جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل کرناواجب ہے۔ اس دن آدمی کو چاہیے کہ مسواک کر لے اور اگر خوش بو میسر ہو، تو لگا لے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ مسلمان مرد پر، جس پر جمعہ کی نماز فرض ہے، واجب کی طرح تاکیدی حکم کا حامل ہے۔ اسی طرح مسواک وغیرہ کے ذریعے دانت صاف کرنے کا حکم بھی تاکید کا حامل ہے۔ یہی حال خوشبو لگانے کا بھی ہے۔
- ہر بالغ مسلمان مرد کے لیے جمعہ کے دن غسل کرنے کا تاکیدی استحباب۔
- ایک مسلمان سے پاکی صفائی کا اہتمام اور بدبوؤں کا ازالہ شرعا مطلوب ہے۔
- جمعے کے دن کی تعظیم اور اس کی تیاری۔
- جمعہ کی نماز کے لیے مسواک کرنے کا تاکیدی استحباب۔
- جمعہ کی نماز کے لیے جانے سے پہلے خوشبو لگانے کا استحباب۔
- عورت جب نماز یا کسی دوسرے کام کے لیے گھر سے نکلے، تو اس کے لیے خوشبو لگانا جائز نہیں ہے۔ سنت سے اس کی حرمت ثابت ہے۔
- اس حدیث میں آئے ہوئے لفظ "المحتلم" سے مراد بالغ ہے اور بلوغت کی کچھ علامتیں ہوا کرتی ہیں۔ تین علامتیں تو ایسی ہیں، جو مرد اور عورت دونوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔ پہلی پندرہ سال کی عمر ہو جانا، دوسری شرمگاہ کے ارد گرد کھردرے بالوں کا اگ آنا اور تیسری احتلام کی وجہ سے، یا شہوت کے ساتھ چاہے بغیر احتلام کے ہی کیوں نہ ہو، منی کا نکل آنا۔ جب کہ چوتھی علامت عورت کے ساتھ خاص ہے اور وہ ہے حیض آ جانا، سو جب عورت کو حیض آ جائے تو وہ بالغ ہو گئی۔
صحيح البخاري (2/ 3) (880). صحيح مسلم (2/ 580) (846). مختار الصحاح، لزين الدين الرازي (ص155). شرح صحيح البخاري، لابن بطال (2/ 468). شرح النووي على مسلم، (6/ 134). توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، للبسام (1/ 382). فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (1/ 330). منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة قاسم (2/ 234).