سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میراث کے موانع

3 احادیث

میرے وارثین دینار و درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ میں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے خلیفہ کے گزارے کے بعد جو کچھ چھوڑ جاوں، وہ صدقہ ہے

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يَقْتَسِمُ وَرَثَتي دينارًا ولا درهمًا، ما تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَة نسائي، ومئونَة عامِلي فهو صَدَقة».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "میرے وارثین دینار و درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ میں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے خلیفہ کے گزارے کے بعد جو کچھ چھوڑ جاوں، وہ صدقہ ہے"۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث کے ذریعے یہ بتا دیا گیا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے وارثین آپ کے انتقال کے بعد آپ کے مال میں سے بچے ہوئے دینار اور درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ کیونکہ آپ ایک نبی تھے اور انبیا علیہم السلام دینار و درہم کا وارث نہیں بناتے۔ دراصل ان کا کام دنیا کے لیے کچھ جمع کرنا تھا ہی نہیں۔ ان کا مشن تھا مخلوق کو سیدھا راستہ دکھانا۔ لہذا اگر آپ کی موت کے بعد آپ کا کچھ مال رہ جائے، تو وہ آپ کی بیویوں اور آپ کے بعد بننے والے خلیفہ یا مسلمانوں کا نظم و نسق دیکھنے والے آدمی کے گزارے کے لیے ہے۔ اگر اس کے بعد بھی کچھ بچ جائے، تو وہ صدقہ ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - شرح صحيح البخاري لابن بطال، تحقيق: أبي تميم ياسر بن إبراهيم، نشر: مكتبة الرشد، الرياض-السعودية، الطبعة: الثانية 1423ه، 2003م. - إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، لأحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة، 1323 هـ. - عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد بن موسى الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مسلمان کافر کا وارث نہیں بنے گا اور نہ کافر مسلمان کا وارث بنے گا

وعن أسامة بن زيد رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يرثُ المسلمُ الكافرَ، ولا يَرِثُ الكافرُ المسلمَ».
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "مسلمان کافر کا وارث نہیں بنے گا اور نہ کافر مسلمان کا وارث بنے گا"۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے، کیونکہ اسلام کا رشتہ سب سے قوی اور مضبوط ترین رشتہ ہے۔ لہذا، اگر نسبی قرابت داروں کے بیچ یہ مقدس رشتہ مفقود ہو، تو سارے رشتے ناتے بے معنی ہو جاتے ہیں اور قرابت کے رشتے کی قوت غیر مؤثر ہو جاتی ہے، اس لیے ایک دوسرے کے وارث بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جس کی بنیاد مدد اور باہمی تعاون پر رکھی گئی ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، المحقق: محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة : الأولى 1422هـ. صحيح مسلم بن الحجاج، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام،محمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، المكتبة الإسلامية، القاهرة،الطبعة الأولى ، 1427هـ. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، الطبعة الخامسة، 1423. منحة العلام شرح بلوغ المرام، عبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، تحقيق وتخريج وتعليق: سمير بن أمين الزهيري، الناشر: دار الفلق، الرياض، الطبعة: السابعة، 1424 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

دو الگ الگ ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يَتَوَارَثُ أهل مِلَّتَيْنِ شتّى».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "دو الگ الگ ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دو الگ الگ ادیان کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔ چنانچہ مسلمان یہودی یا عیسائی کا وارث نہیں بنے گا اور اسی طرح یہ لوگ مسلمان کے وارث نہیں بن سکتے، کیونکہ یہاں ایک دوسرے کے وارث بننے کی ایک شرط یعنی اتحاد دین، مفقود ہے۔ لہذا، جہاں بھی دین الگ ہوگا، وہاں وارث بننے اور بنانے کی بات نہیں آئے گی۔ یہی جمہور فقہا کا قول ہے۔

حوالہ

- سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية. - مسند الإمام أحمد بن حنبل المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي مؤسسة الرسالة الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م. - سنن ابن ماجه: ابن ماجه أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان، طبعة دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى 1428. - توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. - فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين- المكتبة الإسلامية القاهرة، تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427. - معالم السنن، أبو سليمان الخطابي، المطبعة العلمية، حلب، الطبعة: الأولى 1351 هـ - 1932 م. - عون المعبود شرح سنن أبي داود، ومعه حاشية ابن القيم: تهذيب سنن أبي داود وإيضاح علله ومشكلاته / محمد أشرف بن أمير بن علي بن حيدر العظيم آبادي: دار الكتب العلمية، بيروت، الطبعة: الثانية، 1415 هـ. - إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل /محمد ناصر الدين الألباني - إشراف: زهير الشاويش-المكتب الإسلامي – بيروت-الطبعة: الثانية 1405 هـ - 1985م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com