عن أبي سليمان مالك بن الحويرث رضي الله عنه قال: أَتَينَا رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- ونَحنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُون، فَأَقَمْنَا عِندَهُ عِشْرِينَ لَيلَةً، وَكَان رَسُولُ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- رَحِيمًا رَفِيقًا، فَظَنَّ أَنَّا قَدْ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، فَسَألَنا عمَّنْ تَرَكْنا مِنْ أَهلِنا، فأَخبَرنَاه، فقال: «ارْجِعُوا إلى أَهْلِيكُم، فَأَقِيمُوا فيهم، وَعَلِّمُوهُم وَمُرُوهُم، وَصَلُّوا صَلاَةَ كَذَا في حِينِ كذَا، وصَلُّوا كَذَا في حِينِ كَذَا، فَإِذا حَضَرَتِ الصلاةُ فَلْيُؤذِّن لكم أَحَدُكُم وَلْيَؤُمَّكُم أكبركم».
زاد البخاري في رواية له: «وصَلُّوا كَمَا رَأَيتُمُونِي أُصَلِّي».
ابو سلیمان مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے۔ ہم آپ ﷺ کے ساتھ بیس راتیں رہے۔ آپ ﷺ بہت رحم دل اور نرم خو تھے۔ آپ ﷺ کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آ رہے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ہم سے ہمارے ان اہل خانہ کے بارے میں پوچھا جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، ان میں رہو اور انہیں (دین) سکھاؤ اور (نیکی کا) حکم دو۔ دیکھو یہ نماز فلاں وقت اور یہ نماز فلاں وقت پڑھنا۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو ایک شخص تم میں سے اذان دے اور جو تم میں سے بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔ امام بخاری کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ ”اور نماز اسی طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے“۔ یہ عام الوفود یعنی ہجرت کے نویں سال کا واقعہ ہے۔ یہ سب لوگ نوجوان تھے اور نبی ﷺ کے پاس انہوں نے بیس راتوں تک قیام کیا۔ یہ لوگ اللہ کے دین کو سمجھنے کے لیے آئے تھے۔ مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”آپ ﷺ بہت رحم دل اور نرم خو تھے۔ آپ ﷺ کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آ رہے ہیں“۔ یعنی ہمارا ان سے ملنے کو دل چاہ رہا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ہم سے ہمارے ان اہل خانہ کے بارے میں پوچھا جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، ان میں رہو اور انہیں (دین) سکھاؤ اور (نیکی کا) حکم دو اور فلاں نماز کو اس وقت پڑھو اور فلاں نماز کو اس وقت پڑھو۔ اورجب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے۔ امام بخاری کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ تم اسی طرح نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے‘‘۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ رحم دلی و نرمی میں مشہور تھے۔ آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ سب لوگوں سے بڑھ کر رحم دل تھے اور سب سے زیادہ نرم خوئی سے پیش آتے تھے۔ آپ ﷺ رحیم بھی تھے اور شفیق بھی۔ آپ ﷺ نے جب یہ دیکھا کہ ان لوگوں کو اپنے گھر والے یاد آ رہے ہیں تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ وہ اپنے پیچھے کن لوگوں کو چھوڑ کر آئے ہیں؟ انہوں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جائیں۔ ”اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے“۔ یہ امامت کے لیے بڑے کو مقدم کرنے کی دلیل ہے۔ یہ بات نبی ﷺ کے اس فرمان کے منافی نہیں ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ: لوگوں کو وہ شخص امامت کرائے جو سب سے زیادہ قرآن کا قاری ہو۔ کیونکہ یہ سب نوجوان ایک ہی وقت میں آئے تھے اور ظاہر ہے کہ قرأتِ قرآن کے لحاظ سے ان کے مابین کوئی واضح فرق نہیں تھا اور اس معاملے میں وہ ایک دوسرے کے قریب قریب ہی تھے۔ ان میں سے کوئی بھی دوسرے سے زیادہ قرآن کا قاری نہیں تھا۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرائے“۔ کیونکہ قرأت کے معاملے میں وہ سب برابر یا قریب قریب تھے۔ جب یہ لوگ قرأت، سنت اور ہجرت کے معاملے میں برابر ہو گئے تو پھر امامت کا حق بڑے کا ہو گا اور وہ اسے ہی مقدم کریں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز ویسے پڑھو جیسے تم میں نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے“۔ یہ اس نبوی طریقۂ کار کی تاکید ہے کہ آپ ﷺ قول و فعل دونوں کے ذریعے تعلیم دیا کرتے تھے۔ جس شخص نے سکون کے ساتھ نماز نہ پڑھی اسے آپ ﷺ نے یہ فرما کر تعلیم دی کہ ”جب نماز کے لیے تمہارا کھڑا ہونے کا ارادہ ہو تو اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ ہوجاؤ اور پھر قرآن کا جو بھی حصہ چاہو اسے پڑھو اور پھر رکوع کرو...الخ“۔ جب کہ ان نوجوانوں کو آپ ﷺ نے فعل (عمل) کے ذریعے تعلیم دی۔
حوالہ
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي- بيروت - بدون تاريخ.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب - الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا - الطبعة الأولى 1430هـ.
شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما عَنِ النَّبيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: «إذا اسْتَأذَنَت أَحَدَكُم امرَأَتُه إلى المسجِد فَلا يَمنَعهَا، قال: فقال بلال بن عبد الله: والله لَنَمنَعُهُنَّ، قال: فَأَقبَلَ عليه عبد الله، فَسَبَّهُ سَبًّا سَيِّئًا، ما سَمِعتُه سَبَّهُ مِثلَهُ قَطُّ، وقال: أُخبِرُك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وتقول: والله لَنَمنَعُهُنَّ؟».
وفي لفظ: «لا تَمنَعُوا إِمَاء الله مسَاجِد الله...».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی سے اس کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے نہ روکے“۔ (سالم نے) کہا: بلال بن عبد اللہ نے کہا: اللہ کی قسم ہم تو انھيں ضرور روکیں گے، (راوی حدیث) کہتے ہیں: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی طرف رخ کیا اور بلال کو سخت برا بھلا کہا، میں نے انہیں کبھی (کسی کو) اتنا برا بھلا کہتے نہیں سنا، اور فرمايا: ميں تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان بتا رہا ہوں اور تم کہتے ہو: اللہ کی قسم! ہم انھيں ضرور روکیں گے؟
ايک دوسری روايت ميں یہ الفاظ آئے ہیں: ”اللہ کی بنديوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو...“
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔درجہصحیح
تشریح
ابن عمر رضي اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: جب تم ميں سے کسی کی بيوی مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے، تاکہ وہ مسجد میں جماعت کی فضيلت سے محروم نہ رہے۔ اس حديث ميں عورت کے نماز کے لیے مسجد جانے کے جواز کا ثبوت ہے، اس حدیث کو بیان کرتے وقت اسی مجلس ميں عبد اللہ بن عمر کے صاحب زادے بلال بھی موجود تھے انھوں نے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے بڑھ کرعورتوں کی زيب و زينت میں توسّع کو دیکھ کر ان کی عصمت وعفت کی حفاظت کے پیش نظر - شارع پراعتراض کا قصد کئے بغیر- فرمایا: "اللہ کی قسم ہم انھيں ضرور منع کریں گے."، اس بات کو سن کر ان کے والد ابن عمر نے سمجھا کہ وہ اس تردید کے ذریعہ سنتِ رسول پر اعتراض کر رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ اللہ اور اس کے رسول کى خاطر بہت ناراض ہوئے اور انھيں بہت ہی برا بھلا کہا۔ اور فرمايا: ميں اللہ کے رسول صلی عليہ وسلم کی حديث بيان کر رہا ہوں اور تم کہہ رہے ہو کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے؟
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام، لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «صلاة الرجل في جماعة تَضعُفُ على صلاته في بيته وفِي سُوقِه خمسا وعشرين ضِعفًا، وذلك: أَنَّه إِذَا تَوَضَّأ، فَأَحسَن الوُضُوء، ثمَّ خرج إلى المسجد لاَ يُخرِجُهُ إلاَّ الصلاة؛ لَم يَخْطُ خُطوَةً إِلاَّ رُفِعَت له بِها درجة، وَحُطَّ عَنهُ بها خطيئة، فإذا صلَّى لم تزل الملائكة تُصَلِّي عليه، ما دام في مُصَلاَّه: اللهُمَّ صَلِّ عليه، اللهم اغفِر له، اللهم ارْحَمه، ولا يزال في صلاة ما انتظر الصلاة».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز، گھر یا بازار میں پڑھی جانے والی نماز سے پچیس درجہ بہتر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص وضو کے تمام آداب کو ملحوظ رکھ کر اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی راہ لیتا ہے اور سوائے نماز کے اور کوئی دوسرا ارادہ اس کا نہیں ہوتا، تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بڑھتا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا جاتا ہے۔ وہ جب نماز سے فارغ ہو جاتا ہے، تو فرشتے اس وقت تک اس کے لیے برابر دعائیں کرتے رہتے ہیں، جب تک وہ نماز کی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے۔ فرشتے دعا کرتے ہیں: اے اللہ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما، اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ جب تک آدمی نماز کے انتظار میں رہتا ہے، تب تک وہ گویا نماز ہی میں ہوتا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے بتایا کہ آدمی کی جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کا اجر و ثواب اپنےگھر یا بازار میں پڑھی جانے والی نماز سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس سے مراد تنہا پڑھی جانے والی نماز ہے، جیسا کہ اس کے مقابلے میں باجماعت نماز کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے؛ کیوںکہ آدمی گھر یا بازار میں زیادہ تر تنہا ہی نماز پڑھتا ہے۔ ثواب پچیس گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ آپ ﷺ کے فرمان: ”وذلك“۔ میں مشار الیہ اگر نماز باجماعت کی تنہا شخص کی نماز پر فضیلت ہے، تو اس کی رو سے یہ فضیلت مسجد کی جماعت کے ساتھ خاص ہو گی۔ آپ ﷺ کے فرمان: ”أنه“۔ میں ضمیر یا تو ضمیر شان ہے یا مراد یہ ہے کہ وہ شخص جب اچھی طرح سے وضو کرتا ہے، یعنی سنن و آداب کو پورا کرتے ہوئے کامل طریقے سے وضو کرتا ہے، پھر نکل کر مسجد کی طرف چل پڑتا ہے اور نماز کے علاوہ اس کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا، تو ہر اٹھائے جانے والے قدم پر اس کا ایک درجہ بلند اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے۔ یعنی ان صغیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی اور غرض سے نکلا ہو یا پھر نماز کے ساتھ ساتھ اس کا کوئی اور بھی ارادہ ہو، تو اس صورت میں اسے یہ ثواب نہیں ملتا۔ جب وہ نماز پڑھ لیتا ہے تو فرشتے اس کے لیے تب تک دعاے رحمت کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے برابر رحم اور مغفرت مانگتے رہتے ہیں، جب تک وہ اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے۔ یہ بھی احتما ل ہے کہ اس سے مراد اس جگہ موجود رہنا ہو، چاہے وہ لیٹا ہوا ہی کیوں نہ ہو، جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹ جائے۔ فرشتے کہتے ہیں:اے اللہ اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ نمازی جب تک نماز کے انتظار میں رہتا ہے، تب تک وہ گویا نماز میں ہی ہوتا ہے۔ یعنی نماز کے انتظار کی مدت نماز ہی میں شمار ہوتی ہے۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى، 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم-، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية، 1408هـ.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «صلاةُ الجَمَاعَة أَفضَلُ من صَلاَة الفَذِّ بِسَبعٍ وعِشرِين دَرَجَة».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جماعت کے ساتھ نماز اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ افضل ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ باجماعت پڑھی جانے والی نماز منفرد شخص کی نماز سے افضل ہے بایں طور کہ با جماعت نماز جس میں بہت زیادہ فوائد اور مصالح ہیں، ثواب کے لحاظ سے منفرد شخص کی نماز سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے کیونکہ حصول مقاصد و فوائد کے اعتبار سے دونوں عملوں میں بہت زیادہ تفاوت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جس نے اس عظیم نفع کو کھو دیا وہ محروم رہا۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية، 1408هـ.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
عن جابر رضي الله عنه قال: أراد بنو سلمة أن ينتقلوا للسكن قرب المسجد فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لهم: «إنه قد بلغني أنكم تُريدون أن تنتقلوا قُرب المسجد؟» فقالوا: نعم، يا رسول الله قد أردنا ذلك، فقال: «بَنِي سَلِمَة، دِيارَكُم، تُكتب آثارُكُم، ديارَكُم تُكتب آثاركُم».
