عن أبِي هُرَيرةَ رضي الله عنه أنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلمَ قال: «إذا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ: أَنْصِتْ، يومَ الجمعةِ، والْإِمامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ "خاموش ہو جاؤ" تو (ایسا کہہ کر) تم نے خود ایک لغو حرکت کی“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جمعے کے خطبے میں شریک ہونے والے کے لیے ایک لازمی ادب یہ ہے کہ وہ خاموش ہوکر پوری توجہ کے ساتھ خطیب کی باتیں سنے، تاکہ نصیحتوں پر غور کر سکے۔ آگے آپ نے بتایا کہ جس نے خطبے کے دوران کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی کہی، جیسے کسی دوسرے شخص سے خاموش رہو یا دھیان سے سنو وغیرہ کہا، وہ جمعے کی نماز کی فضیلت سے محروم ہو جائے گا۔
فوائد
- خطبہ سنتے وقت بات کرنا حرام ہے۔ یہاں تک کہ کسی غلط کام سے روکنے، سلام کا جواب دینے اور چھینکنے کے بعد الحمد للہ کہنے والے کے جواب میں یرحمک اللہ کہنے کے لیے بات کرنا بھی منع ہے۔
- اس ممانعت کے دائرے سے وہ آدمی باہر ہے، جو امام کو مخاطب کرکے کوئی بات کہے یا امام اس کو مخاطب کرکے کوئی بات کہے۔
- ضرورت کے وقت دو خطبوں کے درمیان بات کرنا جائز ہے۔
- جب خطبے کے دوران اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا نام آئے، تو آپ پر درود و سلام سری طور پر بھیجا جائے گا۔ یہی حال دعا پر آمین کہنے کا بھی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 13) (934).
صحيح مسلم (2/ 583) (851).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص244).
تنبيه الأفهام، للعثيمين (2/ 307).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 195).
فتح الباري، لابن حجر (2/ 409).
تاج العروس من جواهر القاموس، لمحمّد الحسيني الزَّبيدي (39/ 463).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الجُمُعَةِ غُسْلَ الجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الخَامِسَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ المَلاَئِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے جمعے کے دن جنابت کا غسل کیا، پھر پہلی گھڑی میں مسجد کی جانب چل پڑا، اس نے گویا ایک اونٹ کی قربانی دی۔ جو دوسری گھڑی میں نکلا۔ اس نے گویا ایک گائے کی قربانی دی۔ جو تیسری گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک مینڈھے کی قربانی دی۔ جو چوتھی گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک مرغی صدقے میں دی۔ جو پانچویں گھڑی میں نکلا، اس نے گویا ایک انڈا صدقے میں دیا۔ پھر جب امام نکل آتا ہے، تو فرشتے حاضر ہوکر خطبہ سننے لگتے ہیں۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
نبی صلی اللہ علیہ و سلم جمعے کی نماز کے لیے جلدی جانے کی فضیلت بیان فرما رہے ہيں۔ جمعے کی نماز کے لیے جانے کا یہ وقت جس کی فضیلت آئی ہے‘ وہ سورج طلوع ہونے سے لے کر امام کے منبر پر آنے تک رہتا ہے۔ اس وقت کے کل پانچ حصے ہیں۔ دراصل سورج طلوع ہونے سے لے کر امام کے منبر پر آنے کے درمیان کے اس وقت کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
1- جس نے غسل جنابت کی طرح کامل غسل کیا اور اس کے بعد پہلے حصے میں جمعہ کے لیے مسجد چلا گیا، اس نے گویا کہ ایک اونٹ صدقہ کیا۔
2- جو دوسرے حصے میں مسجد پہنچا، اس نے گویا کہ ایک گائے صدقہ کیا۔
3- جو تیسرے حصے میں مسجد پہنچا، اس نے گویا کہ ایک سینگ والا مینڈھا صدقہ کیا۔
4- جو چوتھے حصے میں مسجد پہنچا، اس نے گویا کہ ایک مرغی صدقہ کیا۔
5- جو پانچویں حصے میں پہنچا، اس نے گویا کہ ایک انڈا صدقہ کیا۔
اس کے بعد جب امام خطبے کے لیے نکل جاتا ہے، تو مسجد کے دروازے پر بیٹھ کر سلسلے وار داخل ہونے والوں کا نام لکھنے والے فرشتے لکھنے کا کام بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہيں۔
فوائد
- جمعہ کے دن غسل کرنے کی ترغیب۔ غسل نماز کے لیے نکلنے سے پہلے کیا جانا چاہیے۔
- جمعے کی نماز کے لیے جلدی جانے کی فضیلت۔
- نیکی کے کاموں کے لیے جلدی جانے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی ترغیب۔
- فرشتے بھی جمعے کی نماز میں موجود رہتے ہیں اور جمعے کا خطبہ سنتے ہيں۔
- فرشتے مسجد کے دروازوں پر موجود ہوتے ہیں اور سلسلے وار جمعہ کے لیے آنے والوں کا نام درج کرتے جاتے ہیں۔
- ابن رجب کہتے ہیں: حدیث میں وارد "من اغتسل يوم الجمعة، ثم راح" کے الفاظ بتاتے ہيں کہ جمعے کے دن مستحب غسل کا وقت طلوع فجر کے بعد شروع ہوتا ہے اور جمعے کی نماز کے لیے جانے تک رہتا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 3) (881).
