عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتِمُّوا الصَّفَّ المُقَدَّمَ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ، فَمَا كَانَ مِنْ نَقْصٍ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ المُؤَخَّرِ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم اگلی صف پوری کرو، اس کے بعد جو اس سے متصل ہے اور جو کمی ہو وہ پچھلی صف میں ہو۔‘‘
رواه أبو داود والنسائيدرجہصحيح
تشریح
نبی ﷺ نے جماعت سے نماز پڑھنے والے مردوں کو حکم دیا کہ وہ پہلی صف مکمل کریں، پھر اس کے بعد والی صف، اور اسی طرح (باقی صفیں بھی)۔ چنانچہ اگر کسی صف میں کوئی کمی ہو تو یہ کمی آخری صف میں ہونی چاہیے۔
فوائد
- صفیں برابر کرنے سے متعلق سنت کا بیان۔
- نمازیوں کو چاہیے کہ وہ اگلی صفوں میں کمی نہ چھوڑیں، بلکہ کمی پچھلی صف میں ہو۔
حوالہ
سنن أبي داود (2/ 10) (671). سنن النسائي (2/ 93) (818). شرح سنن أبي داود للعباد (89/ 25).