ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، اور آپ ﷺ نے صدقے اور دوسروں سے سوال کرنے سے بچنے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے،اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
رسول اللہﷺ نے صدقے کی فضیلت اور دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کی مذمت بیان کی ہے اور یہ بتایا ہےکہ جو شخص بھلائی کے کاموں میں اپنا مال دیتا اور خرچ کرتا ہے وہ اس شخص سے افضل ہے جو لوگوں سے ان کا مال مانگتا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 112) (1429).
صحيح مسلم (2/ 717) (1033).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 590).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 465).
التوضيح لشرح الجامع الصحيح، لابن الملقن (10/ 315).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 388).
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، المباركفوري (3/ 288).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص212).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com