عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلَّى اللَّهُ عليْه وسلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إلَّا المَكْتُوبَةُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو پھر فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔‘‘
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
نبی ﷺ نے مسجد میں موجود شخص کو فرض نماز کی اقامت کے بعد نفلی نماز شروع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
فوائد
- جب فرض نماز کی اقامت کہی جائے تو نفل نماز پڑھنے کی ممانعت، جبکہ وہ مسجد میں ہو۔
- نماز کی اقامت کے بعد نفل نماز شروع کرنے کی ممانعت، خواہ وہ سنتِ راتبہ ہو جیسے فجر اور ظہر کی سنتیں یا کوئی اور نفل۔
- اگر نفل نماز کے دوران جماعت کھڑی ہو جائے؛ تو اگر ایک رکعت سے کم باقی ہو تو اسے تخفیف کے ساتھ پوری کر لے، ورنہ نماز توڑ دے تاکہ تکبیر تحریمہ کی فضیلت حاصل کر سکے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 493) (710). البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (15/ 246).