اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جمعے کے خطبے میں شریک ہونے والے کے لیے ایک لازمی ادب یہ ہے کہ وہ خاموش ہوکر پوری توجہ کے ساتھ خطیب کی باتیں سنے، تاکہ نصیحتوں پر غور کر سکے۔ آگے آپ نے بتایا کہ جس نے خطبے کے دوران کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی کہی، جیسے کسی دوسرے شخص سے خاموش رہو یا دھیان سے سنو وغیرہ کہا، وہ جمعے کی نماز کی فضیلت سے محروم ہو جائے گا۔
- خطبہ سنتے وقت بات کرنا حرام ہے۔ یہاں تک کہ کسی غلط کام سے روکنے، سلام کا جواب دینے اور چھینکنے کے بعد الحمد للہ کہنے والے کے جواب میں یرحمک اللہ کہنے کے لیے بات کرنا بھی منع ہے۔
- اس ممانعت کے دائرے سے وہ آدمی باہر ہے، جو امام کو مخاطب کرکے کوئی بات کہے یا امام اس کو مخاطب کرکے کوئی بات کہے۔
- ضرورت کے وقت دو خطبوں کے درمیان بات کرنا جائز ہے۔
- جب خطبے کے دوران اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا نام آئے، تو آپ پر درود و سلام سری طور پر بھیجا جائے گا۔ یہی حال دعا پر آمین کہنے کا بھی ہے۔
صحيح البخاري (2/ 13) (934). صحيح مسلم (2/ 583) (851). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص244). تنبيه الأفهام، للعثيمين (2/ 307). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 195). فتح الباري، لابن حجر (2/ 409). تاج العروس من جواهر القاموس، لمحمّد الحسيني الزَّبيدي (39/ 463).