عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه عن النبيِّ -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم- أَنَّهُ قَالَ: «الخَاِزنُ المسلم الأمين الَّذِي يُنْفِذُ ما أُمِرَ بِهِ فَيُعْطِيهِ كَامِلاً مُوَفَّراً طَيِّبَةً بِهِ نَفسُهُ فَيَدْفَعُه إلى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ، أَحَدُ المُتَصَدِّقِين».
وفي رواية: «الذي يُعطِي مَا أُمِرَ به».
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ” مسلمان امانت دار خزانچی جسے کسی چیز کے دینے کا حکم دیا جائے اور وہ اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے پوری طرح بنا کسی کمی کے خوش دلی کے ساتھ اس شخص کو دے جسے دینے کا اسے حکم دیا گیا ہو تو اس کا شمار صدقہ کرنے والوں میں سے ہوتا ہے“۔
اور ایک روایت میں ہے ”جو شخص وہ چیزیں دیتا ہے جسے دینے کا اُسے حکم دیا گیا ہو“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔درجہصحیح
تشریح
”الخازن“ مبتدا ہے اور ”أحد المتصدقين“خبر ہے۔ یعنی وہ خزانچی جس میں یہ چار اوصاف موجود ہوں یعنی اسلام، امانت، جس چیز کی ادائیگی کا اُسے حکم دیا جائے وہ اس کی تنفیذ کرے، اور یہ کہ جس وقت وہ خرچ کرے اور دے تو انشراح قلب، چہرے کی بشاشت اور خوشی سے دے۔
مسلمان ہونے کی قید میں کافر سے احتراز ہے۔ اگر خزانچی کافر ہو تو اسے کوئی اجر نہیں ملتا اگرچہ وہ امانت دار ہی کیوں نہ ہو اور جس بات کا اسے حکم دیا جائے اسے پورا ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ کیونکہ کفار جو اچھے اعمال کرتے ہیں ان کو آخرت میں کوئی اجر نہیں ملتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا﴾ ترجمہ:”اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے ہم نےان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگنده ذروں کی طرح کردیا“۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ وَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾۔ ترجمہ:”اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں، ان کے اعمال دنیوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے۔ یہ لوگ جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں ہی رہیں گے“۔تاہم نیک اعمال کرنے کے بعد اگر وہ اسلام لے آئے تو اس نے جو پہلے نیکیاں کی ہوتی ہیں ان کے ساتھ وہ اسلام لاتا ہے اور ان پر اسے اجر دیا جاتا ہے (یعنی اُس کی زمانۂ کفر کی نیکیوں کا بھی اعتبار کیا جاتا ہے)۔
دوسری صفت: امانت دار۔ یعنی جس شے کی اسے امانت سونپی گئی ہو اسے وہ پورا کرے۔ مال کی حفاظت کرے، اسے خراب نہ کرے، اس میں افراط نہ برتے اور نہ ہی اس میں کوئی بے جا تصرف کرے۔تیسری صفت: جس بات کا اسے حکم دیا جائے اسے وہ بجا لائے یعنی اسے انجام دے۔ کیونکہ بعض اوقات کوئی شخص امین تو ہوتا ہے لیکن سست ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ شخص امین بھی ہے اور جس کام کا اسے حکم دیا جاتا ہے اسے پورا کرنے والا بھی ہے۔ چنانچہ اس میں قوت اور امانت دونوں صفات موجود ہیں۔
چوتھی صفت: جس بات کا اس کو حکم دیا جائے اس کی انجام دہی کے وقت اور جس شے کو دینے کا اسے کہا گیا ہو اسے دیتے وقت وہ خوش دل ہو یعنی جسے دے اس پر احسان نہ جتلائے اور نہ ہی اس پر یہ ظاہر کرے کہ وہ اس پر فضیلت رکھتا ہے بلکہ خوشدلی کے ساتھ اسے دے۔ یہ شخص صدقہ کرنے والوں میں سے گردانا جائے گا حالانکہ اس نے اپنے مال میں سے ایک پیسہ بھی نہیں دیا۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425 ه.
رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ.
رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ.
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ.
