سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ تعالی نے فرمایا: ”اے ابن آدم ! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «قَالَ اللهُ: أَنْفِقْ يَا ابْنَ آدَمَ أُنْفِقْ عَلَيْكَ».
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی نے فرمایا: ”اے ابن آدم ! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیان فرما رہے ہيں کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمايا: اے آدم کی اولاد! تم ان جگہوں میں خرچ کرو، جہاں خرچ کرنا واجب اور مستحب ہے، میں تم کو کشادگی عطا کروں گا، تمھیں اس کا بدلہ عطا کروں گا اور اس میں تمھارے لیے برکت ڈال دوں گا۔

فوائد
  1. صدقہ کرنے اور اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب۔
  2. نیک کاموں میں خرچ کرنا روزی میں اضافه اور برکت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ بندے کو اس کے خرچ کرنے کا بدلہ عطا کرتا ہے۔
  3. یہ حدیث ان حدیثوں میں سے ہے، جن کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسی حدیث جس کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کی جانب سے ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے اندر قرآن کے وہ خصائص نہيں پائے جاتے، جن کی بنیاد پر اسے ایک الگ امتیاز حاصل ہے۔ مثلا اس کی تلاوت کے ذریعہ اللہ کى عبادت کرنا، اس کى تلاوت کے لیے طہارت حاصل کرنا، اس کا معجزہ ہونا اور اس جیسا کلام پیش کرنے کا چیلنج پیش کیا جانا وغیرہ۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 62) (5352). صحيح مسلم (2/ 690) (993). شرح النووي على مسلم (7/ 79). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 603).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نفقہ/ خرچ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com