سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جو شخص کسی نماز کو بھول جائے، تو وہ اسے اسی وقت پڑھ لے، جب یاد آ جائے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے

عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ: {وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي} [طه: 14]».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جو شخص کسی نماز کو بھول جائے، تو وہ اسے اسی وقت پڑھ لے، جب یاد آ جائے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ {وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي} [سورہ طہ : 14] (اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔)
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ جو شخص کسی نماز کو ادا کرنا بھول جائے اور اس کا وقت نکل جائے، تو اسے یاد آتے ہی فورا اس کی قضا کر لینی چاہیے۔ دراصل نماز کو وقت پر نہ پڑھنے کے گناہ کو مٹانے کا طریقہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کہ اسے یاد آتے ہی پڑھ لیا جائے۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک کے اندر فرمایا ہے : {وأقم الصلاة لذكري} [سورہ طہ : 14] یعنی بھولی ہوئی نماز کو اسی وقت پڑھ لو، جب یاد آ جائے۔

فوائد
  1. نماز کی اہمیت اور اس کی ادائيگی اور قضا میں سستی سے کام نہ لینے کا بیان۔
  2. بلا عذر جان بوجھ کر نماز کو مؤخر کرنا جائز نہيں ہے۔
  3. نماز کی قضا اسی وقت واجب ہے، جب بھولنے کی وجہ سے نماز چھوڑنے والے کو نماز یاد آ جائے اور سو جانے کی وجہ سے نماز چھوڑنے والا شخص جاگ جائے۔
  4. چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا فورا واجب ہے، چاہے ممنوعہ اوقات میں ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 122) (597)، صحيح مسلم (1/ 477) (684)، فتح الباري لابن حجر (2/ 71)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (14/ 612).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نماز کی فرضیت اور اسے چھوڑنے والے کا حکم

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com