وفي رواية: «إن بكلِّ خَطْوَة درجة».
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو سلمہ (قبیلہ) نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔ نبی کریم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو، تو انہوں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ہمارا ارادہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنوسلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو، تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں میں ہی رہو تہمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں“۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”تمہارے ہر قدم پر ایک درجہ ہے“۔
امام بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ بنو سلمہ نے مسجد سے دور اپنی جگہ سے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے ناپسند فرمایا تاکہ مدینہ خالی نہ ہو جاۓ جیسا کہ بخاری کی روایت میں ہے۔ اور آپ ﷺ کی یہ خواہش تھی کہ مدینے کو زیادہ سے زیادہ آباد کیا جاۓ تاکہ اس کی وسعت کے باعث منافقین اور مشرکین پر رعب قائم ہو۔
پھر آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو؟، تو انہوں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ! ہمارا ایسا ہی ارادہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنوسلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں“۔ آپ ﷺ نے یہ بات دو مرتبہ کہی۔ اور ان کو بتایا کہ تمہارے ہر قدم پر ایک نیکی یا درجہ ہے۔
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے سب سے زیادہ اجر کا حقدار وہ ہے جس کا گھر (مسجد سے) دور ہو۔ پوچھا گیا: وہ کیوں اے ابو ہُریرہ؟ تو فرمایا (مسجد تک چلنے والے) قدموں کی کثرت کے باعث۔ (مؤطا امام مالک)
پس جو مسجد سے جتنا دور ہوگا یہ اس کے لیے درجات میں بلندی اور گناہوں کے کفارے کا باعث ہو گا۔
یہ فضیلت اس وقت حاصل ہوگی جب کوئی شخص گھر میں اچھی طرح وضو کرے، پھر پیدل جاۓ سوار نہ ہو۔ پھر چاہے قدم تھوڑے ہوں یا زیادہ اس کے لیے ہر قدم پر دو چیزیں لکھی جائیں گی: اس کا ایک درجہ بڑھے گا اور ایک گناہ معاف ہوگا۔
نبی ﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے اور پھر نماز کے لیے جائے تو جب دایاں پاؤں اٹھاۓ گا تواللہ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا۔ اور جب بایاں پاؤں اٹھائے گا تو اللہ اس کا ایک گناہ معاف کر دے گا۔ پس جو قریب ہوسکے ہو جاۓ اور جو دور ہونا چاہے دور ہو جاۓ“۔ (ابو داود)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: آج رات میرا رب میرے پاس خوبصورت شکل میں آیا - راوی کا بیان ہے کہ میرا گمان ہے اس سے آپ ﷺ کی مراد نیند میں ہے- اور مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ کیا آپ کو یہ علم ہے کہ ملأ اعلی (بلند فرشتے) کس چیز میں تکرار کرتے ہیں؟ تو میں نے کہا ہاں، وہ کفارات اور درجات میں تکرار کر رہے ہیں! پوچھا یہ کفارات اور درجات کیا ہیں؟ کہا: کفارات اور درجات یہ ہیں کہ نماز کے بعد مسجد میں ہی ٹھہرنا اور باجماعت نماز کے لیے پیدل چلنا اور ناپسندیدگی کے باوجود مکمل طور سے وضو کرنا۔ (مسند احمد)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ درجات کا حصول چند باتوں پر منحصر ہے:
1۔ طہارت کے ساتھ مسجد جانا۔
2۔ ثواب کی نیت۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ (متفق علیہ)۔
3۔ گھر سے مسجد جانے ہی کے ارادے سے نکلنا۔
4۔ سواری کے بجاۓ پیدل جانا سواۓ ایسے شخص کے جسے کوئی عذر لاحق ہو۔
حوالہ
كنوز رياض الصالحين، أ. د. حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار، دار كنوز اشبيليا، الطبعة الأولى، 1430هـ.
