سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ "خاموش ہو جاؤ" تو (ایسا کہہ کر) تم نے خود ایک لغو حرکت کی“۔

عن أبِي هُرَيرةَ رضي الله عنه أنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلمَ قال: «إذا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ: أَنْصِتْ، يومَ الجمعةِ، والْإِمامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ "خاموش ہو جاؤ" تو (ایسا کہہ کر) تم نے خود ایک لغو حرکت کی“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جمعے کے خطبے میں شریک ہونے والے کے لیے ایک لازمی ادب یہ ہے کہ وہ خاموش ہوکر پوری توجہ کے ساتھ خطیب کی باتیں سنے، تاکہ نصیحتوں پر غور کر سکے۔ آگے آپ نے بتایا کہ جس نے خطبے کے دوران کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی کہی، جیسے کسی دوسرے شخص سے خاموش رہو یا دھیان سے سنو وغیرہ کہا، وہ جمعے کی نماز کی فضیلت سے محروم ہو جائے گا۔

فوائد
  1. خطبہ سنتے وقت بات کرنا حرام ہے۔ یہاں تک کہ کسی غلط کام سے روکنے، سلام کا جواب دینے اور چھینکنے کے بعد الحمد للہ کہنے والے کے جواب میں یرحمک اللہ کہنے کے لیے بات کرنا بھی منع ہے۔
  2. اس ممانعت کے دائرے سے وہ آدمی باہر ہے، جو امام کو مخاطب کرکے کوئی بات کہے یا امام اس کو مخاطب کرکے کوئی بات کہے۔
  3. ضرورت کے وقت دو خطبوں کے درمیان بات کرنا جائز ہے۔
  4. جب خطبے کے دوران اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا نام آئے، تو آپ پر درود و سلام سری طور پر بھیجا جائے گا۔ یہی حال دعا پر آمین کہنے کا بھی ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 13) (934). صحيح مسلم (2/ 583) (851). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص244). تنبيه الأفهام، للعثيمين (2/ 307). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 195). فتح الباري، لابن حجر (2/ 409). تاج العروس من جواهر القاموس، لمحمّد الحسيني الزَّبيدي (39/ 463).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نمازِ جمعہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com