سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نفقہ/ خرچ

10 احادیث

مناسب انداز سے اس کے مال میں سے اتنا لے لو، جو تمھیں اور تمھاری اولاد کے لیے کافی ہو۔

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المؤْمنينَ رَضيَ اللهُ عنها قَالَت: دَخَلَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ امْرَأَةُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، لَا يُعْطِينِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يَكْفِينِي وَيَكْفِي بَنِيَّ إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمِهِ، فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ جُنَاحٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ مَا يَكْفِيكِ وَيَكْفِي بَنِيكِ».
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ھند بنت عُتبۃ رضی اللہ عنہا اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل آدمی ہے، وہ مجھے اتنا نفقہ نہیں دیتا، جو میرے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو، تاہم میں اس کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ لے لیتی ہوں۔ کیا اس میں میرے اوپر کوئی گناہ ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مناسب انداز سے اس کے مال میں سے اتنا لے لو، جو تمھارے اور تمھاری اولاد کے لیے کافی ہو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ھند بنت عتبہ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ مانگا کہ ان کا شوہر انھیں اتنا خرچ نہیں دیتا، جو ان کے اور ان کی اولاد کے لیے کافی ہو، تو کیا وہ اپنے شوہر ابو سفیان کے مال سے ان کی اجازت کے بغیر لے سکتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار اچھے طریقے سے لینے کے جواز کا فتویٰ دیا، جو ان کے لیے کافی ہو۔ یعنی زیادتی اور تعدی نہ ہو۔

حوالہ

صحيح البخاري (3/ 79) (2211). صحيح مسلم (3/ 1338) (1714). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص700). الإعلام بفوائد عمدة الأحكام، لابن الملقن (10/ 12).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو تو تمہارے حق میں یہ بہتر ہے۔

عن كَعْب بن مالك رضي الله عنه قال: قلتُ: يا رسولَ الله، إن مِن تَوبتي أن أَنْخَلِعَ مِنْ مالي؛ صدقةً إلى الله وإلى رسولِه، فقال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم : "أمسِكْ عليك بعضَ مالِكَ؛ فهو خيرٌ لكَ".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری توبہ قبول ہونے کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا مال، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے راستے میں دے دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو، تو تمھارے حق میں یہ بہتر ہوگا۔“
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ، ان تین صحابہ میں سے ایک تھے، جو غزوۂ تبوک میں پیچھے رہ گئے اور پیچھے رہ جانے کی وجہ کسی طرح کا نفاق یا عذر نہیں تھا۔ جب نبی ﷺ کی اس غزوے سے واپسی ہوئی، تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ قطع تعلق فرمالیا اور اپنے صحابہ کو بھی ان سے قطع تعلق کرنے کی ہدایت فرمادی۔ یہ قطع تعلقی کا سلسلہ جاری رہا، تاآں کہ سورۂ توبہ نازل ہوئی اور انھیں اللہ تعالیٰ کی رضامندی نصیب ہوئی اور رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام بھی ان سے راضی ہو گئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور توبے کی قبولیت سے کعب رضی اللہ عنہ اس قدر فرحاں و شادماں ہوئے کہ اپنے سارے مال کو اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی میں صدقہ کرنے کا عزم کرلیا، تاہم نبی ﷺ نے انھیں اس سے باز رہنے کی رہ نمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے پاس کچھ مال رکھ لو۔ چوں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں جب یہ بات آگئی کہ وہ اپنی نیت میں بالکل راست باز اور ان کی توبہ خالص ہے، تو اس نے ان کے گناہ بخش دیے اور ان کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ فرمایا۔ ایسے میں وہ یہ صدقہ نہ بھی کرتے (تو کوئی فرق نہیں پڑتا)، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده کا مکلف نہیں بناتا۔ پھر انھوں نے اللہ کی رضا وخوش نودی سے خوش ہوکر اپنا کچھ مال صدقہ کردیا؛ تاکہ اپنے پروردگار کے پاس اجر و ثواب کے ذخائر کا ذخیرہ ہو اور کچھ مال اپنے پاس رکھ چھوڑا؛ تاکہ اپنے مصالح جیسے خود اپنے اور اپنے اہل و عیال کے واجب نفقات پر خرچ کر سکیں۔ اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔

حوالہ

-صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. -صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. -عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. -تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414ه. -تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. -الإلمام بشرح عمدة الأحكام, إسماعيل الأنصاري, الطبعة الثانية 1392هـ. -الشرح الممتع على زاد المستقنع، محمد بن صالح بن محمد العثيمين، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى، 1422- 1428هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى المِنْبَرِ، وَذَكَرَ الصَّدَقَةَ، وَالتَّعَفُّفَ، وَالمَسْأَلَةَ: «اليَدُ العُلْيَا خَيْرٌ مِنَ اليَدِ السُّفْلَى، فَاليَدُ العُلْيَا: هِيَ المُنْفِقَةُ، وَالسُّفْلَى: هِيَ السَّائِلَةُ».
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، اور آپ ﷺ نے صدقے اور دوسروں سے سوال کرنے سے بچنے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے،اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