شرح رياض الصالحين للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن میرے پاس ایک عورت آئی۔ اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں بھی تھیں۔ اس نے مجھ سے مانگا لیکن اُسے میرے پاس سے ایک کھجور کے علاوہ کچھ بھی نہ مل سکا۔ چنانچہ میں نے اس کو وہی ایک کھجور دے دی۔ اس نے اس کھجور کو اپنی دونوں بچیوں میں بانٹ دیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا۔ پھر وہ اٹھ کر چلی گئی۔ اتنے میں نبی ﷺ گھر تشریف لائے۔ میں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ان بچیوں کی وجہ سے کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ سے آڑ بن جائیں گی“۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔درجہصحیح
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک عورت آئی جس کے ساتھ دو بیٹیاں تھیں۔ وہ آپ رضی اللہ عنہا سے مانگ رہی تھی کیونکہ وہ غریب عورت تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اسے میرے پاس سے صرف ایک کھجور ہی ملی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اسے یہ دے دی۔ اس نے یہ کھجور آدھی آدھی کر کے اپنی دونوں بیٹیوں میں تقسیم کردی۔ آدھی ایک بیٹی کو دے دی اور آدھی دوسری کو اور خود اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا۔نبی ﷺ جب عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا کیونکہ یہ بہت عجیب وغریب قصہ تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کو ان بیٹیوں کی وجہ سے کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اوراس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے پردہ بن جائیں گی“۔
نبی ﷺ کے فرمان: ”جس شخص کی آزمائش کی گئی“ سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اس سے مراد بری آزمائش ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جس کے مقدر میں یہ ہوئیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾ [الأنبياء: 35] ترجمہ:”ہم بطریق امتحان تم میں سے ہر ایک کو برائی بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہمارہی ہی طرف لوٹائے جاؤگے“۔ یعنی جس کے مقدر میں دو بیٹیاں ہوئیں اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھا تو وہ قیامت کے دن اس کے لیے جہنم کی آگ سے آڑ بن جائیں گی۔ یعنی بیٹیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ سے اوٹ میں کر دے گا کیونکہ بیٹی کمزور ہوتی ہے اور کمائی نہیں کر سکتی۔ کمائی مرد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾ [النساء: 34]۔
ترجمہ: ”مرد عورتوں پر حاکم ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں“۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 7) (5995).
صحيح مسلم (4/ 2027) (2629).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 353).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص199).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (5/ 151).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 106).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 277).
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہوں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! روک کر رکھنے والے کے مال کو ہلاک کردے"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہر دن، جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، دو فرشتے اتر کر پکارتے ہیں۔ ایک کہتا ہے:
اے اللہ! نیکی کے کاموں میں، بال بچوں پر، مہمانوں پر اور دیگر نفلى کاموں میں خرچ کرنے والوں کو بہتر بدلہ عطا فرما اور اس کے مال میں برکت دے۔
جب کہ دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے سے ہاتھ روک کر رکھنے والے کے مال کو، جسے اس نے حق داروں کو دینے سے روک کر رکھا ہے، تباہ کر دے۔
فوائد
سخی کے لیے مزید بدلے کی دعا کرنا اور یہ دعا کرنا بھی جائز ہے کہ جو اس نے خرچ کیا ہے، اس سے بہتر اسے نصیب ہو۔ نیز بخیل کو یہ بد دعا دینا جائز ہے کہ وہ مال برباد ہوجائے جس مال میں اس نے بخیلی کی اور جس کام میں اللہ نے اس پر خرچ کرنا واجب قرار دیا ہے، اس میں خرچ کرنے سے گریزاں رہا۔
فرشتے ان نیک مومنوں کے لیے خیر وبرکت کی دعا کرتے ہیں جو خرچ کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ فرشتوں کی دعا قبول ہوتی ہے۔
واجب اور نفلی کاموں، جیسے اہل و عیال پر، صلہ رحمی میں اور نیکی کے تمام کاموں میں خرچ کرنے کی ترغیب۔
نیکی کے کاموں میں خرچ کرنے والے کی فضیلت کے ساتھ ساتھ اس بات کا بیان کہ اللہ اسے بہتر صلہ عطا کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: "تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وه سب سے بہتر روزی دینے واﻻ ہے۔" [سورہ سبا: 39]
یہ بد دعا واجب نفقوں سے دست کش رہنے والے کے خلاف ہے۔ مستحب نفقے اس میں داخل نہيں ہوں گے۔ کیوں کہ ایسا کرنے والا اس بد دعا کا مستحق نہيں ہے۔
بخیلی اور کنجوسی حرام ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 115) (1442).