صحيح مسلم (2/ 582) (850).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله البسام (ص244).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 308).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل الأنصاري (1/ 196).
معالم السنن (شرح سنن أبي داود)، أبو سليمان الخطابي (1/ 109).
تهذيب اللغة، محمد الأزهري (14/ 102).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "تم میں سے جو شخص نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آئے، اسے چاہیے کہ غسل کرکے آئے"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم زور دے کر فرما رہے ہیں کہ جو شخص جمعے کی نماز پڑھنے کے لیے آنا چاہے، اس کے لیے غسل جنابت کی طرح غسل کر لینا مستحب ہے۔
فوائد
- جمعہ کے دن غسل کرنے کی تاکید۔ مومن کے لیے جمعہ کے دن غسل کرنا سنت ہے۔ بہتر یہ ہے کہ غسل نماز کے لیے جاتے وقت کیا جائے۔
- خوش بو کا اہتمام کرنا مسلمان کے اخلاق و آداب میں شامل ہے۔ لوگوں سے ملنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اور خاص طور سے جمعہ اور اجتماعوں میں شریک ہوتے وقت اس کے اہتمام کی تاکید بڑھ جاتی ہے۔
- حدیث میں خطاب ان افراد سے ہے، جن پر جمعہ واجب ہے، کیوں کہ وہی اس میں شریک ہوتے ہیں۔
- جمعہ میں شریک ہونے کے لیے صاف ستھرا ہونا مستحب ہے۔ غسل کر لینا چاہیے، تاکہ جسم سے کسی طرح کی کوئی بدبو نہ آئے۔ خوش بو لگا لینا چاہیے۔ لیکن اگر کسی نے صرف وضو کر لیا تب بھی کافی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (2/ 81) (1294).
صحيح مسلم (1/ 99) (103).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص239).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 302).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 192).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ رضي الله عنه وكان من أصحاب الشجرة قال: «كنا نُصَلِّي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الْجُمُعَةَ، ثم نَنْصَرِفُ، وليس للحيطان ظِلٌّ نستظِلّ به».
وفي لفظ: «كنا نُجَمِّعُ مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا زالت الشمس، ثم نرجع فَنَتَتَبَّعُ الْفَيْءَ».
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ (جو بیعت رضوان میں شریک تھے) سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے ، پھر گھروں کو واپس ہوتے تو دیواروں کا سایہ اتنا نہیں ہوتا تھا کہ ہم اس سایے میں چل سکتے۔
دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔ پھر ہم سایہ تلاش کرتے ہوئے واپس آتے تھے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
سلمۃ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ذکر کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ اول وقت (زوال سے کچھ قبل) میں جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، اس طرح کہ دونوں خطبوں اور نماز سے فارغ ہو کر اپنے گھروں کو لوٹتے تو دیواروں کا اتنا سایہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ چلتے وقت سایہ حاصل کر پاتے۔
دوسری روایت میں ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سورج زائل ہونے کے بعد آپ ﷺ کے ساتھ جمعے کی نماز پڑھ کر واپس لوٹتے تھے۔
علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جمعے کی نماز ظہر کی نماز کے آخری وقت تک پڑھی جاسکتی ہے۔ تاہم افضل اور بہتر یہ ہے کہ زوال کے بعد پڑھی جائے، اس لیے کہ آپ ﷺ کا اکثر یہی معمول تھا، ساتھ ہی اس لیے بھی کہ اس پر تمام علما کا اتفاق ہے۔ البتہ اگر کوئی ضرورت ہو، جیسے سخت گرمی ہو اور سایہ دار جگہ نہ ہو یا زوال سے پہلے جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ ہو، تو زوال سے تھوڑا پہلے جمعے کی نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ، 1988م.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
فتح الباري شرح صحيح البخاري، زين الدين عبد الرحمن بن رجب البغدادي، تحقيق: محمود بن شعبان بن عبد المقصود ومجدي بن عبد الخالق الشافعي وغيرهم، الناشر: مكتبة الغرباء الأثرية، المدينة النبوية، الحقوق: مكتب تحقيق دار الحرمين، القاهرة الطبعة: الأولى 1417هـ، 1996م.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عبد الله بن عُمر بن الخطاب رضي الله عنهما قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب خطبتين يقعد بينهما» وفي رواية لجابر - رضي الله عنه-: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ وهو قائم، يفصل بينهما بجلوس».
عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ دو خطبے دیتے اور دونوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے۔
اور جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کھڑے ہوکر دو خطبے دیتے اور دونوں کے درمیان بیٹھ کر وقفہ کرتے۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہیہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔
تشریح
جمعہ کے دن پورے شہر کے لوگوں کا بڑا مجمع ہوتا ہے اس لیے کہ آپ ﷺ اپنی حکمت سے لوگوں کو اس دن دو خطبے دیتے اور ان کو بھلائی کی طرف متوجہ کرتے اور بُرائی سے ڈراتے۔ آپ منبر پر کھڑے ہوکر دو خطبے دیتے، اس لیے کہ کھڑا ہونا تعلیم و وعظ کرنے میں زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ کیونکہ کھڑے ہونے میں اسلام کی قوت اور رونق کا اظہار ہوتا ہے۔
آپ ﷺ جب پہلے خطبے سے فارغ ہوتے تو آرام کی غرض سے تھوڑا سا بیٹھ جاتے، یوں پہلے خطبے کو دوسرے خطبے سےالگ کردیتے، پھر کھڑے ہوکر دوسرا خطبہ دیتے، تاکہ خطیب تھکے نہیں اور سننے والا اکتائے نہیں۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م.
الإفهام في شرح عمدة الأحكام لابن باز، تحقيق: سعيد القحطاني، مؤسسة عبد العزيز بن باز الخيرية، الرياض، الطبعة: الأولى 1435هـ.
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ.
خلاصة الكلام –فيصل المبارك الحريملي -الطبعة: الثانية، 1412 هـ - 1992 م.
تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، الطبعة: الأولى 1427هـ.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
المجتبى من السنن ( السنن الصغرى )، أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب، الطبعة: الثانية 1406هـ، 1986م.
سنن الدارمي، تحقيق: حسين سليم أسد الداراني، دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى 1412هـ، 2000م.
تهذيب اللغة، محمد بن أحمد الأزهري أبو منصور، تحقيق: محمد عوض مرعب، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: الأولى، 2001م.
إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل - محمد ناصر الدين الألباني إشراف: زهير الشاويش-المكتب الإسلامي – بيروت-الطبعة: الثانية 1405 هـ - 1985م.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي عبد الله جابر بن سمرة رضي الله عنهما قال: كنت أصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم الصلوات، فكانت صلاته قَصْدًا وخطبته قَصْدًا.
ابو عبد اللہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا۔ آپ ﷺ کی نماز بھی درمیانی ہوتی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ کی نماز اور خطبہ بہت زیادہ لمبا ہونے اور انتہائی مختصر ہونے کے بیچ بیچ ہوتا تھا۔ یعنی اس میں توسط اور اعتدال پایا جاتا تھا۔ مسلمانوں کے لیے عمومی طور پر اور ائمہ و خطیب حضرات کے لیے خاص طور پر یہی اسوہ اور قابل اقتدا نمونہ ہے۔ اس حدیث کو دلیل بنا کر نماز میں کوے کی طرح ٹھونگیں مارنا اور خطبے دینے میں بہت زیادہ تیزی اپنانا صحیح نہیں ہے اس لیے کہ نبیﷺ کی سنت تو اعتدال اور کبھی کبھار تھوڑی طوالت پر دلالت کرتی ہے جس سے پریشانی نہ ہو۔
حوالہ
المسند الصحيح (صحيح مسلم), تأليف: مسلم بن حجاج النيسابوري, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, دار إحياء التراث العربي.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن معاذ بن أنس الجهني رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم نَهى عن الحِبْوَةِ يوم الجمعة والإمام يخطب.