بهجة الناظرين، الشيخ: سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الكتاب غير نازل في الشاملة وحملته من المكتبة الوقفية، ولم أجد بيانات غير ما ذكرنا.
نزهة المتقين، د. مصطفى سعيد الخن، د. مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى.
1397هـ - 1977م.
شرح رياض الصالحين، الشيخ: محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن للنشر، طبع عام 1426هـ.
رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428هـ - 2007م.
صحيح البخاري، محمد بن اسماعيل البخاري، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، المؤلف: مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.
شرح الزرقاني على موطأ الإمام مالك، المؤلف: محمد بن عبد الباقي بن يوسف الزرقاني، تحقيق: طه عبد الرءوف سعد، الناشر: مكتبة الثقافة الدينية - القاهرة، الطبعة: الأولى، 1424هـ - 2003م.
موطأ الإمام مالك، المؤلف: مالك بن أنس بن مالك الأصبحي، صححه ورقمه وخرج أحاديثه وعلق عليه: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت - لبنان، عام النشر: 1406هـ - 1985م.
سنن أبي داود، المؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث الأزدي، المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت.
صحيح أبي داود - الأم، المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت، الطبعة الأولى، 1423هـ - 2002م.
مسند الإمام أحمد بن حنبل، المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل الشيباني، المحقق: شعيب الأرناؤوط - عادل مرشد، وآخرون، إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1421هـ - 2001م.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "ایک آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اس کے گھر اور بازار میں نماز پڑھنے سے تیئیس گنا سے زائد افضل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص وضو کرتا ہے اور بالکل اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف آتا ہے اور نماز کے سوا اس کا کوئی محرک اور کوئی ارادہ نہیں ہوتا ہے، تو جتنے قدم اٹھاتا ہے، ہر قدم کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے اور ایک گناہ مٹادیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔ جب وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو گویا وہ تب تک برابر نماز ہی میں ہوتا ہے، جب تک نماز اس کو روکے رکھتی ہے۔ فرشتے تم میں سے ایک شخص کے لیے برابر دعائیں کرتے رہتے ہیں، جب تک وہ اس جگہ پر بیٹھا رہتا ہے، جہاں اس نے نماز پڑھی ہے۔ فرشتے کہتے ہیں: ”اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ اے اللہ! اس (کے گناہ) بخش دے۔ اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔ فرشتوں کی یہ دعائیں اس کے حق میں تب تک جاری رہتی ہیں، جب تک وہ وہاں ایذا نہیں دیتا، جب تک وہ بے وضو نہيں ہو جاتا۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب ایک مسلمان جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے، تو اس کی وہ نماز اس کی گھر یا بازار میں پڑھی ہوئی نماز سے تیئیس گنا سے زیادہ افضل شمار ہوتی ہے۔ پھر آپ نے اس کا سبب بیان فرمایا۔ آپ نے بتایا کہ جب انسان وضو کرتا ہے اور وضو مکمل طریقے سے اور اچھی طرح کرتا ہے، پھر مسجد کی جانب چل پڑتا ہے اور مقصد نماز کی ادائیگی کے علاوہ کچھ نہيں ہوتا، تو اس کے بدلے میں اس کا مقام ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ پھر جب مسجد میں داخل ہوتا ہے اور نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے، تو انتظار کے دوران اسے نماز کا اجر و ثواب ملتا رہتا ہے۔ ساتھ ہی فرشتے اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہتے ہیں، جب تک اس جگہ بیٹھا رہتا ہے، جہاں نماز پڑھی ہے۔ فرشتے کہتے ہیں: "اے اللہ! اسے بخش دے۔ اے اللہ اس پر رحم فرما۔ اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔" جب تک کہ اس کا وضو نہیں ٹوٹ جاتا‘ یا اس سے ایسی کوئی حرکت نہ سرزد ہوجاتی جس سے لوگوں کو یا فرشتوں کو تکلیف پہنچے۔