رسول اللہﷺ نے صدقے کی فضیلت اور دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کی مذمت بیان کی ہے اور یہ بتایا ہےکہ جو شخص بھلائی کے کاموں میں اپنا مال دیتا اور خرچ کرتا ہے وہ اس شخص سے افضل ہے جو لوگوں سے ان کا مال مانگتا ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري (2/ 112) (1429). صحيح مسلم (2/ 717) (1033). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 590). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 465). التوضيح لشرح الجامع الصحيح، لابن الملقن (10/ 315). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 388). تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، المباركفوري (3/ 288). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص212).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یا رسول اللہ! کیا مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (ان کے پہلے شوہر) کے لڑکوں پر خرچ کرنے کا اجر ملے گا، اگر میں ان پر خرچ کروں؟ میں انھیں اس محتاجی میں دیکھ نہیں سکتی؛ کیوں کہ وہ میرے بیٹے ہی تو ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! تمھیں ہر اس چیز کا ثواب ملے گا، جو تم ان پر خرچ کرو گی۔

عن أم سلمة رضي الله عنها ، قالت: قلت: يا رسول الله، هل لي أجرٌ في بني أبي سلمة أن أُنْفِقَ عليهم، ولستُ بتاركتهم هكذا وهكذا إنما هم بَنِيَّ؟ فقال: «نعم، لك أجرُ ما أنفقتِ عليهم».
ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! اگرمیں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (ان کے پہلے شوہر) کے لڑکوں پر خرچ کروں تو کیا مجھے اس پر اجر ملے گا۔ میں انھیں اس محتاجی میں دیکھ نہیں سکتی،کیوں کہ وہ میرے بیٹے ہی تو ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! تمہیں ہر اس چیز کا ثواب ملے گا، جو تم ان پر خرچ کرو گی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر میں ابو سلمہ سے ہونے والے اپنے بچوں پر خرچ کروں اور ان کی کفایت کروں، تو کیا مجھے اس پر اخروی اعتبار سے ثواب ملے گا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میں انھیں تلاش رزق میں ادھر ادھر پھرتے ہوئے نہیں چھوڑ سکتی یا پھر مجھے ایسا کرنے پر کوئی اجر نہیں ملے گا؛ کیوں کہ میں ایسا ان پر شفقت کی وجہ سے کر رہی ہوں گی، کیوں کہ وہ میرے بیٹے ہیں؟ نبی ﷺ نے انھیں بتایا کہ ان پر خرچ کرنے کا انھیں اجر ملے گا۔

حوالہ

دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ تعالی نے فرمایا: ”اے ابن آدم ! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «قَالَ اللهُ: أَنْفِقْ يَا ابْنَ آدَمَ أُنْفِقْ عَلَيْكَ».
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی نے فرمایا: ”اے ابن آدم ! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیان فرما رہے ہيں کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمايا: اے آدم کی اولاد! تم ان جگہوں میں خرچ کرو، جہاں خرچ کرنا واجب اور مستحب ہے، میں تم کو کشادگی عطا کروں گا، تمھیں اس کا بدلہ عطا کروں گا اور اس میں تمھارے لیے برکت ڈال دوں گا۔

فوائد
  1. صدقہ کرنے اور اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب۔
  2. نیک کاموں میں خرچ کرنا روزی میں اضافه اور برکت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ بندے کو اس کے خرچ کرنے کا بدلہ عطا کرتا ہے۔
  3. یہ حدیث ان حدیثوں میں سے ہے، جن کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسی حدیث جس کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کی جانب سے ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے اندر قرآن کے وہ خصائص نہيں پائے جاتے، جن کی بنیاد پر اسے ایک الگ امتیاز حاصل ہے۔ مثلا اس کی تلاوت کے ذریعہ اللہ کى عبادت کرنا، اس کى تلاوت کے لیے طہارت حاصل کرنا، اس کا معجزہ ہونا اور اس جیسا کلام پیش کرنے کا چیلنج پیش کیا جانا وغیرہ۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 62) (5352). صحيح مسلم (2/ 690) (993). شرح النووي على مسلم (7/ 79). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 603).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

وہ دینار جسے تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو اور وہ دینار جسے تم غلام پر خرچ کرتے ہو اور وہ دینار جسے تم نے مسکین پر خیرات کردیا اور وہ دینار جسے تم نے اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا ہے ان میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار کا ہے جسے تم اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتے ہو۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قالَ: قالَ رَسُولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْه وسلَّمَ: «دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:”وہ دینار جسے تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو اور وہ دینار جسے تم غلام پر خرچ کرتے ہو اور وہ دینار جسے تم نے مسکین پر خیرات کردیا اور وہ دینار جسے تم نے اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا ہے ان میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار کا ہے جسے تم اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتے ہو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

