اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک دن فجر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد پوچھا کہ کیا ہماری اس نماز میں فلاں شخص موجود ہے؟ صحابہ نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر آپ نے دوسرے شخص کے بارے میں پوچھا کہ کیا فلاں شخص موجود ہے؟ صحابہ نے اس بار بھی نہیں میں جواب دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بلاشبہ فجر اور عشا کی نمازیں منافقوں پر سب سے بھاری ہیں، کیوں کہ ان دونوں اوقات میں سستی کا غلبہ رہتا ہے اور ریاکاری کا امکان کم ہو جاتا ہے کہ تاریکی کی وجہ سے کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ اے مومنو! اگر تم جان لو کہ صبح اور عشا کی نماز میں کتنا اضافی اجر و ثواب ہے، (کیوں کہ اجر و ثواب مشقت کے بہ قدر ملا کرتا ہے) تو تم ان دونوں نمازوں میں ضرور پہنچوگے۔ چاہے گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل چل کر ہی کیوں نہ پہنچنا پڑے۔ بلاشبہ پہلی صف اس میں کھڑے لوگوں کے امام سے قریب ہونے کے لحاظ سے فرشتوں کی صف کی مانند ہے اللہ سے قریب ہونے کے لحاظ سے۔ اگر ایمان والے پہلی صف کی فضیلت سے واقف ہو جائيں، تو اس میں کھڑے ہونے کے لیے مقابلہ آرائی کرنے لگيں۔ بلاشبہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے اور دو شخص کے ساتھ نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ جس نماز میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہو، وہ اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور افضل ہے۔
- مسجد کے امام کا مقتدیوں کے حالات کا جائزہ لینا اور جو مصلی غائب ہوں، ان کے بارے میں دریافت کرنا جائز ہے۔
- نماز باجماعت کا اہتمام بطور خاص عشا اور فجر کی نماز کا باجماعت التزام کرنا ایمان کی علامت ہے۔
- حدیث سے عشا اور فجر کی نماز کے عظیم اجر وثواب کا پتہ چلتا ہے، کیوں کہ ان نمازوں میں حاضر ہونے کا تقاضا ہے کہ نفس کے ساتھ مجاہدہ کیا جائے اور اطاعت پر صبر کیا جائے، اس لیے ان نمازوں کا اجر دیگر نمازوں سے زیادہ ہے۔
- باجماعت نماز دو یا دو سے زیادہ لوگوں سے منعقد ہوتی ہے۔
- پہلی صف کی فضیلت کا بیان اور آگے بڑھ کر اس میں شامل ہونے کی ترغیب۔
- اس حدیث سے جماعت میں کثیر تعداد کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیوں کہ لوگ جتنے زیادہ ہوں گے، اتنا ہی زیادہ جماعت کا اجر و ثواب ملے گا۔
- حالات کے پیش نظر اور شریعت کے اہمیت دینے کے اعتیار سے صالح اعمال فضیلت میں باہم متفاوت ہوتے ہیں۔
سنن أبي داود (1/ 415) (554). سنن النسائي (2/ 104) (843). مسند أحمد (35/ 188) (21265). شرح الطيبي على مشكاة المصابيح، لشرف الدين الطيبي (4/ 1132). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (3/ 838). سبل السلام شرح بلوغ المرام، للصنعاني (1/ 360 ). شرح سنن أبي داود، لعبد المحسن العباد (40/ 11).