نبی صلی اللہ علیہ و سلم جمعے کی نماز کے لیے جلدی جانے کی فضیلت بیان فرما رہے ہيں۔ جمعے کی نماز کے لیے جانے کا یہ وقت جس کی فضیلت آئی ہے‘ وہ سورج طلوع ہونے سے لے کر امام کے منبر پر آنے تک رہتا ہے۔ اس وقت کے کل پانچ حصے ہیں۔ دراصل سورج طلوع ہونے سے لے کر امام کے منبر پر آنے کے درمیان کے اس وقت کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ 1- جس نے غسل جنابت کی طرح کامل غسل کیا اور اس کے بعد پہلے حصے میں جمعہ کے لیے مسجد چلا گیا، اس نے گویا کہ ایک اونٹ صدقہ کیا۔ 2- جو دوسرے حصے میں مسجد پہنچا، اس نے گویا کہ ایک گائے صدقہ کیا۔ 3- جو تیسرے حصے میں مسجد پہنچا، اس نے گویا کہ ایک سینگ والا مینڈھا صدقہ کیا۔ 4- جو چوتھے حصے میں مسجد پہنچا، اس نے گویا کہ ایک مرغی صدقہ کیا۔ 5- جو پانچویں حصے میں پہنچا، اس نے گویا کہ ایک انڈا صدقہ کیا۔ اس کے بعد جب امام خطبے کے لیے نکل جاتا ہے، تو مسجد کے دروازے پر بیٹھ کر سلسلے وار داخل ہونے والوں کا نام لکھنے والے فرشتے لکھنے کا کام بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہيں۔
- جمعہ کے دن غسل کرنے کی ترغیب۔ غسل نماز کے لیے نکلنے سے پہلے کیا جانا چاہیے۔
- جمعے کی نماز کے لیے جلدی جانے کی فضیلت۔
- نیکی کے کاموں کے لیے جلدی جانے اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی ترغیب۔
- فرشتے بھی جمعے کی نماز میں موجود رہتے ہیں اور جمعے کا خطبہ سنتے ہيں۔
- فرشتے مسجد کے دروازوں پر موجود ہوتے ہیں اور سلسلے وار جمعہ کے لیے آنے والوں کا نام درج کرتے جاتے ہیں۔
- ابن رجب کہتے ہیں: حدیث میں وارد "من اغتسل يوم الجمعة، ثم راح" کے الفاظ بتاتے ہيں کہ جمعے کے دن مستحب غسل کا وقت طلوع فجر کے بعد شروع ہوتا ہے اور جمعے کی نماز کے لیے جانے تک رہتا ہے۔
صحيح البخاري (2/ 3) (881). صحيح مسلم (2/ 582) (850). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله البسام (ص244). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 308). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل الأنصاري (1/ 196). معالم السنن (شرح سنن أبي داود)، أبو سليمان الخطابي (1/ 109). تهذيب اللغة، محمد الأزهري (14/ 102).