صحيح مسلم (2/ 700) (1010).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 157).
نزهة المتقين بشرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 293).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 376).
عن أبي أمامة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أفضل الصَّدَقَات ظِلُّ فُسْطَاطٍ في سَبِيل الله ومَنِيحَةُ خَادِم في سَبِيل الله، أو طَرُوقَةُ فَحْلٍ في سَبِيل الله».
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین صدقہ اللہ کی راہ میں سایہ دار خیمہ لگانا، یا اللہ کے راستے میں کسی خادم کاعطیہ دینا، یا اللہ کے راستے میں (جفتی کے قابل) جوان اونٹنی دینا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح
انسان کا بہترین صدقہ یہ تین چیزیں ہیں: خیمے کا سایہ مہیا کرنا، یا خادم کا عطیہ دینا، یا جفتی کے قابل جوان اونٹی کا صدقہ کرنا، خواہ یہ صدقہ اللہ کے راستے میں مجاہدین پر ہو، یا ان کے علاوہ دیگر محتاج لوگوں پر ہو۔ اس لئے کہ محتاجوں پر صدقہ کرنا بھی اللہ کے رساتہ میں دینا ہے۔
مذکورہ چیزوں کی افضلیت شاید اس لیے ہے کہ اس زمانے میں لوگوں کو ان کی ضرورت تھی، جس کی وجہ سے نبی ﷺ نے انھیں ان چیزوں کے صدقہ کی ترغیب دی۔ البتہ اب لوگوں کو ان اشیاء کی ضرورت نہ ہونے کے برابر ہے، یا ہے تو وہ صرف کچھ جگہوں میں اور بہت ہی کم ہی باقی ہے۔ جب کہ حکم اکثر کے تابع ہوتا ہے۔
حوالہ
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه .
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي - الطبعة الأولى1418ه
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ
مرقاة المفاتيح :علي بن سلطان محمد، أبو الحسن نور الدين الملا الهروي القاري، دار الفكر، بيروت - لبنان الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م
مجموع فتاوى العلامة عبد العزيز بن باز، أشرف على جمعه وطبعه: محمد بن سعد الشويعر.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، اور آپ ﷺ نے صدقے اور دوسروں سے سوال کرنے سے بچنے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے،اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
رسول اللہﷺ نے صدقے کی فضیلت اور دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کی مذمت بیان کی ہے اور یہ بتایا ہےکہ جو شخص بھلائی کے کاموں میں اپنا مال دیتا اور خرچ کرتا ہے وہ اس شخص سے افضل ہے جو لوگوں سے ان کا مال مانگتا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 112) (1429).
صحيح مسلم (2/ 717) (1033).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 590).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 465).
التوضيح لشرح الجامع الصحيح، لابن الملقن (10/ 315).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 388).
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، المباركفوري (3/ 288).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص212).
عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أيُّكم مالُ وارثِه أحَبُّ إليه من مالَه؟» قالوا: يا رسول الله، ما منَّا أحد إلا مَالُه أحَبُّ إليه. قال: «فإن مالَه ما قدَّم، ومالُ وارثِه ما أخَّر».
