سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نماز کی فرضیت اور اسے چھوڑنے والے کا حکم

10 احادیث

نبی کریم ﷺ کے پاس اس آدمی کا ذکر کيا گيا جو رات کو سویا اور صبح ہونے تک سویا رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایسا آدمى ہے کہ شیطان نے پیشاب کر دیا اس کے دونوں کانوں میں، یا فرمایا: جس کے کان میں“۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بنِ مسعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَهُ حَتَّى أَصْبَحَ، قَالَ: «ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ، أَوْ قَالَ: فِي أُذُنِهِ».
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس اس آدمی کا ذکر کيا گيا جو رات کو سویا اور صبح ہونے تک سویا رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایسا آدمى ہے کہ شیطان نے پیشاب کر دیا اس کے دونوں کانوں میں، یا فرمایا: جس کے کان میں“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا کہ وہ سورج نکلنے تک سویا رہا اور فرض نماز کے لیے اٹھا ہی نہیں۔ تو آپ نے فرمایا: بے شک وہ ایسا شخص ہے کہ شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا۔

فوائد
  1. قیام الليل كو ترک کرنا مکروہ ہے اور یہ شیطان کے سبب ہوتا ہے۔
  2. شیطان سے خبردار رہنا چاہیے، جو انسان کے ہر راستے میں بیٹھ کر اسے اللہ کی اطاعت سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔
  3. ابن حجر کہتے ہیں: حدیث کے الفاظ "ما قام الی الصلاۃ" سے مراد جنس ہے۔ ویسے اس بات کا بھی احتمال ہے کہ الف لام عہد ذہنی کے ہوں اور مراد رات کی نماز یا فرض نماز ہو۔
  4. طیبی کہتے ہیں: یہاں بطور خاص کان کا ذکر نیند کی گہرائی کی جانب اشارہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے، اگرچہ نیند کی مناسبت سے آنکھ کا ذکر زیادہ مناسب تھا۔ کیوں کہ کان آگاہی کا ذریعہ ہے۔ پھر بطور خاص پیشاب کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ آسانی سے پیٹ کے اندر داخل ہو جاتا ہے، رگوں میں تیزی سے سرایت کر جاتا ہے اور تمام اعضا کو سست بنا دیتا ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 122) (3270). صحيح مسلم (1/ 537) (774). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 328). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 834). فتح الباري شرح صحيح البخاري، لأحمد العسقلاني (3/ 28). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 193). المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، النووي (6/ 64).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو، جب ان کی عمر سات سال ہو جائے اور انھیں اس کے لیے مارو، جب ان کی عمر دس سال ہو جائے اور ان کے بستر الگ الگ کر دو۔

عن عمرو بن شُعيب عن أبيه عن جدِّه قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: «مُرُوا أولادكمِ بالصلاةِ وهم أبناءُ سبعِ سِنينَ، واضرِبوهم عليها وهم أبناءُ عَشرٍ، وفرِّقوا بينهم في المَضاجِعِ».
عمرو بن شعیب اپنے والد کے توسط سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو، جب ان کی عمر سات سال ہو جائے اور انھیں اس کے لیے مارو، جب ان کی عمر دس سال ہو جائے اور ان کے بستر الگ الگ کر دو۔"
رواه أبو داوددرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیان فرما رہے ہیں کہ والد کی ذمے داری ہے کہ اس کے بچے اور بچیاں جب سات سال کے ہو جائيں، تو ان کو نماز پڑھنے کا حکم دے اور نماز قائم کرنے سے متعلق ضروری باتیں سکھائے۔ پھر جب دس سال کے ہو جائيں تو صرف حکم دینے پر اکتفا نہ کرے۔ بلکہ نماز میں کوتاہی کرنے پر مارے اور ان کا بستر الگ کر دے۔

فوائد
  1. بچوں کو بالغ ہونے سے پہلے ہی دینی باتیں سکھا دی جائيں، جن میں ایک اہم ترین چيز نماز ہے۔
  2. مار ادب سکھانے کے لیے ہونی چاہیے۔ عذاب دینے کے لیے نہيں۔ مارتے وقت بچے کی حالت کا خیال رکھا جائے۔
  3. شریعت نے عزت کے تحفظ اور بگاڑ کے تمام راستوں کو مسدود کرنے پر توجہ دی ہے۔
حوالہ

سنن أبي داود (1/ 367) (495، 496). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 299). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 382).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا عمل ضا‏ئع ہو گیا۔

عن بريدة بن الحصيب رضي الله عنه أنه قال: بَكِّرُوا بِصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ».
بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "عصر کی نماز جلدی پڑھا کرو۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا عمل ضا‏ئع ہو گیا۔"
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جان بوجھ کر عصر کی نماز کو وقت سے مؤخر کرنے سے منع کیا ہے اور بتایا ہے کہ جس نے ایسا کیا، اس کا عمل ضا‏ئع ہو جائے گا۔

