اس حدیث کے ذریعے یہ بتا دیا گیا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے وارثین آپ کے انتقال کے بعد آپ کے مال میں سے بچے ہوئے دینار اور درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ کیونکہ آپ ایک نبی تھے اور انبیا علیہم السلام دینار و درہم کا وارث نہیں بناتے۔ دراصل ان کا کام دنیا کے لیے کچھ جمع کرنا تھا ہی نہیں۔ ان کا مشن تھا مخلوق کو سیدھا راستہ دکھانا۔ لہذا اگر آپ کی موت کے بعد آپ کا کچھ مال رہ جائے، تو وہ آپ کی بیویوں اور آپ کے بعد بننے والے خلیفہ یا مسلمانوں کا نظم و نسق دیکھنے والے آدمی کے گزارے کے لیے ہے۔ اگر اس کے بعد بھی کچھ بچ جائے، تو وہ صدقہ ہے۔
- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - شرح صحيح البخاري لابن بطال، تحقيق: أبي تميم ياسر بن إبراهيم، نشر: مكتبة الرشد، الرياض-السعودية، الطبعة: الثانية 1423ه، 2003م. - إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، لأحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة، 1323 هـ. - عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد بن موسى الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.