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں کون ہے وہ شخص کہ جسے اپنے وارث کا مال خود اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا تو کوئی بھی نہیں، ہر کسی کو اپنا ہی مال زیادہ محبوب ہے- آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا مال وہی ہے جو اس نے آگے بھیجا (جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا) اور جتنا مال وہ چھوڑ گیا وہ اس کے وارثوں کا ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ اپنے صحابہ سے دریافت کر رہے ہیں کہ تم میں ایسا کون شخص ہوگا جسے اپنے وارث کا مال خود اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟ یعنی تم میں سے کون شخص ہے جسے اپنے بعد اپنے وارث کی ملکیت میں آنے والا مال اس مال سے زیادہ محبوب ہے جو اس کی زندگی میں اس کی ملکیت ہے؟ صحابہ نے جواب دیا کہ ہم میں سے ہر کسی کو اس کا اپنا مال ہی زیادہ محبوب ہے۔ یعنی ہر شخص اسی مال کو زیادہ محبوب رکھتا ہے جو اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور جس پر اسے تصرف مطلق حاصل ہوتا ہے بنسبت کسی دوسرے کے مال کے ۔ کیونکہ جو مال اس کی ملکیت ہے وہ اس کی خواہشات و رغبات کے پورا ہونے کا ایک ذریعہ ہوتاہے۔
”آدمی کا مال وہ ہے جو اس نے آگے بھیجا“ اس سے مراد وہ مال جسے انسان اپنی زندگی میں اپنے اوپر صرف کرتاہے یا پھر نیک اعمال میں لگاتا ہے جیسا کہ حج یا وقف یا پھر کسی مدرسے ، مسجد اور ہسپتال کی تعمیر میں صرف کرتا ہے یا پھر خود اپنے آپ پر اور اپنے اہل خانہ پر خرچ کرتاہے ۔ یہی اس کا حقیقی مال ہوتاہے جسے وہ روز قیامت اپنےسامنے پائے گا (یعنی اسے خرچ کرنے کا اجر اسے ملے گا) ۔ باقی رہا وہ مال جسے وہ اپنی زندگی میں جمع کر کرکے رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے وہ اس کے وارثوں کا مال ہوتا ہے جس میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
اس باب کے معنی میں وہ روایت بھی ہے جسے امام مسلم نے عبداللہ بن شِخیر رضی اللہ عنہ کے طریق سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ ﷺ سورہ ’أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ‘ پڑھ رہے تھے، آپ ﷺ نے اس وقت فرمایا ابن آدم میرا مال میرا مال کی رٹ لگاتا ہے، کہا ابن آدم تیرا مال اس کے سوا اور کیا ہے جسے تونے کھا پی کر ختم کردیا، یا پہن کر اسے بوسیدہ کردیا یا اسے صدقہ کرکے چلتا بنا۔
تاہم اس کا یہ معنی بھی نہیں ہے کہ انسان اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردے پھر وہ اور اس کے بچے لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرتے پھریں، بلکہ حدیث کا مدعا یہ ہے کہ انسان جس طرح اپنے بعد اپنے وارثین کے لیے مال ودولت جمع کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے اسی طرح اپنے ذاتی اخراجات، نیز اپنے اہل و عیال جیسے بیوی بچے اور والدین کے صرفے سے جو رقم زائد ہو اُس سے اپنی آخرت کے لیے بھی زادِ راہ جمع کرنے کی کوشش کرے، اس لیے اُن پر خرچ کرنا واجب ہے اگر اُن پر خرچ نہیں کرے گا تو انسان گناہ گار ہوگا، اس پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جس کی روایت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ”اے ابن آدم! اگر تو اپنے مال کو خرچ کرتا ہے تو یہ تیرے حق میں بہتر ہے اور اگر اُسے روکے رکھتا ہے تو تیرے حق میں بُرا ہے“۔
حوالہ
كنوز رياض الصالحين ، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه.
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ، الطبعة الرابعة عشرة 1407 هـ
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ.
رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة: الأولى، 1428 هـ .
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، تحقيق خليل مأمون شيحا-دار المعرفة-بيروت-الطبعة الرابعة 1425ه.
عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا حَسَدَ إلا في اثنتين: رجل آتاه الله مالا، فسَلَّطَه على هَلَكَتِهِ في الحَقِّ، ورجل آتاه الله حِكْمَة، فهو يقضي بها ويُعَلِّمَها».
وعن ابن عمر رضي الله عنهما ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا حسد إلا في اثنتين: رجل آتاه الله القرآن، فهو يقوم به آناء الليل وآناء النهار، ورجل آتاه الله مالا، فهو ينفقه آناء الليل وآناء النهار».
