سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نماز جمعہ کے احکام

1 احادیث

جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل کرناواجب ہے۔ اس دن آدمی کو چاہیے کہ مسواک کر لے اور اگر خوش بو میسر ہو، تو لگا لے۔

عَنْ عَمْرِو بْنُ سُلَيْمٍ الأَنْصَارِيُّ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الغُسْلُ يَوْمَ الجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ، وَأَنْ يَسْتَنَّ، وَأَنْ يَمَسَّ طِيبًا إِنْ وَجَدَ».
عمرو بن سلیم انصاری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو سعید نے کہا اور انھوں نے گواہی دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل کرناواجب ہے۔ اس دن آدمی کو چاہیے کہ مسواک کر لے اور اگر خوش بو میسر ہو، تو لگا لے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ مسلمان مرد پر، جس پر جمعہ کی نماز فرض ہے، واجب کی طرح تاکیدی حکم کا حامل ہے۔ اسی طرح مسواک وغیرہ کے ذریعے دانت صاف کرنے کا حکم بھی تاکید کا حامل ہے۔ یہی حال خوشبو لگانے کا بھی ہے۔

فوائد
  1. ہر بالغ مسلمان مرد کے لیے جمعہ کے دن غسل کرنے کا تاکیدی استحباب۔
  2. ایک مسلمان سے پاکی صفائی کا اہتمام اور بدبوؤں کا ازالہ شرعا مطلوب ہے۔
  3. جمعے کے دن کی تعظیم اور اس کی تیاری۔
  4. جمعہ کی نماز کے لیے مسواک کرنے کا تاکیدی استحباب۔
  5. جمعہ کی نماز کے لیے جانے سے پہلے خوشبو لگانے کا استحباب۔
  6. عورت جب نماز یا کسی دوسرے کام کے لیے گھر سے نکلے، تو اس کے لیے خوشبو لگانا جائز نہیں ہے۔ سنت سے اس کی حرمت ثابت ہے۔
  7. اس حدیث میں آئے ہوئے لفظ "المحتلم" سے مراد بالغ ہے اور بلوغت کی کچھ علامتیں ہوا کرتی ہیں۔ تین علامتیں تو ایسی ہیں، جو مرد اور عورت دونوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔ پہلی پندرہ سال کی عمر ہو جانا، دوسری شرمگاہ کے ارد گرد کھردرے بالوں کا اگ آنا اور تیسری احتلام کی وجہ سے، یا شہوت کے ساتھ چاہے بغیر احتلام کے ہی کیوں نہ ہو، منی کا نکل آنا۔ جب کہ چوتھی علامت عورت کے ساتھ خاص ہے اور وہ ہے حیض آ جانا، سو جب عورت کو حیض آ جائے تو وہ بالغ ہو گئی۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 3) (880). صحيح مسلم (2/ 580) (846). مختار الصحاح، لزين الدين الرازي (ص155). شرح صحيح البخاري، لابن بطال (2/ 468). شرح النووي على مسلم، (6/ 134). توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، للبسام (1/ 382). فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (1/ 330). منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة قاسم (2/ 234).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com