فوائد
  1. اول وقت میں عصر کی نماز پڑھنے کی ترغیب۔
  2. عصر کی نماز چھوڑنے والے کے لیے بڑی سخت وعید آئی ہے۔ اس نماز کو وقت پر نہ بڑھنا دیگر نمازوں کو وقت پر نہ پڑھنے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ کیوں کہ یہ وہی درمیانی نماز ہے، جس کے بارے میں خصوصی حکم اللہ تعالی کے اس قول میں دیا گیا ہے : "نمازوں کی حفاﻇت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی۔" [سورہ بقرہ : 238]
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 115) (553). مسند أحمد (38/ 152) (23045). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 56). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (2/ 777). فيض القدير شرح الجامع الصغير (3/ 206). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 260). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص614).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے

عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ عُمَر رضي الله عنهما قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسلام کو پانچ ارکان پر کھڑی ایک عمارت کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اسلام کے باقی کام اس عمارت کے تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان پانچ ارکان میں سے پہلا رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لا‏ئق نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ یہ دونوں گواہیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ایک ہی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بندہ ان کو اپنی زبان سے، اللہ کے ایک ہونے اور بس اسی کے عبادت کا حق دار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے، ان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے اور آپ کا اتباع کرتے ہوئے، ادا کرے گا۔ دوسرا رکن نماز قائم کرنا ہے۔ دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں ہيں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ ان پانچ نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔ تیسرا رکن فرض زکاۃ دینا ہے۔ دراصل زکاۃ ایک مالی عبادت ہے، جو شریعت کی جانب سے مال کی ایک متعینہ مقدار پر واجب ہوتی ہے اور جسے اس کے حق داروں کو دیا جاتا ہے۔ چوتھا رکن حج ہے۔ حج در اصل اللہ کی عبادت کے طور پر مناسک کی ادائیگی کے لیے مکہ کا قصد کرنے کا نام ہے۔ پانچواں رکن رمضان مہینے کے روزے رکھنا ہے۔ روزہ نام ہے کھانے، پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چیزوں سے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کی عبادت کی نیت سے رکے رہنے کا۔

فوائد
  1. دونوں گواہیاں ایک دوسرے کے ساتھ لازمی طور پر جڑی ہوئی ہيں۔ ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا جائے، تو دوسری صحیح نہیں ہوگی۔ اسی لیے دونوں کو ایک رکن بنایا گیا ہے۔
  2. یہ دونوں گواہیاں دین کی بنیاد ہیں۔ ان کے بغیر کوئی قول اور عمل قبول نہیں ہوگا۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 11) (8)، صحيح مسلم (1/ 45) (16)، و(1/ 88) (82)، فتح الباري لابن رجب (1/ 22)، جامع العلوم والحكم (1/147)، شرح الأربعين لابن العطّار (ص 62)، شرح الأربعين النووية لعبد الكريم الخضير (ص 87)، فتح القوي المتين في شرح الأربعين للعباد (ص 29)، شرح الأربعين النووية لصالح آل الشيخ (ص 91 - 95)، التحفة الربانية لإسماعيل الأنصاري (ص 12).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے اور قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں۔

