اس کے بارے میں اللہ کی امان اور اس کے عہد کو مت توڑو۔

فوائد
  1. ابن رجب کہتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ محض شہادتین (کا اقرار کر لینے) سے جان محفوظ نہیں ہو جاتی، جب تک کہ ان کے حقوق ادا نہ کیے جائیں۔ ان حقوق میں سب سے ضروری حق نماز ہے؛ اسی لیے اس کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ اور ایک دوسری حدیث میں نماز کے ساتھ زکاۃ کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
  2. لوگوں کے معاملات کا فیصلہ ان کے باطن سے نہیں، بلکہ ظاہر سے ہوتا ہے۔ چنانچہ جو شخص دین کے شعائر کا اظہار کرے، اس پر اہل اسلام کے احکام جاری ہوں گے، جب تک کہ اس سے اس کے خلاف کوئی بات ظاہر نہ ہو۔
  3. ابن رجب کہتے ہیں: قبلہ کی طرف رخ کرنے کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمانوں کی وہی نماز ادا کرنا ضروری ہے جو ان کے نبی پر نازل کردہ کتاب میں مشروع ہے، یعنی کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا۔ چنانچہ جو شخص اس حکم کے منسوخ ہو جانے کے بعد یہودیوں کی طرح بیت المقدس کی طرف یا نصاریٰ کی طرح مشرق کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے، تو وہ مسلمان نہیں، اگرچہ وہ توحید کی گواہی ہی کیوں نہ دیتا ہو۔
  4. یہ حدیث نماز میں استقبالِ قبلہ کی عظمت پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ نماز کی شرائط میں سے اس کے علاوہ دیگر شرائط، جیسے طہارت وغیرہ، کا ذکر نہیں کیا گیا۔
  5. ابن رجب نے فرمایا: مسلمانوں کے ذبیحہ کے کھانے کے ذکر میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام کے تمام ظاہری احکام کی پابندی ضروری ہے، اور ان میں ایک عظیم ترین حکم مسلمانوں کا ذبیحہ کھانا اور ان کے ذبیحہ میں ان کی موافقت کرنا ہے۔ چنانچہ جو اس سے دامن کش رہے، وہ مسلمان نہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 87) (391). إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (1/ 410). عمدة القاري شرح صحيح البخاري (4/ 125).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اسلام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com