ابن مسعود رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اسے اس کو راہ حق میں خرچ کرنے پر لگا دیا ہو اور دوسرا یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے حکمت ( کی دولت) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ساتھ فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو“۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے؛ ایک تو یہ کہ کسی آدمی کو اللہ تعالی قرآن سے نوازے اور وہ دن رات اس (کی تلاوت اور تعلیم و تدریس) میں لگا رہے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ مال عطا کرے اور وہ دن رات اسے (وجوہ خیر میں) خرچ کرتا رہے“۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں نبی ﷺ اس بات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ حسد کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ کوئی حسد تو وہ ہوتا ہے جو مذموم اورشرعا حرام ہوتا ہے۔ اس سے مراد وہ حسد ہے جس میں آدمی یہ تمنا کرتا ہے کہ اس کے بھائی سے نعمت چھن جائے۔ ایک حسد وہ ہوتا ہے جو مباح ہے۔ اس سے مراد وہ حسد ہے جس میں آدمی کسی دوسرے کے پاس کوئی دنیاوی نعمت دیکھتا ہے اور تمنا کرتا ہے کہ اسی طرح کی نعمت اسے بھی مل جائے۔ اسی طرح ایک حسد وہ ہوتا ہے جو شرعا قابل تعریف اور مستحب ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی اور کے پاس کوئی دینی نعمت دیکھے اور خواہش کرے کہ وہ اسے بھی مل جائے۔ نبی ﷺ کی یہاں آپ ﷺ کے فرمان ”حسد صرف دوصورتوں میں جائز ہے“ میں حسد سے مراد حسد کی یہی قسم ہے۔ یعنی یہ کہ حسد کی مختلف انواع کے اعتبار سے ان کا حکم بھی مخلتف ہوتا ہے اور یہ شرعی طور پر قابل تعریف اور مستحب صرف دو ہی صورتوں میں ہوتا ہے:
پہلی صورت: کوئی ایسا شخص ہو جو مالدار بھی ہو اور صاحب تقوی بھی۔ اسے اللہ نے بہت سا حلال مال دیا ہو اور وہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرے۔ اسے دیکھ کر آدمی تمنا کرے کہ کاش وہ بھی اس کی طرح کا ہو اور وہ اس نعمت پر اس پر رشک کرے۔
دوسری صورت: کوئی ایسا عالم شخص ہو جسے اللہ نے علم نافع سے نوازا ہو جس پر وہ خود بھی عمل کرتا ہو اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتا ہو اور اس کے ذریعے لوگوں کے مابین فیصلے کرتا ہو۔اسے دیکھ کر آدمی خواہش کرے کہ وہ بھی اس کی طرح کا ہو جائے۔
حوالہ
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، نسخة الكترونية، لا يوجد بها بيانات نشر.
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ، الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ
رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ
منار القاري، تأليف: حمزة محمد قاسم، الناشر: مكتبة دار البيان ، عام النشر: 1410 هـ.
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، أي الصدقة أعظم أجرًا؟ قال: «أن تَصَدَّقَ وأنت صحيحٌ شَحِيحٌ، تخشى الفقر وتَأَمَلُ الغِنى، ولا تُمْهِلْ حتى إذا بلغتِ الحُلْقُومَ قلت: لفلان كذا ولفلان كذا، وقد كان لفلان».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! کس طرح کے صدقہ میں سب سے زیادہ ثواب ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس صدقہ میں جسے تم صحت کے ساتھ بخل کے باوجود کرو، تمہیں ایک طرف تو فقیری کا ڈر ہو اور دوسری طرف مال دار بننے کی امید ہو اور (اس صدقہ خیرات میں ) سستی نہیں ہونی چاہیے کہ جب جان حلق تک آجائے تو اس وقت تم کہنے لگو کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا ہے، حالانکہ وہ تو فلاں کا ہوچکا ہو گا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ کون سا صدقہ سب سے افضل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (افضل ترین صدقہ یہ ہے) کہ تم صحت مندی کی حالت میں تنگ دلی (بخل) کے ساتھ صدقہ کرو بایں طورکہ زندگی لمبی ہونے کی صورت میں تمہیں فقر کا اندیشہ ہو اور امیری کی تمنا بھی تمہارے دل میں ہو اور صدقہ کرنے میں تاخیر نہ کرو یہاں تک کہ جب موت آپہنچے اورتمہیں یقین ہو جائے کہ اب دنیا سے جانے کا وقت آ گیا ہے تو تم کہو کہ اتنا مال فلاں کے لیے بطور صدقہ ہے یا ازراہ وصیت اسے دے دیا جائے اور اُتنا مال فلاں کو بطور صدقہ یا ازراہ وصیت دے دیا جائے حالانکہ اب تو مال تمہارے غیر کا ہو ہی چکا جو تمہارا وارث بنے گا۔
حوالہ
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م.
- شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي.
- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
- رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com