عن أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رضي الله عنه قال: بينما نحن جلوس مع النبي صلى الله عليه وسلم في المسجد دخل رجل على جمل، فأناخه في المسجد ثم عقله، ثم قال لهم: أيكم محمد؟ والنبي صلى الله عليه وسلم متكئ بين ظهرانيهم، فقلنا: هذا الرجل الأبيض المتكئ. فقال له الرجل: يا ابن عبد المطلب فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: «قد أجبتك». فقال الرجل للنبي صلى الله عليه وسلم: إني سائلك فمشدد عليك في المسألة، فلا تجد علي في نفسك؟ فقال: «سل عما بدا لك» فقال: أسألك بربك ورب من قبلك، آلله أرسلك إلى الناس كلهم؟ فقال: «اللهم نعم». قال: أنشدك بالله، آلله أمرك أن نصلي الصلوات الخمس في اليوم والليلة؟ قال: «اللهم نعم». قال: أنشدك بالله، آلله أمرك أن نصوم هذا الشهر من السنة؟ قال: «اللهم نعم». قال: أنشدك بالله، آلله أمرك أن تأخذ هذه الصدقة من أغنيائنا فتقسمها على فقرائنا؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «اللهم نعم». فقال الرجل: آمنت بما جئت به، وأنا رسول من ورائي من قومي، وأنا ضمام بن ثعلبة أخو بني سعد بن بكر.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک مرتبہ ہم مسجد میں نبیﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک اونٹ سوار آیا اور اپنے اونٹ کو مسجد میں بٹھا کر باندھ دیا۔ پھر پوچھنے لگا: تم میں محمد (ﷺ) کون ہیں؟ نبی ﷺ اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: یہ سفید رنگ والے تکیہ لگائے بیٹھے شخص۔ چنانچہ وہ آپ سے کہنے لگا: اے فرزند عبدالمطلب! نبیﷺ نے فرمایا: ’’(پوچھ) میں تجھے جواب دیتا ہوں۔‘‘ اس نے نبیﷺ سے کہا: میں آپ سے کچھ دریافت کرنے والا ہوں اور اس میں سختی کروں گا، آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’(کوئی بات نہیں) جو چاہے پوچھ!‘‘ اس نے پوچھا: میں آپ کو آپ کے پروردگار اور آپ سے پہلے لوگوں کے مالک کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر اس نے پوچھا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ شاہد ہے۔‘‘ پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے سال بھر میں رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر کہنے لگا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے امیروں سے صدقہ لے کر ہمارے غریبوں پر تقسیم کریں؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ شخص کہنے لگا: میں اس (شریعت) پر ایمان لاتا ہوں جو آپ لائے ہیں۔ میں اپنی قوم کا نمائندہ بن کر حاضر خدمت ہوا ہوں۔ میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے اور قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دریں اثنا کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص اونٹ پر سوار ہوکر داخل ہوا اور اونٹ کو بٹھاکر باندھ دیا۔ پھر صحابۂ کرام سے دریافت کیا: تم میں محمد کون ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: یہ سفید رنگ والے شخص جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ آپ سے اس شخص نے عرض کیا: اے عبد المطلب کے فرزند! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے کہا: میں نے تمہاری بات سن لی۔ سوال کرو میں جواب دوں گا۔ اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں آپ سے کچھ سوالات کرنے والا ہوں اور سوال کرنے میں سخت لہجہ اختیار کروں گا۔ اس لیے آپ دل میں مجھ سے ناراض نہ ہوں۔ یعنی آپ مجھ پر غصہ نہ کریں اور نہ میرے سوال سے تنگ ہوں۔ آپ نے عرض کیا: جو چاہے پوچھو۔ اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے رب اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا ہے؟ آپ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر اس نے پوچھا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ یعنی فرض نمازیں۔ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ شاہد ہے۔‘‘ پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے سال بھر میں رمضان مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر کہنے لگا: میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے امیروں سے صدقہ لے کر ہمارے فقیروں پر تقسیم کریں؟ یعنی زکاۃ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ ضمام نے بالآخر اسلام قبول کر لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیں گے۔ پھر اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضمام بن ثعلبہ ہیں اور قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتے ہیں۔

فوائد
  1. اس حدیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تواضع معلوم ہوتا ہے، کیوں کہ وہ شخص آپ (کی سادگی کے سبب) آپ کے درمیان اور صحابہ کے درمیان تفریق نہیں کر سکا۔
  2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلاق، سائل کا جواب دینے میں آپ کی نرمی وشفقت اور یہ پیغام کہ جواب دینے کا طریقہ اگر اچھا ہو تو یہ دعوت کی قبولیت کا سبب بنتا ہے۔
  3. سفید اور سرخ رنگ اور لمبے اور چھوٹے قد اور اس طرح کے دیگر ایسے اوصاف بیان کرکے انسان کی شناخت کرنا جائز ہے، جن سے عیب جوئی مقصود نہ ہو، بشرطے کہ ایسا اس انسان پر ناگوار نہ گزرے۔
  4. ضرورت کے پیش نظر کافر کا مسجد میں داخل ہونا جائز ہے۔
  5. اس حدیث میں حج کا ذکر نہیں آیا ہے، کیوں کہ ممکن ہے کہ اس وقت تک حج فرض نہ ہوا ہو۔
  6. صحابۂ کرام کے اندر لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کی شدید تڑپ پائی جاتی تھی۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ شخص اسلام لاتے ہی اپنی قوم کو دعوت دینے کی فکر کرنے لگا۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 23) (63)، صحيح مسلم (1/ 41) (12)، شرح ابن بطال (1/145)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (2/ 22).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص کسی نماز کو بھول جائے، تو وہ اسے اسی وقت پڑھ لے، جب یاد آ جائے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے

عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ: {وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي} [طه: 14]».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جو شخص کسی نماز کو بھول جائے، تو وہ اسے اسی وقت پڑھ لے، جب یاد آ جائے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ {وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي} [سورہ طہ : 14] (اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔)
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ جو شخص کسی نماز کو ادا کرنا بھول جائے اور اس کا وقت نکل جائے، تو اسے یاد آتے ہی فورا اس کی قضا کر لینی چاہیے۔ دراصل نماز کو وقت پر نہ پڑھنے کے گناہ کو مٹانے کا طریقہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کہ اسے یاد آتے ہی پڑھ لیا جائے۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک کے اندر فرمایا ہے : {وأقم الصلاة لذكري} [سورہ طہ : 14] یعنی بھولی ہوئی نماز کو اسی وقت پڑھ لو، جب یاد آ جائے۔

فوائد
  1. نماز کی اہمیت اور اس کی ادائيگی اور قضا میں سستی سے کام نہ لینے کا بیان۔
  2. بلا عذر جان بوجھ کر نماز کو مؤخر کرنا جائز نہيں ہے۔
  3. نماز کی قضا اسی وقت واجب ہے، جب بھولنے کی وجہ سے نماز چھوڑنے والے کو نماز یاد آ جائے اور سو جانے کی وجہ سے نماز چھوڑنے والا شخص جاگ جائے۔
  4. چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا فورا واجب ہے، چاہے ممنوعہ اوقات میں ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 122) (597)، صحيح مسلم (1/ 477) (684)، فتح الباري لابن حجر (2/ 71)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (14/ 612).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

''بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک کرنا ہے''۔

عن جابرٍ رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلَاةِ».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ''بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک کرنا ہے''۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرض نماز چھوڑنے سے خبردار کیا ہے اور بتایا ہے کہ انسان اور کفر و شرک میں پڑنے کے درمیان جو چیز حائل ہے، وہ ہے نماز چھوڑنا۔ نماز اسلام کا دوسرا رکن اور بہت ہی اہم فریضہ ہے۔ جس نے نماز کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے نماز چھوڑ دیا، وہ کافر ہوگیا، اس بات پر سارے مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اگر کسی نے سستی اور کاہلی کی وجہ سے بھی اسے پورے طور پر چھوڑ دیا، تو وہ بھی کافر ہے، اس بات پر صحابہ کا اجماع نقل کیا گيا ہے۔ لیکن اگر کبھی چھوڑ دے اور کبھی پڑھ لے، تو وہ اس سخت وعید کی زد میں ہوگا۔

فوائد
  1. نماز اور پابندی کے ساتھ اسے ادا کرنے کی اہمیت۔ نماز ہی کفر وایمان کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے۔
  2. نماز چھوڑنے اور اسے ضائع کرنے والے کے لیے سخت تنبیہ۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 88) (82)، المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (1/ 271)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (2/ 622).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان جو عہد و میثاق ہے، وہ نماز ہے۔ جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا“

عن بريدة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ».
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان جو عہد و میثاق ہے، وہ نماز ہے۔ جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا“
رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں و منافقوں کے درمیان جو عہد و میثاق ہے، وہ نماز ہے۔ جس نے نماز چھوڑ دی، اس نے کفر کیا۔

فوائد
  1. اس سے نماز کی عظمت شان واضح ہوتی ہے۔ یعنی نماز مومن اور کافر کے درمیان نشان امتیاز ہے۔
  2. احکامِ اسلام انسان کے باطن سے نہيں، بلکہ ظاہری حال سے ثابت ہوں گے۔
حوالہ

سنن النسائي (1/ 231) (463)، سنن الترمذي (4/ 365) (2621)، سنن ابن ماجه (2/ 181) (1079)، مسند أحمد (38/ 20) (22937)، فيض القدير (4/ 395)، ذخيرة العقبى في شرح المجتبى (6/ 192) (6/ 193).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
10 میں سے 8
10 احادیث
  1. نبی کریم ﷺ کے پاس اس آدمی کا ذکر کيا گيا جو رات کو سویا اور صبح ہونے تک سویا رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایسا آدمى ہے کہ شیطان نے پیشاب کر دیا اس کے دونوں کانوں میں، یا فرمایا: جس کے کان میں“۔
  2. اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو، جب ان کی عمر سات سال ہو جائے اور انھیں اس کے لیے مارو، جب ان کی عمر دس سال ہو جائے اور ان کے بستر الگ الگ کر دو۔
  3. جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا عمل ضا‏ئع ہو گیا۔
  4. ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
  5. میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے اور قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں۔
  6. جو شخص کسی نماز کو بھول جائے، تو وہ اسے اسی وقت پڑھ لے، جب یاد آ جائے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے
  7. ''بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک کرنا ہے''۔
  8. ”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان جو عہد و میثاق ہے، وہ نماز ہے۔ جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا“
  9. ’’جس نے ہماری نماز پڑھی، ہمارے قبلے کا استقبال کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا، تو وہی مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے، اس لیے اللہ کے ذمہ کو نہ توڑو۔‘‘
  10. ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com