فوائد
اکیلے اپنے گھر یا بازار میں پڑھی گئی نماز بھی درست ہے۔ لیکن بلاعذر جماعت چھوڑنے کا گناہ ہوگا۔
مسجد کے اندر جماعت کے ساتھ پڑھی گئی نماز اکیلے پڑھی گئی نماز سے پچیس یا چھبیس یا ستائیس درجہ بہتر ہے۔
فرشتوں کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ مومنوں کے لیے دعا کریں۔
با وضو ہو کر مسجد جانے کی فضیلت۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 103) (477).
صحيح مسلم (1/ 459) (649).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 26).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 178).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 72).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص15).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 43).
المعجم الوسيط (1/ 60).
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے لہسن یا پیاز کھایا ہو، وہ ہم سے دور رہے - یا آپ ﷺ نے فرمایا : ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے"۔ آپ ﷺ کے پاس ایک ہانڈی لائی گئی، جس میں کچھ سبزیاں تھیں۔ آپ ﷺ کو ان کی بو آئی، تو ان کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ کو اس میں موجود سبزیوں کے بارے میں بتایا گیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : اسے میرے کسی صحابی کے قریب کر دو۔ در اصل وہ صحابی آپ کے ساتھ تھے۔ جب اس صحابی نے (جنہیں یہ سبزی دی گئی تھی) اسے دیکھا تو انہوں نے بھی اسے کھانے کو ناپسند کیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : "تم کھالو۔ کیوں کہ میں اس ذات سے مناجات کرتا ہوں، جس سے تم نہیں کرتے۔" مسلم کی ایک روایت میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے یہ سبزی یعنی لہسن کھائی ہو- ایک بار فرمایا : جس نے پیاز، لہسن یا گندنا کھائی ہو، وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ کیوں کہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے، جن سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے شخص کو، جس نے پیاز یا لہسن کھائی ہو، مسجد آنے سے منع فرمایا ہے، تاکہ ان دونوں چيزوں کی بد بو باجماعت نماز پڑھنے کے لیے مسجد آنے والے دوسرے بھائیوں کی اذیت کا باعث نہ بنے۔ یہ ممانعت دراصل مسجد آنے کی تنزیہی ممانعت ہے۔ ان دونوں چيزوں کو کھانے کی ممانعت نہيں۔ کیوں کہ ان دونوں چيزوں کا کھانا مباح ہے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سبزیوں کی ایک ہانڈی لائی گئی۔ لیکن جب آپ نے ان کے اندر بو محسوس کی اور بتایا گیا کہ اس میں کیا ہے، تو اسے خود کھانے کی بجائے اپنے ایک ساتھی کی جانب بڑھا دیا۔ جب انھوں نے آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، اسے کھانا پسند نہيں کیا، تو یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا : تم کھاؤ۔ مجھے کھانے سے گریز اس لیے ہے کہ میں وحی لے کر آنے والے فرشتوں سے بات کرتا ہوں۔
آپ نے بتایا کہ فرشتوں کو بھی بدبودار چیزوں سے اسی طرح تکلیف ہوتی ہے، جس طرح انسانوں کو ہوتی ہے۔