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن، جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو، گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح
یہ حدیث منسوخ ہے جیسا کہ امام ابو داود نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔
اس کا مفہوم یہ ہے کہ: معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بتلا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ کے دوران ”حبوہ“ سے منع فرمایا ہے۔
”حبوہ“ کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنی رانوں کو اپنے پیٹ سے اور پنڈلیوں کو رانوں سے ملا لے، اور خود کو تسمے یا پگڑی وغیرہ سے باندھ لے۔ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران اس طرح بیٹھنے سے دو وجہوں سے منع فرمایا ہے:
اول: اس طرح بیٹھنے سے اسے نیند آ سکتی ہے اور یوں وہ سو جانے کی وجہ سے خطبہ سننے سے محروم ہو جائے گا۔
دوم: اس سے ستر کے کھل جانے کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ زیادہ تر عرب لوگوں پر ایک ہی کپڑا ہوتا تھا۔ چنانچہ اگر وہ حبوہ باندھتا تو اس کا ستر کھل جاتا۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے اس سے بالکل ہی منع فرما دیا۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی ایک کپڑے میں اس طرح حبوہ باندھ کر بیٹھے کہ اس کی شرم گاہ ظاہرہو۔ یہ حکم اس شخص کے لیے خاص ہے جس نے ایک کپڑا پہنا ہوا ہے اور یہ حکم ہر وقت میں لاگو ہوگا۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حبوہ باندھنا عربوں کی ان کی مجلسوں میں ایک عادت تھی، اگر اس کے ساتھ اس کی کچھ شرم گاہ ظاہر ہو جائے تو وہ حرام ہے۔
البتہ اگر شرم گاہ کے کھلنے کا خوف نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ اگر ممانعت کسی معقول علت کی بنا پر ہے اور وہ علت ختم ہوگئی تو ممانعت بھی ختم ہو جائے گی۔
بلکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں عباد بن تمیم کی حدیث سے ثابت ہے جسے وہ اپنے چچا کے واسطے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا اس حال میں کہ آپ ﷺ اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھے ہوئے تھے۔
حوالہ
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ
سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا.
مسند الإمام أحمد، تأليف: أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: الناشر: مؤسسة الرسالة ، الطبعة: الأولى، 1421 هـ
رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ
سنن الترمذي، تأليف: محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وغيره ، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، الطبعة: الثانية، 1395 هـ
المنهاج شرح صحيح مسلم، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الطبعة: الثانية 1392 هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن سمرة رضي الله عنه مرفوعاً: «من توضَّأَ يوم الجُمعة فَبِهَا ونِعْمَتْ، ومن اغْتَسَل فهو أفْضَل».
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعے کے دن وضو کیا، اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ بہت عمدہ سنت ہے اور جس نے غسل کیا، تو یہ افضل ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح
”من توضَّأَ يوم الجُمعة“ اس سے مراد نماز جمعے کے لیے وضو ہے۔ ”فَبِهَا“ یعنی اس نے سنت اور رخصت کو اختیار کیا۔ ”ونِعْمَتْ“ یعنی سنت کو اختیار کر کے اس نے اچھا کیا اور اس پر اس کی تحسین کی گئی ہے۔ ”ومن اغْتَسَل فهو أفْضَل“ یعنی جس نے وضو کے ساتھ ساتھ جمعے کے لیے غسل بھی کیا، وہ اس وضو سے افضل ہے، جو غسل سے خالی ہے۔ جمہور علماء اور ائمۂ اربعہ نے اسی سے استنباط کیا ہے اور ان کے دلائل میں سے ایک دلیل صحیح مسلم کی یہ روایت ہے: ”جو شخص اچھے طریقے سے وضو کرے، پھر جمعہ کے لیے چلے، خاموش رہے اور توجہ سے سنے تو ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک، نیز مزید تین دن کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں“۔
حوالہ
سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت.
سنن الترمذي، لمحمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق:أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، الطبعة الثانية، 1395 هـ - 1975م.
سنن ابن ماجه: لابن ماجه أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
مسند الإمام أحمد بن حنبل، المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
السنن الكبرى للنسائي، حققه وخرج أحاديثه: حسن عبد المنعم شلبي، أشرف عليه: شعيب الأرناءوط، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
سنن الدارمي، لعبد الله بن عبد الرحمن الدارمي، التميمي تحقيق: حسين سليم أسد الداراني، دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1412 هـ - 2000 م.
توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، تأليف عبد الله البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة:الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: الشيخ صالح الفوزان، عناية عبد السلام السليمان، مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى.
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com