آپ ﷺ نے یہ بیان فرمایا کہ خرچ کرنے اور نیکی کی بہت ساری شکلیں ہیں۔ انہی میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، غلام کو آزاد کرنے کے لیے خرچ کرنا، مسکینوں پر خرچ کرنا اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنا ہے۔ تاہم ان میں سب سے افضل اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنا ہے۔ اس لیے کہ بیوی بچوں پر خرچ کرنا واجب ہے اور واجب نفقہ میں مستحب نفقہ سے زیادہ ثواب ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم (2/ 692) (995). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 156). نزهة المتقين بشرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 291). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 374). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص209).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”جب آدمی اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، تو یہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے“۔

عن أبي مسعود رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ».
ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، تو یہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے گھر کے لوگوں، جیسے بیوی، والدین اور بچوں وغیرہ پر، جن پر خرچ کرنا لازم ہے، اللہ کا تقرب حاصل کرنے اور ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، تو اسے صدقے کا ثواب ملے گا۔

فوائد
  1. پریوار پر خرچ کرنے کا بھی اجر و ثواب ملتا ہے۔
  2. مؤمن اپنا ہر کام اللہ کی خوش نودی اور اس کے یہاں ملنے والے اجر وثواب حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے۔
  3. ہر کام کرتے وقت، جس میں خرچ کرنا بھی شامل ہے، دل میں اچھی نیت رکھنی چاہیے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 20) (55). صحيح مسلم (2/ 695) (1002). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (5/ 334). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 157). نزهة المتقين بشرح رياض الصالحين، لمصطفى الخن وغيره (1/ 293). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم الهلالي (1/ 375).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میرے وارثین دینار و درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ میں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے خلیفہ کے گزارے کے بعد جو کچھ چھوڑ جاوں، وہ صدقہ ہے

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يَقْتَسِمُ وَرَثَتي دينارًا ولا درهمًا، ما تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَة نسائي، ومئونَة عامِلي فهو صَدَقة».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "میرے وارثین دینار و درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ میں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے خلیفہ کے گزارے کے بعد جو کچھ چھوڑ جاوں، وہ صدقہ ہے"۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث کے ذریعے یہ بتا دیا گیا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے وارثین آپ کے انتقال کے بعد آپ کے مال میں سے بچے ہوئے دینار اور درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ کیونکہ آپ ایک نبی تھے اور انبیا علیہم السلام دینار و درہم کا وارث نہیں بناتے۔ دراصل ان کا کام دنیا کے لیے کچھ جمع کرنا تھا ہی نہیں۔ ان کا مشن تھا مخلوق کو سیدھا راستہ دکھانا۔ لہذا اگر آپ کی موت کے بعد آپ کا کچھ مال رہ جائے، تو وہ آپ کی بیویوں اور آپ کے بعد بننے والے خلیفہ یا مسلمانوں کا نظم و نسق دیکھنے والے آدمی کے گزارے کے لیے ہے۔ اگر اس کے بعد بھی کچھ بچ جائے، تو وہ صدقہ ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - شرح صحيح البخاري لابن بطال، تحقيق: أبي تميم ياسر بن إبراهيم، نشر: مكتبة الرشد، الرياض-السعودية، الطبعة: الثانية 1423ه، 2003م. - إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، لأحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة، 1323 هـ. - عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد بن موسى الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
10 میں سے 8
10 احادیث
  1. مناسب انداز سے اس کے مال میں سے اتنا لے لو، جو تمھیں اور تمھاری اولاد کے لیے کافی ہو۔
  2. اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو تو تمہارے حق میں یہ بہتر ہے۔
  3. اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے۔
  4. یا رسول اللہ! کیا مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (ان کے پہلے شوہر) کے لڑکوں پر خرچ کرنے کا اجر ملے گا، اگر میں ان پر خرچ کروں؟ میں انھیں اس محتاجی میں دیکھ نہیں سکتی؛ کیوں کہ وہ میرے بیٹے ہی تو ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! تمھیں ہر اس چیز کا ثواب ملے گا، جو تم ان پر خرچ کرو گی۔
  5. اللہ تعالی نے فرمایا: ”اے ابن آدم ! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“۔
  6. وہ دینار جسے تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو اور وہ دینار جسے تم غلام پر خرچ کرتے ہو اور وہ دینار جسے تم نے مسکین پر خیرات کردیا اور وہ دینار جسے تم نے اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا ہے ان میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار کا ہے جسے تم اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتے ہو۔
  7. ”جب آدمی اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، تو یہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے“۔
  8. میرے وارثین دینار و درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ میں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے خلیفہ کے گزارے کے بعد جو کچھ چھوڑ جاوں، وہ صدقہ ہے
  9. دینے والے کا ہاتھ برتر ہوتا ہے۔ خرچ کرنے کے معاملے میں اپنے اہل و عیال سے ابتداء کرو یعنی اپنے ماں باپ، بہن، بھائی اور پھر اُن لوگوں سے جو تمہارے قریب تر ہوں۔
  10. آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اپنے ماتحت لوگوں کى خوراکی روک لے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com