فوائد
اس شخص کو مسجد میں آنے سے منع کیا گیا ہے، جس نے لہسن، پیاز یا گندنا کھایا ہو۔
ان چیزوں کے حکم میں ان تمام بدبودار چیزوں کو رکھا جائے گا، جو نمازیوں کی اذیت کا سبب بنتی ہوں۔ جیسے سگریٹ اور تمباکو وغیرہ۔
ممانعت کا سبب بدبو ہے۔ اگر زیادہ پکانے وغیرہ کی وجہ سے بدبو دور ہو جائے، تو کراہت دور ہو جائے گی۔
جس شخص کو مسجد میں آکر نماز پڑھنا ہو اس کے لیے ان چیزوں کو کھانا مکروہ ہے، تاکہ مسجد میں نماز با جماعت فوت نہ ہو۔ البتہ اگر حاضر نہ ہونے کے لیے حیلہ کے طور پر یہ چیزیں کھائے، تو اس کے حق میں ان چیزوں کا کھانا حرام ہوگا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان چیزوں کو کھانے سے گریز اس لیے نہیں کرتے تھے کہ یہ چیزیں حرام ہيں۔ گریز اس لیے کرتے تھے کہ آپ جبریل علیہ السلام سے بات کیا کرتے تھے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمدہ طرز تعلیم کہ آپ نے حکم کے ساتھ اس کی وجہ بھی بیان فرمائی، تاکہ حکمت سمجھ کر مخاطب کے اندر اطمینان پیدا ہوجائے۔
قاضی کہتے ہيں : علما نے نماز پڑھنے کی دیگر جگہوں، جیسے عیدگاہ اور جنازہ گاہ وغیرہ جیسی عبادت کی اجتماعی جگہوں کو بھی اسی پر قیاس کیا ہے۔ اسی طرح علم، ذکر اور ولیمے کی مجلسوں کو بھی اسی پر قیاس کیا جائے گا۔ لیکن بازاروں وغیرہ کو نہيں۔
علما نے کہا : یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ لہسن وغیرہ کھانے والے کو خالی مسجد میں داخل ہونے سے بھی روکا جائے گا۔ کیوں کہ مسجد میں فرشتے رہتے ہیں۔ ساتھ ہی عموم حدیث کا تقاضہ بھی یہی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 170) (855).
صحيح مسلم (1/ 394) (564)، (1/ 395) (564).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص204).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 260).
تاج العروس من جواهر القاموس، للزَّبيدي (5/ 332).
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت مسجد جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ضیافت تیارکرتا ہے، جب بھی وہ صبح یا شام کے وقت مسجد جاتاہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عبادت، طلب علم یا اس طرح کے کسی دوسرے نیک مقصد کی خاطر کسی بھی وقت، دن کے پہلے حصے میں ہو یا آخری حصے میں، مسجد آنے والے کو خوش خبری دی ہے کہ وہ رات یا دن کے وقت جب بھی مسجد آتا ہے، تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں جگہ اور ضیافت تیار کر دیتا ہے۔
فوائد
مسجد جانے کی فضیلت اور وہاں پابندی سے فرض نماز پڑھنے کی ترغیب۔ مسجدوں سے دور رہنے والا شخص بے شمار بھلائیوں، فضیلتوں، اجر و ثواب اور اللہ تعالی کی جانب سے تیار کردہ ضیافت سے محروم رہ جاتا ہے۔
جب لوگ اپنے گھر میں اپنے یہاں آنے والے کی خاطر تواضع کرتے ہیں اور اسے کھانا پیش کرتے ہیں، تو اللہ تباک و تعالی تو اپنے بندوں سے کہيں زیادہ نوازنے والا اور عزت افزائی کرنے والا ہے۔ وہ بھی اپنے گھر میں آنے والے کی عزت افزائی کرتا ہے اور اس کی خوب ضیافت کرتا ہے۔
مسجد جانا ایک خوش آئند اور قابل رشک کام ہے۔ کیوں کہ انسان جتنی بار مسجد جاتا ہے، اتنی بار اس کے لیے ضیافت کا سامان تیار ہوتا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 133) (662).
صحيح مسلم (1/ 463) (669).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 153).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 166).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 204).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com